نئی دہلی : بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں صدر کے انتخاب میں غیر متوقع تاخیر نے سیاسی حلقوں میں ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر مودی حکومت کی اندرونی مشکلات اور سیاسی چالاکیوں کی عکاس ہے۔
رپورٹس کے مطابق، پہلگام میں ہوئے حملے کو جواز بنا کر حکومت نے پارٹی کے صدر کے انتخاب کو ملتوی کر دیا ہے۔ بی جے پی کی یہ توقع تھی کہ اس حملے اور آپریشن سندور کے ذریعے وہ شدت پسند گروہوں کے خلاف سخت موقف اختیار کر کے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھا سکے گی، خاص طور پر آر ایس ایس جیسے دائیں بازو کے حلقوں کو راضی کر سکے گی۔
تاہم اپوزیشن اور سیاسی تجزیہ کار اس حکمت عملی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مودی حکومت دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگا کر بین الاقوامی سطح پر اسے تنہا کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔ دوسری جانب، کانگریس رہنما کہتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ آپریشن سندور اور پہلگام حملے کی مکمل تفصیلات ایک خصوصی اجلاس میں پارلیمنٹ کے سامنے لائے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سارے واقعات اور "ترنگا یاترا" جیسی ریلیاں ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت نے قومی سلامتی کے معاملے کو انتخابی سیاست کا حصہ بنا دیا ہے، جس سے ملک کی سکیورٹی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔