پنجاب کی تاریخ رہی ہے اس نے ہمیشہ مہمان نوازی اور کھلے دل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن صبر و تحمل کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ جب آوازوں کا شور زیادہ بلند ہو اور ہاتھ گریبان تک پہنچنا شروع ہو جائے تو یقینا اس کا سخت رد عمل آتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پاکستان کے تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کی بیٹی ہیں۔ نواز شریف نے پہلی مرتبہ ’جاگ پنجابی جاگ‘ کا نعرہ لگایا اور پنجاب کے لوگوں کو بتایا کہ میں کسی کو آپ کا حق کھانے دوں گا نہ ہی کسی کو پنجاب کی طرف انگلی اٹھانے دوں گا اور نہ باہر سے کسی کو پنجاب پر مسلط ہونے دوں گا۔ آج 40 سال بعد اسی نواز شریف کی بیٹی نے پورے پاکستان کے سامنے پوری طاقت کے ساتھ پنجاب کا مقدمہ لڑا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے پنجاب کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی تھی۔ پنجاب اور پنجابیوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا تھا۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے بطور پنجاب کی چیف ایگزیکٹو مریم نواز کا جو پنجاب کے سیلاب پر سیاست کرنے والوں کے لیے رد عمل تھا وہ ایک قدرتی عمل تھا کیونکہ بطور وزیر اعلیٰ پنجاب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پنجاب کے خلاف اٹھنے والی آوازوں، پروپیگنڈے اور اس کے مخالف چلنے والی مہم کا جواب دیں، مریم نواز نے جس انداز میں پنجاب کے عوام کا مقدمہ لڑا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ پنجاب کی ایک طاقتور آواز ہیں ان کو وزیراعلیٰ منتخب کرنے کا پنجاب کے عوام کا فیصلہ 100 فیصد درست تھا۔ مریم نواز ان کے حقوق کا تحفظ بھی کرنا جانتی ہیں اور پنجاب کے خلاف بننے والی مہم کا منہ توڑ جواب بھی دینا جانتی ہیں۔ مریم نواز نے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے سخت مشکلات برداشت کر کے ثابت کیا تھا کہ وہ صنف آہن ہیں، اب انہوں نے ثابت کیا وہ پنجاب کیخلاف اٹھنے والی آوزوں کے سامنے آہنی دیوار بھی ہیں۔ پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے اس میں کسی کو کوئی شک اور شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ مریم نواز نے ڈیرہ غازی میں اپنی تقریر میں بہت سارے لوگوں کی غلط فہمی دور کر دی ہے۔ پنجاب میں آج بھی دو کروڑ کے قریب لوگ دوسرے صوبوں سے آ کر رہ رہے ہیں جہاں وہ تعلیم، صحت سمیت تمام سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ پنجاب کے متعلق ایک منظم پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ پنجاب دوسرے صوبوں کا حق کھا رہا ہے، بجلی،گیس کے بل سب سے زیادہ پنجاب ادا کرتا ہے، این ایف سی ایوارڈ میں سب سے زیادہ شیئر پنجاب کا ہے، کسی بھی صوبے میں کوئی آفت آئے تو پنجاب اپنی باہیں کھول دیتا ہے، یہ پنجاب کی فراخ دلی کی کھلی دلیل ہے۔ حالیہ سیلاب کے دوران پیپلز پارٹی کا پوائنٹ سکورنگ کا طریقہ کار انتہائی افسوس ناک ہے۔ پنجاب میں 45 لاکھ سے زائد لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں 25 لاکھ سے زائد افراد کو پنجاب حکومت نے بروقت اقدامات کر کے ریسکیو کیا۔ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے سیلاب سے متاثرہ افراد کو عارضی رہائش گاہیں اور کھانا فراہم کر رہی ہے۔ مریم نواز نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے گھروں کے لیے بھی پانچ لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ کسانوں کو بھی فصل کا نقصان ہونے پر امداد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ اگلے دو ہفتوں کے دوران سیلاب سے متاثرہ افراد کو امداد ملنا شروع ہو جائے گی۔ یہ سب کچھ پنجاب حکومت اپنے خزانے سے کر رہی ہے۔ ابھی تک پنجاب حکومت نے وفاق سمیت کسی بھی غیر ملکی تنظیم یا دوست ملک سے کوئی مالی مدد حاصل نہیں کی۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ ن پر مسلسل سیاسی دباو¿ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ دنیا سے سیلاب کے نام پر مدد مانگے جو کہ افسوس کی بات ہے۔ ابھی حال ہی میں پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو عبرتناک شکست دی ہے اور پیپلز پارٹی بطور جماعت وفاق کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ کسی کے سامنے مدد کے لیے ہاتھ پھیلائے۔ مریم نواز نے کل دو ٹو ک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ نواز شریف نے کبھی کسی کے سامنے مدد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلائے تو نواز شریف کی بیٹی بھی ایسا نہیں کر سکتی۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کو اپنی سوچ اور رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو پنجاب کی بجائے سندھ کے سیلاب متاثرین کی فکر کرنی چاہیے اور ان کی دوبارہ آباد کاری کے متعلق حکمت عملی بنانا ہو گی۔ کیونکہ سندھ میں 2022ءکے سیلاب متاثرین آج بھی مدد اور چھت کے طلبگار ہیں۔ بلاول بھٹو ایک میچور سیاستدان بن چکے ہیں ان کو اپنی پارٹی کی پالیسی تبدیل کرنا پڑے گی۔