امریکی جرنیلوں کے طرزعمل سے پہلے بھارتی جرنیلوں کی کہانی، پلوامہ کا واقعہ رونما ہو چکا تھا، بھارتی حکومت نے حسب معمول میڈیا کو اشارہ کر دیا کہ اس کا ذمہ دار پاکستان کو ثابت کیا جائے پس بھارتی میڈیا لٹھ لے کر پاکستان کے پیچھے پڑ گیا۔ بھارتی حکومت نے فوراً پاکستان کا نام لینے کیلئے تحقیقات کا ڈرامہ رچایا جو یکطرفہ تھیں پھر پاکستان پر اس کا الزام دھرنے کے بعد بدلہ لینے کا راگ شروع کیا۔ پاکستان میں سات شہروں کو میزائلوں اور ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ بے قصور شہریوں کی ایک بڑی تعداد جاں بحق ہو گئی۔معاملے پر مٹی ڈالنے کی کوششیں نظر آئیں لیکن یہ سب اتنا آسان نہ تھا۔ دنیا کی بہترین ائیرفورس کی ناک اور ساکھ کا معاملہ تھا لہٰذا پاکستان ائیرفورس نے معقول اور بھرپور جواب دیتے ہوئے پانچ بھارتی جہاز مار گرائے اور یوں نور خان بیس پر بھارتی میزائل اٹیک کا مؤثر جواب دیا اور دنیا بھر سے اپنی مہارت اور کارکردگی کی داد وصول کی۔ رہی سہی کسر بہتر ہوتے پاک امریکہ تعلقات نے پوری کر دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی ائیرفورس کو ننگا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
بھارتی وزیراعظم کے دل پر پاک فضائیہ نے جو زخم لگایا اس درد کا اظہار وہ عرصہ دراز تک کرتے نظر آئے۔ انہوں نے آپریشن سندور ٹو کا اعلان کیا اور بھارتی آرمی چیف، ائیرچیف اور نیول چیف کو ٹاسک دے دیا۔ جنہوں نے بھارتی وزیراعظم سے کچھ وقت مانگا پھر تیاری کیلئے مانگا گیا وقت طویل ہوتا گیا۔ بھارتی وزیراعظم اپنی افواج کے سربراہوں سے ملتے رہے۔ وہ ہر ملاقات کے بعد کسی بھی وقت پاکستان پر حملے کا اشارہ دیتے لیکن کچھ نہ ہوا پس پردہ کہانی یہ تھی کہ بھارتی سروسز چیفس نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ پلوامہ واقعہ بھارتی حکومت کے ناک کا مسئلہ تو ہو سکتا ہے بھارتی افواج کا نہیں، وہ خوب جانتے تھے بھارتی حکومت پاکستان پر حملہ کرنے کے بعد بعض بھارتی صوبوں میں ہونے والے انتخابات میں ان کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرے گی جبکہ اس کریڈٹ کی بھارتی افواج کو بہت بڑی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔ اس خیال کے تحت انہوں نے پہلے اپنے وزیراعظم سے تیاری کا وقت مانگا، ان کا مقصد تیاری کرنا نہیں بلکہ کچھ اور تھا۔ وہ اپنے وزیراعظم کو انکار کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے لہٰذا انہوں نے مودی کے زخم بھر جانے کے لئے وقت گزاری شروع کر دی۔ جب بھارتی حکومت اور میڈیا حالات کا جائزہ لے چکا اور جنگی بخار قدرے کم ہوا تو انہوں نے وزیراعظم نریندرا مودی سے ایک ملاقات میں صاف کہہ دیا کہ ہم پاکستان سے جنگ کی پوزیشن میں نہیں، اپنے جرنیلوں کا جواب سن کر مودی جی جُزبُز تو بہت ہوئے لیکن بھارتی جرنیلوں نے انہیں باور کرایا کہ جنگ میں ہونے والا جانی و مالی نقصان تو ایک طرف بھارت کو اس مختصر یا طویل جنگ میں سو گنا زیادہ اقتصادی نقصان ہو گا۔ پیداوار رک جائے گی ، سرمایہ دار ملک چھوڑ جائیں گے، برآمدات کے ہدف پورے نہ ہو سکیں گے، غیر ممالک سے بھارت آنے والا زرمبادلہ کم ہو جائے گا، چند روزہ یا چند ہفتوں کی جنگ بھارت کو کئی برس پیچھے لے جائے گی اور اگر پاکستان نے بھارتی علاقوں پر قبضہ کر لیا یا اس کے سو کے قریب طیارے مار گرائے تو بھارت کی طاقت کا بھرم کھل جائے گا لہٰذا بھرم کو بچانے کی کوشش کریں اور اپنی موجودہ کارکردگی کے زور پر ہی الیکشن میں جائیں۔ الیکشن کی اہمیت کم اور بھارت کی ایک بڑی طاقت، بڑی فوج اور بڑی ائیرفورس و بڑی نیوی کا بھرم زیادہ اہم ہے۔ نریندرا مودی کو یہ بھی سمجھایا گیا کہ بھارتی ائیرفورس کے حصے میں آئی ناکامی کا اثر دوسری افواج پر بھی پڑ سکتا ہے۔ جرنیلوں کے استدلال کے سامنے بھارتی وزیراعظم بے بس ہو گئے۔ چین، امریکہ، روس اور مسلمان ممالک بھی خطے میں جنگ نہ چاہتے تھے ، پس سر پر تیار کھڑی جنگ رک گئی۔ حقائق اس کے برعکس تھے۔ بھارتی افواج ہر لحاظ سے جنگ لڑنے کی پوزیشن میں تھیں۔ انہیں تیاری کے لئے وقت کی ضرورت بھی نہ تھی، البتہ مناسب موسم کا انتظار ضروری تھا لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ صرف پلوامہ واقعہ کو جواز بنا کر ایک بڑی جنگ لڑنا حماقت تھی۔ بھارتی جرنیلوں نے ایک بڑی جنگ کو ٹالنے میں دانشمندانہ کردار ادا کیا۔ اس جنگ بندی کا کریڈٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لیں، اپنے داماد کو دیں یا اپنی چہیتی بیگم کے دے دیں، اس سے حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے۔ امریکی صدر کے بارے میں آج دنیا بھر میں تاثر ہے کہ انہوں نے دروغ گوئی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔
اب بھارتی وزیراعظم کی جگہ ڈونلڈ ٹرمپ کو لے آئیں اور بھارتی جرنیلوں کی جگہ امریکی جرنیلوں کو رکھ لیں۔ حماقت اور دانش ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ حماقت بڑھ چڑھ کر حملے کر رہی ہے اور جنگ چاہتی ہے لیکن دانش بار بار اسے سمجھا رہی ہے کہ جنگ سے باز رہو، تم نے ویت نام ، افغانستان اور فلسطین میں جنگ چھیڑی۔ برسوں تک انسانوں اور انسانی وسائل کو جنگ کا ایندھن بنایا، نتیجہ ہر جنگ میں شکست کے سوا کچھ نہ نکلا۔ امریکہ کی طرف سے ایران پر حملے کے فیصلے سے قبل امریکی صدر اور ان کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل ڈینیل کین کی ملاقات بہت اہم تھی۔ جنرل کین نے جو کچھ امریکی صدر سے کہا امریکی صدر کہتے ہیں انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ وہ ہمارے ساتھ ہیں لیکن جنرل ڈینیل کین اور ڈونلڈ ٹرمپ کی اہم گفتگو ایک منصوبے کے تحت لیک کرائی گئی ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے غبارے میں کچھ زیادہ ہوا بھر گئے، وہ آسمان سے جا لگا، اب اس غبارے سے ہوا نکالنا مقصود تھا لہٰذا ڈینیل کین کی حقیقت پسندانہ سوچ کو سامنے لانا پڑا۔
ڈینیل کین نے اپنی ذمہ دار حیثیت میں ٹرمپ کو سمجھایا، موجودہ حالات میں یہ خودکشی کی طرف ایک قدم ہو گا۔ دنیا بھر میں رائے عامہ امریکہ کے خلاف ہو چکی ہے خصوصاً نکولس مادورو کے اغوا کے بعد امریکہ کی اخلاقی حالت صفر ہو چکی ہے۔ یوکرین اور غزہ اس کی میدان جنگ میں حالیہ بڑی ناکامیاں ہیں، اس کے قریب ترین اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ امریکی حملے کے لئے تمام مسلمان ممالک نے اپنے اڈے استعمال کرنے کی ممانعت کر دی ہے۔ جنگ شروع ہو گی تو تمام مسلمان ملک اپنے اختلافات بھلا کر ایران کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ روس اور چین ایران کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں گے۔ یورپی ممالک امریکی رویے سے دل برداشتہ ہیں۔ جنگ امریکی اکانومی کی کمر توڑ دے گی۔ اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا اور اصل قیامت اس وقت آئے گی جب رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای دنیا بھر میں موجود مسلمانوں کو جہاد کی کال دے دیں گے لہٰذا جنگ کو بھول جائیں اور جیرالڈ فورڈ کے ٹوائلٹ اور اپنی اقتصادیات کو کنٹرول کریں۔ پسپائی ہی دانشمندی ہے۔ جنرل ڈینیل کین کے مشورے کا اثر ان کے سٹیٹ آف یونین خطاب میں نظر آیا۔