Wed, September 16, 2026

پنجاب حکومت کا سموگ کے خلاف بڑا قدم، جامع منصوبہ تیار

پنجاب حکومت کا سموگ کے خلاف بڑا قدم، جامع منصوبہ تیار

لاہور: پنجاب میں سموگ سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک مکمل اور منظم منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے جن کا مقصد فضائی آلودگی پر قابو پانا اور عوام کو صاف ماحول فراہم کرنا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں پہلی بار ہوا کے معیار کو جانچنے کے لیے جدید مانیٹرنگ سسٹم لگایا جا رہا ہے۔ اس وقت 38 ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سینٹرز کام کر رہے ہیں جنہیں جلد 41 تک بڑھا دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ 5 موبائل یونٹس بھی تیار کیے گئے ہیں جو مختلف علاقوں میں ہوا کا معیار چیک کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ ہر 8 گھنٹے بعد ایئر کوالٹی کی رپورٹ جاری کی جائے تاکہ لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔

سموگ کی ایک بڑی وجہ دھان کی باقیات جلانا ہے، جسے روکنے کے لیے حکومت نے کسانوں کو جدید زرعی مشینری فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپر سیڈرز کی تعداد بڑھا کر 5 ہزار کر دی گئی ہے، اور کسانوں کے لیے ایک نیا ہارویسٹر پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مشینری کو ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل کرنا آسان ہوگا۔

حکومت نے سموگ پر فوری نظر رکھنے اور کارروائی کے لیے 12 ڈرون اسکواڈز اور 8 ای-اسکواڈز تعینات کر دیے ہیں۔ لاہور میں "لنگز آف لاہور" اور "لاہور رنگ" جیسے منصوبے جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ شہر میں سبزہ اور صاف فضا کو فروغ دیا جا سکے۔

فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے 5 ارب روپے کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، جہاں درخت لگانا مشکل ہوتا ہے وہاں "مائع درخت" (Liquid Tree) لگانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جو ماحول کو بہتر بنانے میں مدد دیں گے۔

سموگ کم کرنے کے لیے حکومت نے 15 فوگ کینن اور 25 جدید مشینیں محکمہ ماحولیات کو دی ہیں جو زہریلی گیسوں کا تجزیہ کریں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، زیادہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر سخت پابندی عائد کی جا رہی ہے، اور اگر کسی گاڑی کا انجن 3 بار جرمانے کے بعد بھی درست نہ ہوا تو وہ سڑک پر نہیں آ سکے گی۔

پلاسٹک بیگز کے خلاف بھی بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبے میں 9 نو-پلاسٹک زونز قائم کیے جائیں گے، اور ضبط شدہ پلاسٹک سے ری سائیکلڈ کوڑے دان بنا کر 31 اکتوبر تک تمام سرکاری اسکولوں میں لگا دیے جائیں گے۔

شہریوں کی سہولت کے لیے شکایات درج کرانے کا نیا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اب 1737 ہیلپ لائن کو پولیس کی ہیلپ لائن 15 سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ اگر کسی عمارت کو ماحولیاتی قانون کی خلاف ورزی پر سیل کیا جائے تو متاثرہ فرد آن لائن اپیل کر سکتا ہے، جس پر 48 گھنٹوں میں فیصلہ سنایا جائے گا۔

سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر سموگ کی صورتحال سنگین ہوئی تو تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ عوام میں سموگ سے بچاؤ اور ماحول دوست اقدامات کے حوالے سے آگاہی پھیلانے میں حکومت کا ساتھ دیں۔

ٹیگز: