Sat, September 26, 2026

وزیر اعظم کی پٹرولیم ریلیف سکیم

وزیر اعظم کی پٹرولیم ریلیف سکیم

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا بھر کی معیشتوں کو مشکل امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ محض پٹرول پمپ تک محدود مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اسکے اثرات معیشت کے ہر شعبے تک پہنچتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں، کاروباری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ بوجھ کم اور متوسط آمدن والے گھرانوں پر پڑتا ہے۔
وزیراعظم خصوصی فیول ریلیف اسکیم کا بنیادی تصور اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں عمومی یا بلینکٹ سبسڈی کے بجائے ہدفی ریلیف کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی، جبکہ ابتدائی ڈھانچے کے مطابق موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی سواریوں کیلئے ہفتہ وار 500 روپے اور 800 سی سی تک گاڑیوں کیلئے ہر دس دن بعد 1000 روپے تک ریلیف رکھا گیا۔ اس نظام کا مقصد بڑھتی ہوئی پٹرولیم قیمتوں کے اثرات سے کم آمدن والے طبقات کو براہِ راست تحفظ دینا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی یا چھوٹی گاڑی کو محض سواری سمجھنا زمینی حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ لاکھوں افراد کی یہی گاڑیاں انکے روزگار کا پہیہ ہیں۔ مزدور صبح اسی پر کام کی جگہ پہنچتا ہے، ڈیلیوری رائیڈر اسیکے ذریعے گھر کا چولہا جلاتا ہے، چھوٹا تاجر اسی سے بازار اور گاہک تک پہنچتا ہے، رکشہ ڈرائیور اسی کو اپنی روزی کا ذریعہ بناتا ہے اور کم تنخواہ دار ملازم اسی پر روزانہ دفتر یا دکان تک سفر کرتا ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے کا مطلب ایسے شخص کے لیے صرف چند روپے کا اضافی خرچ ہی نہیں بلکہ پورے گھریلو بجٹ کی ازسرنو تقسیم ہے۔
جب آمدن محدود ہو اور پٹرول کا خرچ بڑھ جائے تو عام خاندان خوراک، بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی گیس کے بل یا دیگر ضروریات میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ کم اور متوسط آمدن والا ایک بڑا طبقہ نہ تو مکمل طور پر غریب ترین طبقے میں شمار ہوتا ہے اور نہ ہی اسکے پاس اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ آسانی سے کر سکے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں ہدفی پٹرول ریلیف جیسی اسکیم معاشی دباؤ کو کسی حد تک کم کرنیکی کوشش کرتی ہے۔
 حکومت نے عوامی فیڈبیک کی بنیاد پر اسکے طریق? کار میں فوری تبدیلیاں کی ہیں۔ ابتدا میں موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارفین کیلئے پانچ لیٹر پٹرول کی خریداری کی شرط موجود تھی، لیکن بعد میں وزیراعظم نے پانچ لیٹر سے کم پٹرول خریدنے والوں کو بھی ریلیف دینے کی ہدایت کی۔ اب ایسے صارفین کو بھی ہفتہ وار 500 روپے کا ایک ٹوکن مل سکتا ہے، جبکہ ماہانہ چار ٹوکن جاری کیے جانیکا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
 غریب یا کم آمدن والا شخص ہمیشہ ایک ہی مرتبہ پانچ لیٹر پٹرول خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ بعض اوقات اسکے پاس اتنی رقم ہوتی ہے کہ وہ صرف ایک یا دو لیٹر پٹرول ڈالوا سکے اور پھر اپنی اگلی آمدن کا انتظار کرے۔ اگر ریلیف کا نظام اسکی اصل خریداری کے معمول کو نظرانداز کرے تو اسکیم کا فائدہ حقیقی مستحق تک پہنچنے کی بجائے مخصوص مالی حیثیت رکھنیوالے صارف تک محدود ہو سکتا ہے۔ پانچ لیٹر کی شرط ختم کرنے سے اس خلا کو کم کرنیکی کوشش کی گئی ہے۔
اسی طرح پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی کو اسکیم میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت کے بعد اہلیت کی عمر 15 سال سے بڑھا کر 20 سال تک کی گئی، جسکے نتیجے میں یکم جنوری 2006 یا اسکے بعد رجسٹرڈ متعلقہ گاڑیاں بھی دائر? کار میں آتی ہیں۔ جس شخص کے پاس 30 برس پرانی سواری ہو گی وہ غریب ہی ہوگا اس لئے 20 سال کی شرط ختم کر دی جائے کیونکہ ریلیف کا معیار مالی استطاعت کا نہ ہونا ہے۔ یوں زیادہ لوگوں کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ 
یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ پاکستان میں کم آمدن والے افراد اکثر نئی گاڑی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ پرانی موٹر سائیکل یا رکشہ ان کیلئے معاشی مجبوری کے ساتھ روزگار کا اثاثہ بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی حکومتی ریلیف اسکیم میں صرف نئی گاڑیوں کو شامل کیا جائے تو اسکا فائدہ اس طبقے تک محدود رہ سکتا ہے جو پہلے ہی بہتر مالی حالت میں ہو۔ پرانی سواریوں کو شامل کرنے سے اسکیم کی رسائی وسیع ہوتی ہے۔
یہاں ایک وسیع تر حکومتی تصور بھی سامنے آتا ہے۔  ذاتی معلومات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے کم اور متوسط آمدن والے شہریوں کا درست اور محفوظ معاشی ریکارڈ تشکیل پاتا ہے تو مستقبل میں حکومت کیلیے بحران کے وقت متاثرہ افراد کی شناخت زیادہ تیزی سے ممکن ہو سکتی ہے۔ قدرتی آفات، توانائی کے بحران، خوراک کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے یا کسی دوسرے بڑے معاشی جھٹکے کی صورت میں امداد کو عمومی انداز کی بجائے ڈیجیٹل اور ٹارگٹڈ بنیادوں پر پہنچانیکی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔
 پٹرول سبسڈی کسی ملک کے توانائی بحران کا مستقل حل نہیں۔ پاکستان کو تیل کی درآمدی ضرورت کم کرنے، ریفائنریوں کی استعداد بڑھانے، توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے، پبلک ٹرانسپورٹ بہتر بنانے اور پٹرولیم شعبے میں شفاف اور مستحکم قیمتوں کے نظام کی طرف بڑھنے کی ضرورت رہے گی۔ حکومت خود بھی ریفائنری اپ گریڈیشن اور درآمدی ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے کی بات کر ے۔ 
 مزدور، رکشہ ڈرائیور، ڈیلیوری رائیڈر یا چھوٹا کاروباری شخص خیرات کا طلب گار نہیں۔ وہ اپنی محنت کے ذریعے معیشت کو حرکت دیتا ہے۔ اس کیلئے موٹر سائیکل یا رکشہ روزگار کا ذریعہ ہے اور پٹرول اس روزگار کو چلانے کی بنیادی ضرورت۔ موجودہ عالمی حالات نے پاکستان کو ایک بار پھر یہ سبق دیا ہے کہ بیرونی تیل کے جھٹکوں سے مکمل تحفظ ممکن نہیں، لیکن انکے اثرات کو منظم، ہدفی اور شفاف پالیسی کے ذریعے کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اصل امتحان اس جواب کو مؤثر، شفاف اور مستقبل کی پائیدار معاشی حکمتِ عملی سے جوڑنے کا ہے۔

ٹیگز: