اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے ایس آئی ایف سی کی رہنمائی میں بلیو اکانومی سے استفادے کے لیے جامع حکمتِ عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ وزارتِ سمندری امور کے مطابق "Maritime @100" پروگرام کے تحت 2047 تک پاکستان کو ایک مؤثر بلیو اکانومی ہب میں تبدیل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
شپنگ اور ماہی گیری کے شعبوں میں 100 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ تین سال میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے بیڑے میں 15 نئے بحری جہاز شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔
اسی سلسلے میں پورٹ قاسم میں ملک کا پہلا گرین شپ ریپئر و ری سائیکلنگ یارڈ “Sea to Steel” قائم کیا جا رہا ہے۔
گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں 43 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے جدید حفاظتی و ماحولیاتی معیارات متعارف کرائے جائیں گے۔ نیشنل فشریز پالیسی 2025–2035 کے تحت ڈیپ سی فشنگ، برآمدات میں اضافے اور جدید سہولتوں کی فراہمی پر توجہ مرکوز ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے ملکی معیشت کی بحالی اور سمندری شعبہ طویل مدتی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔