Wed, September 16, 2026

پاکپتن اور سندھ میں سیلابی تباہی، کئی گاؤں زیرِ آب، لوگوں کی مشکلات بڑھ گئیں

پاکپتن اور سندھ میں سیلابی تباہی، کئی گاؤں زیرِ آب، لوگوں کی مشکلات بڑھ گئیں

پاکپتن : پاکپتن میں دریائے ستلج کے کنارے زمینی کٹاؤ کا عمل زور پکڑ گیا ہے۔ گاوں سوڈا پورا دریا برد ہو چکا ہے اور چک باقر کے 50 سے زائد گھر بھی کٹاؤ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ جلالپور پیر والا سمیت کئی بستیوں میں پانی موجود ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کو واپس جانے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نوراجہ بھٹہ پر شگاف بند کرنے کا کام جاری ہے تاکہ مزید نقصان کو روکا جا سکے۔

موٹر وے پولیس کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ایم 5 موٹر وے 13 دن سے بند ہے، جو ملتان سے جھانگڑا انٹرچینج تک جاتی ہے، پانی کے اترنے کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ بحالی کا کام شروع کیا جا سکے۔

دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کا سیلابی خطرہ برقرار ہے۔ ٹھٹہ اور سجاول کے پل کے قریب پانی کی سطح میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے کچے کے 10 سے زائد دیہات زیرِ آب آگئے ہیں۔ فصلیں بھی تباہ ہو رہی ہیں اور لوگ حفاظتی بندوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔

مٹیاری کے کچے علاقے میں بھی سیلاب کی تباہ کاری جاری ہے، لوگ کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر جا رہے ہیں۔ سعید آباد کے علاقے میں بھی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

مانجھند میں پانی کی سطح بڑھنے سے 28 دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ سیہون کے علاقے میں ریلوے لائن اور انڈس ہائی وے روڈ دونوں طرف پانی بھر گیا ہے، جس کی وجہ سے کئی دیہات شہروں سے زمینی طور پر منقطع ہو گئے ہیں۔

ٹیگز: