Wed, September 16, 2026

آئی ایم ایف اور پاکستان میں کرپشن کی داستان

آئی ایم ایف اور پاکستان میں کرپشن کی داستان

پاکستان کی معیشت پر عالمی مالیاتی فنڈ کی تازہ ’’گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگنوسٹک رپورٹ‘‘ نے وہ پردے اٹھا دیئے ہیں جنہیں ہم برسوں سے سیاسی نعروں اور عارضی انتظامی سہولتوں کے نیچے چھپاتے چلے آئے تھے۔پاکستان میں ریاستی سطح پرپھیلی کرپشن کا بے حد ٹھوس اور تشویشناک تجزیہ پیش کیا گیاہے۔ اس رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری شعبے میں کرپشن صرف وقتی بدعنوانی نہیں بلکہ نظام کی سطح پرمستقل چیلنج ہے۔
یہ خوفناک رپورٹ واضح کرتی ہے کہ پاکستان کی معاشی زبوں حالی کا اصل سبب صرف بیرونی پابندیاں یا جغرافیائی مجبوریاں نہیں بلکہ وہ اندرونی بدانتظامی، ادارہ جاتی کمزوریاں اور طاقتور طبقوں کی گرفت ہے جس نے ریاست کو انفرادی و گروہی مفادات کی خاطر مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دفن کر رکھا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں تقریباً 5.3 ٹریلین روپے بدعنوانی سے منسلک اثاثوں کی ریکوری کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہ ریکوری پوری مالیاتی بدعنوانی کا حساب نہیں دیتی بلکہ محض ’’ٹپ آف آئس برگ‘‘ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پانچ شعبے، فسکل گورننس(مالیاتی نظم وضبط)، مارکیٹ ریگولیشن، کمزور ادارہ جاتی اصلاحات، مبہم اور غیر متوازن ٹیکسزکانظام، منی لانڈرنگ اور کمزورقانونی حکمرانی وہ خرابیاں ہیں جو کرپشن پیدا کرتی ہیں اور اس ختم بھی نہیں ہونے دیتیں۔ 
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال جی ڈی پی کے 2 سے 3 فیصد (3400ارب سے زائد)کے برابر مالی نقصان صرف کرپشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ روزانہ 70 سے 100 ارب روپے عوام کی جیبوں سے خاموشی سے نکال لیے جاتے ہیں۔ کبھی ٹیکسوں کی صورت میں(بجلی،گیس،پیٹرول وغیرہ)، کبھی مہنگائی کے ذریعے، کبھی کمزور سرکاری خدمات کے نام پر(تعلیم، صحت، انصاف، پانی،شناختی کارڈ،پاسپورٹ، سڑکیں بنانا، کاروباری سہولتیں دینا وغیرہ)۔یعنی ادارے سرکاری بجٹ استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ کرپشن میں بھی ملوث ہیں اور نتائج بھی نہیں پیدا کر رہے۔ 
آئی ایم ایف قرض اس بار ادارہ جاتی اصلاحات، مرعات یافتہ طبقے سے سبسڈیر کا خاتمہ اور سب سے ٹیکس وصول کرنے کے نام پر دیا گیا تھا۔ لہٰذا اس مرتبہ براہ راست نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ بدعنوانی کا یہ تخمینہ یوں لگایا گیا کہ مختلف ریاستی اداروں کے ریکارڈ، ریگولیٹری منظوریوں میں تاخیر، عدالتی مقدمات، سرکاری خریداری کے ٹھیکوں، ٹیکس استثنیٰ اور زمینوں کے الاٹمنٹ جیسے شعبوں کا تقابلی تجزیہ کیا گیاہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے مختلف اداروں میں موجود ’’ان دیکھی لاگت‘‘ یعنی رشوت، سفارش، تاخیر اور بدنظمی معیشت پر ایک مستقل خراج کی مانند مسلط ہے۔
قرضوں کی معیشت کا دباؤ بھی اسی بدعنوانی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ ریاست کا حال یہ ہے کہ قومی خزانے پر قرضوں کے سود کی ادائیگیاں وفاقی محاصل کے 80فیصد تک پہنچ چکی ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا مجموعی حجم70 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور ہر سال بڑھ رہا ہے۔یادرکھیں کوئی بھی ملک جو اپنے انتظامی ڈھانچے کو شفاف اور مؤثر نہ بنا سکے، وہ ترقی کے بجائے قرضوں کے چکر میں دھنستاچلا جاتا ہے۔
آئی ایم ایف نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ اصلاحات نہ ہونے کی بنیادی وجہ سیاسی ارادے (پولیٹیکل ول) کی کمی ہے۔ اینٹی کرپشن کے اداروں کے درمیان ہم آہنگی نہیں، عدلیہ میں مقدمات کے بوجھ کے باعث بڑے کیس برسوں تک منطقی انجام تک نہیں پہنچتے، جبکہ سرکاری اداروں کی خریداری کا نظام بھی غیر شفاف طریقوں سے چلتا ہے یہاں تک کہ قومی سطح کے فورمز جیسے ایس آئی ایف سی کے فیصلوں میں بھی شفافیت کا فقدان رپورٹ میں نمایاں کیا گیا ہے۔ بلکہ ایس آئی ایف سی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پچھلے دو برس میں اپنے کئے گئے فیصلوں، مراعات اور معیشت کو پہنچنے والے ثمرات پر رپورٹ شائع کرے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ان تمام حقائق کا سب سے بڑا بوجھ عام پاکستانی اٹھاتا ہے۔ عوام کے لیے کرپشن کا مطلب ہے بڑھتی مہنگائی، کم ہوتی آمدنی، بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ، صحت و تعلیم کا غیر معیاری ہونا، اور روزگار کے مواقع کا محدود ہو جانا۔ مطلب یہ کہ بد عنوانی صرف قانونی اور اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 
آئی ایم ایف کی اس رپورٹ پر حکومتی سطح پر خاموشی اورکوئی واضح اور مدلل جواب نہ دے سکنا اس امرکی غمازی کرتا ہے کہ جو کہا جارہا ہے اسے درست مان لیاجائے۔ لیکن کیا یہ بات پہلی مرتبہ کسی نے کی ہے؟ پاکستان سے محبت کرنے والے انسان دوست افراد کئی دہائیوں سے پاکستان کی سیاسی اور فوجی اشرافیہ کی جانب سے اپنائی جانے والی پالیسیوں میں موجود خامیوں اور موجودہ سیاسی و معاشی نظام کو تبدیل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو پاکستان کو اس حال میں پہنچانے والے عالمی ساہوکاروں (آئی ایم ایف، ورلڈبینک) کے سود سے جان چھڑانا ہو گی۔ کیوں پاکستان 25 آئی ایم ایف پروگرام لینے کے باوجود بھی معاشی طور پراپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکا ؟ اگرپاکستان کے پہلے بجٹ سے اب تک بنائے گئے بجٹوں کا تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ انھیں بنانے والی تمام معاشی ٹیمیں آئی ایم ایف کی تربیت یافتہ تھیں۔ پاکستان کی معیشت کو قرضوں میں جکڑ کر آلہ کا سیاسی نظام کیسے لایا گیا؟ اب پاکستان کی اشرافیہ اس قدر کرپٹ ہو چکی ہے کہ کرپشن کو بھی حق سمجھ کر کرتی ہے۔ اس کا پھیلاؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ کرپشن صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری مجموعی ریاستی کمزوری کا سب سے بڑا نشان بن چکاہے۔ اگر ہم نے اس رپورٹ کو ایک اور فائل سمجھ کر بند کر دیا تو قرضوں کا دائرہ اور سخت ہوگا، بدعنوانی کا حجم مزید بڑھے گا اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔ خود عالمی سامراجی معاشی اداروں نے پاکستان میں کار فرما نظام پر سوال اٹھا دیا ہے۔ کیا اب کوئی گنجائش رہ گئی ہے کہ اس نظام پرتکیہ کیاجائے یا اس ’’سٹیٹس کو‘‘کے نظام کو برقرار رکھنے کے لئے کوششیں کی جائیں۔
 موجودہ نظام اپنی موت مر رہا ہے۔ اسے چلانے والے طاقتور طبقات کسی نہ کسی انداز میں اس بحال رکھنے کی جدو جہد کر رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے باشعور طبقات ، میڈیا اور سول سوسائٹی پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس رپورٹ کو محض عالمی تقاضہ نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت سمجھ کر ایک متبادل سیاسی و معاشی نظام کے لئے جدوجہد کریں۔ یہ معیشت کا نہیں، مستقبل کا مسئلہ ہے اور مستقبل وہی محفوظ ہوگا جو شفاف، جوابدہ اور قومی و دینی سوچ پر مبنی مضبوط ریاستی ڈھانچے پر قائم ہوگا۔

ٹیگز: