پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کا علاقہ ایک طویل عرصے سے سیکیورٹی خدشات اور خطرات کا مرکز رہا ہے، تاہم حالیہ ادوار میں سرحدی تنازعات کی شدت اور نوعیت میں ایک تشویشناک تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی سرحدی علاقوں پر آٹھ ڈرونز کے ذریعے حملوں کی رپورٹیں اور سرحد پار سے جاری دہشت گردی کے واقعات نے نہ صرف دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو انتہائی کشیدہ کر دیا ہے بلکہ خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر بھی گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ روایتی طور پر، پاک افغان سرحد پر جھڑپیں ہلکے ہتھیاروں یا آرٹلری کی گولہ باری تک محدود رہتی تھیں، لیکن ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال نے اس صورتحال کو اور زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔ افغان فورسز یا ان کی حدود سے چلائے جانے والے آٹھ ڈرون حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان کی سرحدی چوکیوں اور آبادیوں کو اب غیر روایتی اور جدید ترین خطرات کا سامنا ہے۔ اس نوعیت کے حملے پاکستان کی قومی سلامتی اور خود مختاری پر براہِ راست حملہ ہیں، جس کے جواب میں پاکستانی افواج کو چوکس رہنے اور فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت پیش آئی ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان کی جانب سے بھیجے گئے آٹھ ڈرونز کو دو حصو میں تقسم کر کے تباہ کر دیا ۔ چار ڈرونز کو طورخم بارڈر سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں اور دیگر چار کو کوہاٹ سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں تباہ کیا گیا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ افغانستان کہ جس کے پاس اپنی ڈھنگ کی کوئی ایئر لائن تک نہیں ہے جس کی ایئر فورس کے پاس چند بلیک ہاک(UH-60 BLACK HAWK) ہیلی کاپٹر اورایم آئی۔(MI-17)ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر اور کچھ دیگر ہلکے طیارے ہیں ۔ یہ ان کی کل فضائی طاقت ہے جو کہ امریکن حمایت یافتہ سابق افغان حکومت نے چھوڑے ہیں لیکن بین الاقوامی پابندیوں ، اسپیئر پارٹس کی کمی اور ماہر پائلٹس کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ بھی پوری طرح فعال نہیں ہیں تو ان کے پاس جدید ڈرونز اور ان کو آپریٹ کرنے والا عملہ کہاں سے آ گیا تو صاف پتا چل رہا ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان دشمن قوتیں کہ جن میں ہندوستان اور اسرائیل سر فہرست ہیں ان کی پشت پناہی اور مدد سے ہو رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہندوستان تو ہمارا ازلی دشمن ہے اور اسرائیل کی دشمنی بھی سمجھ میں آتی ہے لیکن پاکستان جن پر گذشتہ پچاس سال سے احسان کر رہا ہے اور کم و بیش چالیس سال تک دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی مہاجرین کی چالیس لاکھ کے قریب تعداد کی میزبانی بھی کی اور اس دوران ان کی وجہ سے پاکستان میں ہیروئن اور کلاشن کوف کلچر عام ہوا اور دہشت گردی کے عفریت نے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں لیکن احسان فراموشی کی حد ہے کہ آج وہی لوگ ہمارے دشمنوں کی گود میں بیٹھ کر ہمیں للکارنے کی جرأت کر رہے ہیں ۔
اس تنازع کی بنیادی وجہ افغانستان میں قائم دہشت گرد گروپوں، بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور فتنہ الہندوستان جو بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے ان کی پناہ گاہیں ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ موقف پیش کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے قائم ہونے کے بعد یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ سرحدی دہشت گردی پر قابو پا لیا جائے گا، لیکن واقعاتی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گرد گروپس اب بھی افغان سرزمین کا سہارا لے کر پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملے کر رہے ہیں۔ افغان فورسز کی جانب سے جارحانہ کارروائیاں ان عناصر کو مزید تحفظ فراہم کرتی ہیں، جس سے پاکستان کے داخلی امن کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
پاکستان نے ان حملوں پر سخت سفارتی اور ملٹری موقف اختیار کیا ہے۔ پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ملکی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی نام نہاد یا براہِ راست جارحیت کا من مانا اور موثر جواب دیا جائے گا۔ افواج پاکستان نے وطن عزیز کے تحفظ کی خاطر افغانستان میں جس جگہ سے ان ڈرونز کو آپریٹ کیا جا رہا تھا اور جہاں پر دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ تھے وہاں پر ٹارگٹڈ اسٹرائیک کر کے ان دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کر دیا جس میں28دہشت گرد واصل جہنم ہوئے ۔ پاکستان نے اب تک اپنے دفاع میں صرف دفاعی کارروائیاں کی ہیں اس لئے کہ پاکستان کو افغانستان کی عوام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن مسئلہ ان سے ہے کہ جو اب پاکستان کے ازلی دشمن ہندوستان کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کی وارداتیں کر کے پاکستان میں عدم استحکام پھیلانا چاہتے ہیں ۔ پاکستان متعدد بار افغان عبوری حکومت کو باور کرا چکا ہے کہ دوطرفہ تعلقات کی بہتری کے لیے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا بنیادی شرط ہے لیکن افغان حکومت پر اس کا رتی بھر بھی اثر نہیں ہوا ۔ افغان فورسز کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور سرحد پار سے جاری دہشت گردی نہ صرف پاکستان کے لیے سیکیورٹی کا چیلنج ہے بلکہ خود افغانستان کی پائیدار بقا اور ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ خطے میں امن قائم کرنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ افغان حکمران اپنی سرحدوں میں موجود شدت پسند عناصر کا خاتمہ کریں اور پاکستان کے ساتھ تعمیری و مثبت مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل کو حل کریں۔