عید الاضحی سر پر ہے، بیت اللہ میں حجاج کرام اللہ کے حضور رو رو کر پاکستان کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ پاکستان کی خوشحالی، امن اور وقار کیلئے سجدہ ریز ہیں۔ شہری پنجاب سے ماں باپ کی دعائیں لے کر بچوں کو پیار کرنے کے بعد اپنے کام کاج کیلئے کوئٹہ پہنچ رہا تھا۔ بلوچ بھائی اپنوں میں عید منانے نہ جانے کتنا عرصہ خونی رشتوں سے دور رہ کر واپس جا رہے تھے لیکن صبح آٹھ بجے کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین کو چمن پھاٹک کے قریب انتہائی شدید دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس میں تا حال 23 سے 25 کے قریب افراد شہید اور 80 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں فوجی جوانوں اور اُن کے اہل خانہ کے علاوہ زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ اطلاع کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بلوچستان روز اول سے ایک سُلگتا ہوا آتش فشاں ہے جس کو کبھی مقامی سرداروں اورکبھی بیرونی طاقتوں نے اپنے کھیل کا میدان بنائے رکھا ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے پاکستان کی حکمران اشرافیہ کا رویہ بھی ماضی اور ماضی بعید میں دوستانہ نہیں رہا لیکن اس بار توکھیل ہی عالمی طاقتوں کے آشیر باد سے کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر کے اقوام عالم میں اپنا مقام بلند کر لے۔ امریکی صدر مسٹر ٹرمپ آئے روز وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل آرمی چیف سید عاصم منیر کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اور یقینا فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جس طرح پاکستان کے اندرونی اور بیرونی محاذوں پر پاکستان کے بدترین دشمنوں کو شکست دی ہے وہ لائق تحسین ہے۔ قوم اپنی بہادر فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور احساس تحفظ احساس تفاخر میں بدل رہا ہے۔ پنجابی بلوچستان میں جائیں تو قتل کر دئیے جاتے ہیں حالانکہ وہ صرف مزدور لوگ ہوتے ہیں جن کا بلوچوں کے آزادی کے نعرے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اہل تشیع زیارتوں کیلئے نکلیں تو اُن کی کمر پر زنجیر زنی کے نشان دیکھ کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ ٹرینوں پر حملہ کرنے والے بلا امتیاز سب کو شہید کر رہے ہیں خواہ وہ بلوچ مزدور ہوں یا لاہور میں کوئٹہ ہوٹل چلا رہے ہوں۔ بچوں اور گھریلو عورتوں کا جنگ سے کیا تعلق ہے؟ بلوچ لبریشن آرمی اور دوسرے متحارب گروپوں نے بربریت کی انتہا کر رکھی ہے۔ اب تو اُن کی عورتیں بھی افغانستان میں فوجی تربیت لیتی دکھائی دیتی ہیں۔ بھارت کے بلوچستان میں مداخلت کے ثبوت ساری دنیا کے سامنے ہیں کہ ہم نے اُن کا آن ڈیوٹی نیول آفیسر پکڑ کر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ افغان طالبان اور بھارت کا تعلق بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور بھارت کا اسرائیل کو فادر لینڈ تسلیم کرنا ساری دنیا کے سامنے ہے۔ ٹرمپ پاکستان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کیے بیٹھا ہے لیکن میز کے نیچے سے اُس کا ہر تعلق بھارت سے جڑتا دکھائی اور سنائی دے رہا ہے۔ یقینا ان حالات سے پاکستان کے رکھوالے بے خبر نہیں ہوں گے لیکن مجھے یہ لکھنے میں کسی غیر ذمہ دارانہ رویے کا احساس نہیں ہوتا کہ مسٹر سپر پاور کی مرضی سے بلوچستان میں سب کچھ ہو رہا ہے۔ ہمیں جسے فتنہ الہندوستان یا خوارج کہہ کر بھارتی پراکسی ڈکلیئرکر دیتے ہیں یقینا وہ سب کچھ بھارت اور افغان ہی مل کر کر رہے ہیں لیکن لاہوریے کہتے ہیں کہ ”غنڈے سے زیادہ غنڈے کا منڈا خطرناک ہوتا ہے۔“ ”امریکہ غنڈے کے دو منڈوں“ نے دنیا میں اودھم مچا کر رکھا ہے۔ ورنہ ٹرمپ کے ایک اشارے سے بھارت اپنی سازشی بساط لپیٹ سکتا ہے مگر ایک ایٹمی پاکستان اور پاکستان کی بہادر فوج کی موجودگی میں بھارت کا خطے کا تھانیدار بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا اور اب یہ کام تو ایران جنگ نے مزید مشکل بنا دیا ہے کہ روس اور چین بھی دبے پاو¿ں امریکہ کے حواریوں کو خطے میں شکست دینے کے خواہش مند ہیں کہ دنیا ایک نئی کروٹ لے رہی ہے۔
امریکی صدر مسٹر ٹرمپ جو دنیا بھر میں اپنے واہیات حرکتوں اور بدتمیزانہ گفتگو کی وجہ سے پہچانے جاتے حال ہی میں جب چین کے دورہ پر گئے تو اُن سے اچھا بچہ دنیا میں کوئی دکھائی نہیں دیا۔ کوئی رنگ بازی نہیں، ایک خوفزدہ شخص کی باڈی لینگوئج اور حفاظتی انتظامات اتنے کے اپنے موبائل فونز کی حفاظت بھی اپنی جان کی طرح کر رہے تھے۔ دوسری طرف چینوں کا رویہ حاکمانہ بلکہ تکبرانہ تھا جو یا تو سپر پاور کا ہوتا ہے یا پھر ابھرتی ہوئی سپر پاور کا جو کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتی۔ یہ کھیل تماشا دیکھ کر مجھے یکم اپریل 2001ءکو ہونے والا ایک واقعہ یاد آ گیا جب امریکی بحریہ کا ایک جاسوس طیارہ Lockheed EP-3Eries2 جنوبی بحیرہ چین کے اوپر نگرانی کر رہا تھا۔ چین کا م¶قف تھا کہ یہ اس کی فضائی حدود کے قریب حساس مقامات کی جاسوسی تھی۔ دو چینی جنگی طیارے اسے روکنے کیلئے فصا میں بلند ہوئے تو ان میں سے ایک چینی پائلٹ وانگ وی (Wang Wei) کا جہاز امریکی طیارے سے ٹکرا گیا۔ چینی طیارہ تباہ ہو گیا اور پائلٹ لاپتا ہو کر ہلاک سمجھا گیا۔ امریکی طیارہ شدید نقصان کے باعث چین کے جزیرے ہائنان میں ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہو گیا۔ چین نے امریکی طیارہ اپنی تحویل میں لے لیا اور امریکی جہاز کے عملے کے 24 ارکان کو حراست میں لے کر کئی دن تک اُ ن سے پوچھ گچھ جاری رکھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاملہ امریکہ اور چین کے درمیان بڑا سفارتی بحران بن گیا۔ چین امریکہ سے معافی کا مطالبہ کر رہا تھا اور امریکی صدر جارج بش جونیئر لیت و لعل سے کا م لے رہے تھے۔ امریکہ نے مکمل رسمی معافی (full apology) نہیں دی، لیکن ایک خط بھیجا جس میں
چینی پائلٹ کی موت پر ”بہت افسوس“ ظاہر کیا گیا اس کے علاوہ بغیر اجازت کے چین کی سرزمین پر لینڈنگ پر بھی افسوس اور شرمندگی کا اظہار کیا گیا۔ چین نے بش جونیئر کے اس خط کو معافی نامہ کے طور پر دنیا کو پیش کیا جبکہ امریکہ نے کہا یہ صرف افسوس کا اظہار تھا، باقاعدہ اعترافِ جرم نہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی تھی تقریباً 11 دن بعد امریکی عملہ بدترین حالت میں رہا کر دیا گیا اور وہ وطن واپس روانہ ہو گئے۔ ازاں بعد چین نے یہ کہتے ہوئے کہ ہماری سرزمین سے امریکی طیارہ نہیں اڑ سکتا، اور کھول کر حصوں میں پیک کر کے بحری جہاز میں امریکہ روانہ کر دیا۔ جہاز امریکہ پہنچا تو چین نے طیارہ کھولنے اور اُسے امریکہ پہنچانے کا لاکھوں ڈالر کا بل بھی ارسال کر دیا۔ یہ نائن الیون سے صرف پانچ ماہ پہلے کی بات ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ چین اتنا کھل کر امریکہ کے سامنے کھڑا ہوا حالانکہ نائن الیون کے بعد امریکی صدر مسٹر بش کا کہنا تھا کہ ”دنیا اب امریکہ کو نئے روپ میں دیکھے گی۔“ کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ ہم دونوں سمت کھیل رہے ہیں تو یاد رکھیں ریاستی امور میں دونوں نہیں ہر سمت کھیلنا پڑتا ہے۔ جیسے امریکہ کھیل رہا ہے، بھارت اور اسرائیل کے ساتھ مل کر۔