شہرت کا نشہ بہت خطرناک ہوتا ہے، بڑے لوگ جب اپنے عروج پر ہوتے ہیں تو ان کے دماغ بھی بلندیوں کو چھوتے ہوئے کسی کو گھاس نہیں ڈالتے۔ بڑے گھر دولت کے انبار، گاڑیاں، ہر طرف چہل پہل مصروفیت کا یہ عالم کہ ان سے ملنے کے لئے کئی دن ماہ گزر جاتے ہیں مگر ملنے کا نام نہیں لیتے… عروج کے بعد زوال جب وہ بڑھاپے میں قدم رکھتے ہیں تو شہرت بھی واپسی کا سفر پکڑ لیتی ہے۔ زندگی موت میں ڈھلتی ہے تو پھر کہاں میڈیا کیا عوام کیا سبھی اس کے منتظر نہیں ہوتے پھر جیسے ہی آنکھ بند… اور ہم زندگی کی مصروفیات میں ان کو بھول جاتے ہیں اور انہی شہرت یافتہ لوگوں کے نام ایک صرف چند سطری خبر تک محدود ہو جاتے ہیں کہ فلاں دن کو فلاں بڑے آدمی کی برسی تھی۔ اب تو شاید ان نامور لوگوں کی اولادیں برسی نہیں مناتیں تو لوگوں کے پاس کہاں وقت… آج میں ذکر ایسی ہی بین الاقوامی شخصیت کا کرنے جا رہا ہوں جن کو دنیا ملکہ ترنم نورجہاں کے نام سے جانتی ہے اور مجھے ان کی یاد اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر نے دلا دی کہ ان کی بڑی بیٹی ظل ہما کی 16مئی کو گیارویں برسی تھی یہ وہی ظل ہما ہے جس کو ماں جیسی شہرت تو نہ مل سکی مگر ایک بیٹی ہونے کے ناطے اس کو کسی نہ کسی محفل میں ضرور بلوایا جاتا اور کبھی کبھی وہ گاتی تھی۔ اس پر کالم کے آخر میں بات کروں گا۔ ایک نورجہاں کے حوالے سے واقعہ 1990ء کا ہے مجھے سنڈے میگزین جنگ کے لئے نورجہاں کا انٹرویو کرنا تھا۔ لائن لینڈ نمبر پر فون کیا۔ میں نے میڈم کو اپنا تعارف کرانے کے بعد انٹرویو کی بات کی تو میڈم بولیں دو دن کے بعد فون کرنا۔ دو دن کے بعد پھر فون کیا تو اگلے دو دن کا وقت یوں یہ سلسلہ تقریباً ایک ہفتے تک چلتا رہا۔ آخرکار ساتویں دن مجھے غصہ آ گیا اور فون پر کہا کہ میڈم اگر وقت نہیں ہے تو چھوڑیں پھر کبھی ملاقات ہو جائے گی شاید انہوں نے میرے غصے کو بھانپ لیا ہوگا۔ بولیں کل شام 6بجے آ جائو… اگلے دن چھ بجے میڈم کے گھر دروازہ ناک کیا تو گارڈ نے مجھے برآمدے تک لے جانے میں مدد کی۔ برآمدے سے ڈرائنگ روم کا کمرہ کھلا تو ایک بچی نے مجھے اندر آنے کا کہا۔ یوں میں ان کے بڑے خوبصورت ڈرائنگ روم میں براجمان ہو گیا۔ غالباً کوئی بیس منٹ کے انتظار کے بعد سامنے سے جس طرح سٹوڈیوز میں ہوتا ہے لائٹنگ کے لئے بالکونی بنائی جاتی ہے اسی طرح کی بالکونی سے میڈم آہستہ آہستہ آ رہی تھیں۔ ان کے ساتھ ایک بچی نے ان کی ساڑھی کے پلو ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے تو دوسری طرف دوسری بچی کے ہاتھ میں ایک ٹرے جس میں چائے وغیرہ تھی۔ اب میڈم شاہانہ انداز سے سیڑھی سے اتر کر میری جانب آئیں۔ میں نے احترام میں کھڑے ہو کر سلام کیا اور پنجابی میں بولیں کیہ حال اے پتر… میڈم زیادہ پنجابی زبان میں بات کرتی تھیں اور ان کی گالیاں بھی بڑی مشہور زمانہ تھیں جب وہ سٹوڈیوز جانے کے لئے پنجاب یونیورسٹی کو کراس کرتیں تو وہاں لڑکے ان کی گاڑی روک کر ان کو تنگ کرتے۔ صرف اس لئے کہ وہ ان کو گالیاں دیں اور یہ معاملہ بہت عرصہ تک چلتا رہا بہرحال میرے سامنے بیٹھتے ہی بولیں کہ میرے پاس بیس پچیس منٹ کا وقت ہے۔ میں نے شاہ نور سٹوڈیو گانے کے لئے جانا ہے۔ اب میں ٹیپ ریکارڈر، کاغذ اور قلم لے کر گیا تھا اور زیادہ وقت لینا میرا کام تھا اور میرا پہلا سوال ہی میرے لئے اہم تھا یا تو وہ اس کا مختصر جواب دیں گی یا پھر لمبی بات آگے بڑھے گی۔ اسی اثناء میں میڈم پنجابی ہی میں بولیں ’’پتر پچھ کی پچھنا ایں‘‘۔
میں نے پہلا سوال کیا جو مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے… میڈم اللہ وسائی نام آپ کی والدہ نے رکھا پھر اللہ وسائی سے بے بی نورجہاں سے نورجہاں سے ملکہ ترنم نورجہاں سے میڈم نورجہاں۔ اسی اثناء میں آپ نے پوری دنیا گھوم ڈالی، بے پناہ شہرت، بے پناہ پیسہ آپ نے شادیاں بھی کیں (میری اس بات پر وہ مسکرا دیں) نانو اور دادو بن گئیں، سب کچھ کھونے اور بہت کچھ پانے کے بعد میرا خیال ہے کہ آپ کے دل میں ضرور آج بھی ایک کسک ہے جو ابھی تک پوری نہیں ہوئی… اب چونکہ سوال طویل تھا میڈم کا مزاج ایک سوال میں کئی سوال کے تحت شاید جواب دینے کی سوچ نہیں تھی… لہٰذا وہ بولیں سوال دوبارہ کرو… میں نے دوبارہ سوال کیا تو انہوں نے بہت مختصر جواب دیا… ’’ہاں ایک کسک ہے۔ ساری عمر رب نوں لبھدی ہر جگہ تے گئی آں پر رب نئیں لبھا‘‘… میں آپ کو ایک بات بتاتی ہوں جب میں چھوٹی سی تھی تو میری ماں گھر کے صحن میں بیٹھ جاتی۔ فجر کی نماز کے بعد اور چارپائی پر اپنے اردگرد آٹا، چاول، روٹیاں رکھ کے دروازے کی طرف دیکھا کرتی جب میں ذرا بڑی ہوئی تو ایک دن ماں سے پوچھا کہ آپ روزانہ یہاں کیوں بیٹھتی ہیں تو ماں نے جواب میں کہا… تمہاری نانی بھی ایسا ہی کرتی تھی۔
میں دروازے پر آئے کسی فقیر کو خالی ہاتھ جانے نہیں دیتی۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ کسی بھی فقیر کے روپ میں نبی پاکؐ نہ آ جائیں اور میری ترسی آنکھوں کی پیاس بجھ جائے… یہ واقعہ سناتے سناتے میڈم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہاں میں نے اپنے کئے سوال کے پھر ایک دو حصے دوہرائے تو میڈم نے کہا… جہاں خوشیاں ملیں وہاں درد بھی میرے ساتھ رہے۔ دکھ سکھ ہی میں زندگی گزر رہی ہے۔ یہاں ایک اور بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جب نورجہاں کا انتقال ہوا تو میں نے سنڈے میگزین کے لئے مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’’رب نوں لبھدی لبھدی رب کول ٹر گئی‘‘ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی یہ ملاقات میں کبھی بھول نہ پائوں گا۔ اب تھوڑا ذکر ظل ہما کا۔
ملکہ ترنم نورجہاں کی بڑی بیٹی تھی۔ملکہ ترنم نورجہاں نے 1942ء میں نامور ہدایتکار اور تدوین کار شوکت حسین رضوی سے شادی کی اور اس کے بطن سے 21اپریل 1944ء کو ظل ہما پیدا ہوئی۔ ظل ہما اپنے دو بھائیوں اکبر رضوی عرف اکو اور اصغر رضوی عرف اچھو سے چھوٹی اور گھر میں تیسری اولاد تھی۔ ماں کی حیثیت سے ملکہ ترنم نورجہاں دونوں بیٹوں سے زیادہ ظل ہما سے محبت کرتی تھیں اور اس کا زیادہ خیال رکھتی۔ دوسری طرف ملکہ ترنم نورجہاں نے اپنے بیٹوں کی پرورش میں بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ ابھی تینوں بچے چھوٹے ہی تھے کہ نورجہاں اور شوکت حسین رضوی میں اختلافات پیداہوئے اور نوبت طلاق تک جا پہنچی۔ اس کے بعد نورجہاں نے اداکار اعجاز درانی سے شادی کر لی۔