Wed, September 16, 2026

شوگر مافیا اور سیاستدان

شوگر مافیا اور سیاستدان

یہ جنوری 2020 کی بات ہے جب ملک میں گندم اور چینی کے وافر ذخائر موجود ہونے کے باوجود اچانک گندم اور چینی کا بحران پیدا ہو گیا۔ 45 روپے فی کلو میں ملنے والا آٹا 70 روپے میں ملنے لگا۔ قیمت میں اس قدر بڑا اضافہ ہوا تو ذخیرہ اندوز بھی سرگرم ہو گئے اور گندم ذخیرہ کر لی۔ جس کی وجہ سے عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے۔ دونوں اہم اجناس گندم اور چینی مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گئیں۔ 52 روپے کلو میں بکنے والی چینی کو بھی پر لگ گئے۔ چینی کی قیمت 75 سے 80 روپے فی کلو ہو گئی۔ اس تمام بحران میں جہانگیر ترین اور بعض حکومتی شخصیات پر مبینہ بدعنوانی کے الزامات عائد کیے گئے جس پر اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا۔ اچھی شہرت رکھنے والے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا کی سربراہی میں چھ رکنی ٹیم نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد رپورٹ پیش کی جس کی سفارشات پر وزیراعظم عمران خان نے انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت شوگر انکوائری کمیشن قائم کیا۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر اس وقت کے معاون خصوصی برائے داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوام کو بتایا کہ جہانگیر ترین، شہباز شریف اور مختلف سیاستدانوں کی شوگر ملز مبینہ طور پر اس شوگر سکینڈل میں ملوث ہیں۔ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ دراصل ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ تھی۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ کس طرح سندھ اور پنجاب کے سیاستدانوں کی شوگر ملز نے ملک میں بحران پیدا کیا۔ شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ سندھ حکومت نے اومنی گروپ کو سبسڈی دے کر فائدہ پہنچایا۔ شہباز شریف فیملی کی شوگر ملز میں ڈبل رپورٹنگ کے شواہد ملے ہیں۔ العربیہ شوگر ملز نے کسانوں کو 40 کروڑ روپے کم دئیے۔ جے ڈی ڈبلیو گروپ کی شوگر ملز کارپوریٹ فراڈ میں ملوث نکلی، جب کہ جہانگیر ترین گروپ کی شوگر ملز بھی اوور انوائسنگ اور ڈبل بلنگ میں ملوث ہیں۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں شوگر ملز مالکان کے خلاف مقدمات کے اندراج کی سفارش کی گئی تھی۔ تاہم شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اس انکوائری کمیشن کی تشکیل کو ہی عدالتوں میں چیلنج کر دیا تھا جس میں آئی ایس آئی کے ایک نمائندے کی انکوائری کمیشن میں شمولیت اور سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کو دیر سے جاری کرنے کا اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ شوگر ملز مالکان نے انکوائری کمیشن کی سفارشات کو متنازع بنانے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ 16 مارچ 2020 کو شوگر سکینڈل کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کی مشترکہ ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کیا تو لاہور ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین اور شہباز شریف کی شوگر ملوں کے خلاف جے آئی ٹی کو کالعدم قرار دے دیا۔ جہانگیر ترین کی فاروقی پلپ اور شہباز شریف کی العربیہ پر کارپوریٹ فراڈ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے 64 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ تاہم ان اداروں کو اپنے اپنے طور پر تحقیقات کا اختیار دیا تھا۔ یہاں تک کہ لاہور ہائیکورٹ نے کابینہ کے فیصلے کو بھی غیر قانونی قرار دیدیا۔ بعد ازاں، 2021 میں کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے 55 شوگر ملز پر کارٹل بنانے، چینی کی قیمتوں کو فکس کرنے اور مختلف حربوں سے مارکیٹ کو خراب کرنے پر 44 ارب روپے جرمانہ عائد کیا۔ اس جرمانہ کے فیصلے کو شوگر ملوں نے ٹربیونل میں چیلنج کر رکھا تھا۔ ہمیشہ کی طرح شوگر مافیا قانونی شکنجے سے خود کو باہر نکالنے کا راستہ ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔ اب پھر شوگر مافیا کو ایک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ کمپیٹیشن اپیلٹ ٹریبونل نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن اور اس کی رکن ملوں کے مقدمے کو دوبارہ سماعت کیلئے کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کو واپس بھیج دیا ہے۔ دراصل جب سی سی پی کے 4 رکنی بینچ نے فیصلہ جاری کیا تھا۔ اس وقت کی چیئرپرسن اور بنچ کی رکن راحت کونین حسن اور مجتبیٰ لودھی نے جرمانہ عائد کرنے کی حمایت جب کہ بشریٰ ناز ملک 
اور شائستہ بانو نے اختلافی رائے دی تھی۔ اس جمود کو ختم کرنے کے لیے، چیئرپرسن نے 13 اگست 2021 کو قانون کے مطابق کاسٹنگ ووٹ دیا، جس سے فیصلہ اکثریتی ہو گیا اور جرمانہ برقرار رہا۔ اب عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت نیم عدالتی کارروائیوں میں چیئرمین کو کاسٹنگ ووٹ دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ نتیجتاً، چیئرمین کی وہ رائے جو کاسٹنگ ووٹ کی بنیاد پر دی گئی تھی، مسترد کر دی گئی ہے۔ بظاہر اگلے 90 روز کے بعد فیصلہ شوگر ملز مالکان کے حق میں ہی آئے گا۔ شوگر ملز مالکان کی لابی کے آگے 25 کروڑ عوام بے بس ہے۔ کسانوں کو لوٹنے والے چینی مافیا کی جڑیں انتہائی مضبوط ہیں۔ شوگر مافیا ہر دور میں اپنی طاقت کے بل بوتے پر اربوں کی دیہاڑی لگا لیتا ہے۔ حکومتیں چینی ایکسپورٹ کی اجازت بھی دے دیتی ہیں، سبسڈی بھی دیتی ہیں اور اندرون ملک چینی کی قیمتوں میں من مانے اضافے کی اجازت بھی دے دیتی ہے۔ وجہ بڑی واضح ہے۔ جس ملک میں اقتدار میں بیٹھے طاقتور خاندانوں کی ہی درجن بھر سے زائد شوگر ملیں ہونگی وہاں کون ان صاحب اقتدار پر ہاتھ ڈالے گا۔ یہ پاکستان ہے یورپ یا امریکا نہیں جہاں عوام اپنے ایک ایک روپے کا حساب حکمرانوں سے لینے کی مجاز ہے۔ عوام کی تو زبان بندی کر دی گئی ہے۔ بولو گے تو پیکا قانون لاگو ہو گا۔ شوگر ملز اور پاور پلانٹس مالکان زیادہ تر سیاستدان ہی ہیں۔ بزنس مین تو اپنا فائدہ دیکھے گا، عوام جائے بھاڑ میں۔ اب عمران خان کے دور میں 100 روپے میں ملنے والی چینی کی قیمت اب دگنی ہو چکی ہے۔ لیکن عوام سڑکوں پر نہیں نکل سکتے، احتجاج نہیں کر سکتے۔ حالانکہ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں تسلیم کیا کہ سیاستدانوں نے شوگر سیکٹر میں کارٹل بنا رکھے ہیں، ایک ایک سیاستدان کی 8 سے 10 شوگر ملز ہیں۔ اب عوام خود ہی اندازہ لگا لے کہ کس طرح حکومتی چھتری میں شوگر مافیا ان کے حق ہر ڈاکہ ڈالتے آیا ہے۔ ابھی شہباز حکومت نے ایکسپورٹ کی اجازت دیدی اور اب چینی کی قیمت میں اضافے کا وجھ عوام برداشت کرنے پر مجبور ہے۔ چند عناصر کو فائدہ پہنچانے پر عوام کی قربانی دینا حکمرانوں کے بائے ہاتھ کا کھیل ہے۔ بڑے بڑے سکینڈلز کے باوجود بھی شوگر مافیا کی اجارہ داری برقرار ہے۔

ٹیگز: