لاہور : پاکستان کی عظیم گلوکارہ، ملکہ ترنم نور جہاں کو مداحوں سے بچھڑے 25 برس ہو گئے ہیں۔ 23 دسمبر 2000ء کو انتقال کر جانے والی نور جہاں کی آواز آج بھی دلوں میں زندہ ہے اور ان کے گائے ہوئے نغمے آج بھی لوگوں کی پسندیدہ ہیں۔
نور جہاں 21 ستمبر 1926ء کو قصور کے ایک موسیقار خاندان میں پیدا ہوئیں۔ نو سال کی عمر میں اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والی نور جہاں بہت جلد چائلڈ سٹار بن گئیں۔ ان کی آواز نے نہ صرف فلمی دنیا کو متاثر کیا بلکہ ان کے گائے ہوئے گیت، خاص طور پر 1965ء کی جنگ کے دوران گائے گئے قومی نغمے، پاکستانی تاریخ کا حصہ بن گئے۔
انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران سینکڑوں نغمے، گانے اور غزلیں گائیں جنہوں نے ہمیشہ اہل ذوق کی تعریف حاصل کی۔ ان کی آواز کا جادو آج بھی سننے والوں پر اپنا اثر چھوڑتا ہے۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور نشان امتیاز جیسے اعزازات سے نوازا۔
نور جہاں کا انتقال 23 دسمبر 2000ء کو ہوا، لیکن ان کی موسیقی آج بھی دلوں میں زندہ ہے اور ان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔