اسلام آباد/ماسکو : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کے لیے پاکستان کا کردار تاریخی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دو روز کے دوران پاکستان کا دوسرا ہنگامی دورہ کیا، جس نے عالمی طاقتوں کی توجہ پاکستان کی ثالثی کی جانب مبذول کرا دی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے انتہائی اہم ملاقات کی۔واضح رہے کہ عباس عراقچی نے اس سے قبل ہفتہ کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے بھی تفصیلی ملاقات کی تھی، جس میں پاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھیجی جانے والی تجاویز کو حتمی شکل دی گئی۔ پاکستان کے اس مختصر لیکن انتہائی اہم دورے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ فوری طور پر روس پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ آج روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کر کے انہیں پاکستانی ثالثی میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر نے اپنے تازہ بیان میں ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی تعریفوں کے پل باندھ دیے ہیں۔ صدر کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بہت احترام کرتا ہوں، شہباز شریف اور فیلڈ مارشل بہت اچھے اور قابل لوگ ہیں، ان کی کوششوں سے ایران جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے۔
اسی دوران امریکی صدر نے ایک بار پھر اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ پاکستان نے فضائی معرکے میں بھارت کے 11 جنگی طیارے مار گرائے تھے۔ صدر کے مطابق پاکستان کی عسکری صلاحیتیں خطے میں طاقت کے توازن کے لیے ناگزیر ہیں۔