Wed, September 16, 2026

شکل مومنہ کرتوت ثاقباں

شکل مومنہ کرتوت ثاقباں


کچھ روز پہلے انمول پنکی کا معاملہ ایسے اُٹھا ہمارے لوگ اپنے سارے دُکھ، مہنگائی، بیروزگاری، ظلم، ناانصافی اور دیگر اذیتیں وغیرہ بُھول کے اس معاملے میں اُلجھ گئے، میں پچھلے دنوں خربوزے خریدنے رُکا، ایک انتہائی خستہ حال ریڑھی بان مجھ سے پوچھنے لگا ”باو¿ جی آپ پڑھے لکھے لگتے ہیں یہ بتائیں انمول پنکی کا کیا بنے گا؟“، میں نے عرض کیا ”بزرگو پڑھا لکھا ہونے کے باعث میں نے یہ نہیں بتانا اس کیس کا کیا بنے گا؟ پڑھا لکھا ہونے کے باعث میں نے اس کیس کو دفنانا ہے“، جنہوں نے یہ کیس بنایا، جو مسلسل کئی برس سے اُسے بچاتے آ رہے ہیں، جنہوں نے آگے چل کر مزید اُسے بچانا ہے، جن کی عدالتوں میں یہ کیس چلنا ہے، جنہوں نے اُس کے حق میں فیصلے دینا ہیں اور آخرکار جنہوں نے اس کیس پر منوں مٹی ڈال کر اسے مستقل طور پر دفنا دینا ہے وہ سب ”پڑھے لکھے“ ہیں۔ پاکستان کو جتنا نقصان ہم ”پڑھے لکھوں“ نے پہنچایا ہے بیچارے ان پڑھ اُس کا سوچ بھی نہیں سکتے، اب ہمارے پاس ایک نیا سوشا یا ڈراما ثاقب چول اور مومنہ دجال کا آگیا ہے، اب جب تک اس طرح کا کوئی اور سکینڈل ہمارے پاس نہیں آ جاتا ہم اسی کا بھرکس نکالتے رہیں گے، میں لوگوں کو بتاتا رہوں گا یہ ایم پی اے پہلے پی ٹی آئی میں تھا، یہ پہلے گردوں کی ناجائز خرید و فروخت کرتا تھا، حالانکہ یہ سب کچھ بہت سے لوگوں کو پہلے سے معلوم ہے، البتہ یہ شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہے ڈیوس روڈ لاہور پر ایک انتہائی قیمتی پراپرٹی پر قبضہ بھی ہے جس میں کچھ انتہائی کمینے پولیس افسران اور کچھ انتہائی گھٹیا سیاسی کردار بھی ملوث ہیں، یہ سارے معاملات ثاقب چدھڑ کی ترقی کے راز ہیں، وہ اگر شریف آدمی ہوتا گُردوں کی خرید و فروخت کرتے کرتے اسمبلی تک کیسے پہنچتا؟ پی ٹی آئی سے چھلانگ لگا کر ن لیگ کی جھولی میں کیسے گرتا؟ ”شریف آدمی“ آج کل کسی کو ہونا بھی نہیں چاہیے، شریف آدمی کو اُس کے گھر والے حتیٰ کہ اُس کی بیوی مُنہ نہیں لگاتی اور کسی نے کیا لگانا ہے؟ اگلے روز ایک پولیس ناکے پر ایک کانسٹیبل نے مجھے روکا، میں نے ذرا سخت لہجے میں اُس سے پوچھا ”تم نے مجھے کیوں روکا ہے، میں تمہیں شریف آدمی لگا ہوں؟“۔ گُردوں کی خرید و فروخت کے ناجائز کاروبار سے لے کے پنجاب اسمبلی پہنچنے تک کا سفر ثاقب چدھڑ کبھی طے نہ کرتا اگر وہ شریف آدمی ہوتا، اداکارہ مومنہ اقبال کا اُس کے ساتھ تنازع مومنہ اقبال کی ایک ٹوئٹ سے سامنے آیا، اس کا فائدہ یہ ہوا دونوں کو عالمی سطح کی شہرت مل گئی، ورنہ اس سے پہلے بیشمار لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا یہ دونوں کیا ”بد بلائیں“ ہیں؟ عزت سے زیادہ شہرت عزیز ہونے کے اس زمانے میں ثاقب چدھڑ اسمبلی میں جتنی چاہے نااہلیاں دکھاتا رہتا، جتنی چاہے بونگیاں مارتا رہتا، گردوں کی خرید و فروخت کا جتنا چاہے ناجائز کام کرتا رہتا، کبھی اُسے ایسی شہرت نہیں ملنا تھی جیسی اب مومنہ اقبال کے چکر میں مل گئی ہے اور مومنہ جتنے مرضی ڈراموں یا فلموں میں کام کرتی رہتی کبھی اُسے اتنی شہرت نہیں ملنا تھی جتنی ثاقب چدھڑ سے پیچا پا کے مل گئی ہے، دونوں کو ایک دوسرے کا شکرگزار ہونا چاہیے اور اس معاملے پر اب مٹی ڈال دینی چاہیے، جو چیزیں ثاقب چدھڑ نے مومنہ کو دیں اور جو چیزیں مومنہ نے ثاقب کو دیں اُن کی واپسی کا تقاضا بھی نہیں کرنا چاہیے، مومنہ اقبال اپنے سابقہ بوائے فرینڈ ثاقب چدھڑ سے لی ہوئی کچھ چیزیں شاید واپس کر دے لیکن اگر مومنہ نے ثاقب چدھڑ سے کہا وہ اُس کی لی ہوئی ساری چیزیں واپس دے وہ بیچارا کہاں سے دے گا؟ چنانچہ جو کچھ عزیزی ثاقب نے مومنہ کا لیا یا جو کچھ مومنہ نے عزیزی ثاقب کو دیا یہ معاملہ اب رفع دفع کر کے دونوں کو صلح صفائی کی طرف آنا چاہیے، صلح سے زیادہ صفائی ضروری ہے، صرف ایک ”مومنہ“ کے ہاتھ سے نکل جانے سے ثاقب کو پریشان نہیں ہونا چاہیے، معاشرہ ایسی ”مومناو¿ں“ سے بھرا پڑا ہے، اگر بہت ضروری ہے وہ کوئی اور ”مومنہ“ ڈھونڈ لے، مومنہ اقبال کو بھی پورا حق حاصل ہے وہ کوئی مستقل شوہر ڈھونڈ لے، ثاقب کو بھی چاہیے، دو بیویوں کی موجودگی میں مزید کسی گند میں منہ مارنے سے گریز کرے، ثاقب چدھڑ کا یہ گھٹیا پن شاید لوگ بھول جائیں گے وہ انسانی گردوں کی خرید و فروخت کا ناجائز کام کرتا تھا، اُس کا یہ گھٹیا پن بھی شاید لوگ بھول جائیں گے وہ عمران خان کے نام کے ووٹ لے کے لوٹا بن گیا، پر اُس کا یہ گھٹیا پن لوگ شاید کبھی نہیں بھولیں گے جس لڑکی کے ساتھ کئی برس تک جائز ناجائز تعلقات اُس نے استوار کیے رکھے، تعلقات میں تھوڑی بہت اُونچ نیچ آنے پر وہ اُس پر الزام لگانے گا، اُس پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے دعوے کرنے لگا، کم از کم اس معاملے میں اُسے اپنے ”خاندانی“ ہونے کا مظاہرہ ضرور کر لینا چاہیے تھا، یا ممکن ہے یہ سب کچھ کر کے اُس نے اپنے ”خاندانی“ ہونے کا مظاہرہ ہی کیا ہو، یہ معاملہ اگر میڈیا یا سوشل میڈیا کی زینت بن ہی گیا تھا وہ کہتا ”میرے ساتھ اُس کا بہت اچھا تعلق رہا ہے، وہ بہت اچھی خاتون ہے، ہمارے درمیان کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں ہم مل بیٹھ کے اُنہیں حل کر لیں گے“، یا زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیتا ”اب چونکہ یہ معاملہ اداروں کے پاس ہے سو میرے پاس اپنی صفائی میں جو کچھ ہے میں وہ سب اداروں کے سامنے رکھ دُوں گا“۔ اللہ جانے کیوں ثاقب چدھڑ نے تنازع بڑھانے کا راستہ اختیار کیا؟ جس کے نتیجے میں مزید بیشمار لوگوں کو یہ پتہ چل گیا وہ ایویں ”چانواں“ سا ہوتا تھا اب رُکن اسمبلی بن گیا ہے، یا وہ ماضی میں گُردوں کی ناجائز خرید و فروخت کے دھندے میں ملوث تھا، یا پہلے وہ عمران خان کا ”میراثی“ تھا اب مریم نواز کا بن گیا ہے۔ اُس کے ماضی اور حال کی بہت سی خرابیاں لوگوں سے چُھپی رہتیں اگر وہ مومنہ اقبال کے معاملے میں تھوڑی گریس کا مظاہرہ کر لیتا، یہ دونوں کسی الگ ہی دُنیا کے تقریباً ملتے جُلتے بے شرم کردار ہیں، یہ جتنی مرضی درخواستیں ایک دوسرے کے خلاف دے لیں، جتنی مرضی بکواس ایک دوسرے کے خلاف کر لیں، ہونا کچھ بھی نہیں، جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہوا ہے، جو کچھ ان دونوں نے ایک دوسرے کو دینا لینا تھا وہ دے لے چکے ہیں، اب اس کا راضی نامہ یا مُک مُکا ہی ہونا ہے، جو میری اطلاع کے مطابق کافی حد تک ہو بھی چکا ہے، قوی امکان ہے عید کے بعد یہ ایشو مکمل طور پر دب جائے گا، مومنہ اقبال کو اللہ اُس کے حالیہ ہونے والے شوہر کے ساتھ خوش رکھے، اُنہیں دیکھ کر بس وہ عورت یاد آ جاتی ہے جس سے ریپ کیس میں جج نے پوچھا تھا ”بی بی تمہیں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا کب پتہ چلا؟ وہ بولی ”جب چیک باو¿نس ہوا“۔

ٹیگز: