Wed, September 16, 2026

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

انسان جب تاریخ کی پرانی گلیوں میں قدم رکھتا ہے تو احساس ہوتا ہے کو ظلم صرف نیزے یا تلوار کا نام ہیں، کبھی خاموشی، کبھی تہذیب اور کبھی مذہب کی غلط تعبیر بھی مظلومیت کا وہ ساز بنتی ہے جس پر صدیوں سے عورت کا نوحہ بج رہا ہے۔ دنیا کی ہر تہذیب نے عورت کو ایک مخصوص زاویے سے پرکھا، مگر اسے مکمل انسان تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی۔ تاریخ کے ہر دور میں عورت کا وجود یا تو کسی دیوی کے طور پر پوجا گیا یا غلام کے طور پر روند دیا گیا۔ کبھی وہ مذہبی تقدس کا ہالہ بنی رہی اور کبھی قبائلی غیرت کا نشانہ۔ مگر دونوں صورتوں میں اس کی حیثیت کو اس کے انسان ہونے کے بنیادی مرتبے سے کمتر یا برتر بنا کر دیکھا گیا اور یہی وہ سب سے بڑا ظلم ہے جو عورت کے ساتھ کیا گیا۔ عورت محض ایک جنس نہیں، ایک مکمل فلسفہ ہے۔ اس کے وجود میں کائنات کی گہرائیاں پوشیدہ ہیں، اس کی آنکھوں میں صدیوں کے خواب جھلملاتے ہیں اور اس کی خاموشی برسوں کا نوحہ ہے۔ جب ہم خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم اس تاریخی نا انصافی کا تذکرہ کرتے جو نسل در نسل عورت پر مسلط رہی۔ چاہے وہ قبائلی نظام کا دور ہو، جاگیرداری کا، صنعتی انقلاب کا یا جدت کا۔ہر عہد نے عورت کو مخصوص زنجیروں میں جکڑ کر اس کی شخصیت کو مسخ کیا اور اس کی خودی کو پامال کیا۔ تاریخ کے آئینے میں جھانکیں تو عورتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم کا سلسلہ ابتدا سے جاری ہے۔ قبل از اسلام عرب معاشرے میں عورت کو باعثِ شرم سمجھتے ہوئے زندہ دفن کیا جاتا تھا، یونان میں ان کو کم عقل اور مرد کی ملکیت گردانا جاتا تھا، ہندوستان میں ستی کی رسم نے اس کے زندہ رہنے کے حق کو بھی چھین لیا، رومن کے قانون میں ان کو کوئی انفرادی حیثیت حاصل نا تھی۔ گویا دنیا کی تمام تہذیبوں میں عورت کو یا تو فتنہ سمجھا جاتا تھا یا مالِ تجارت۔ مگر یہ مظالم محض جسمانی نا تھے عورت کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی شناخت کو بھی مسمار کر دیا گیا۔ اسے ایک تابع مخلوق کے طور پر پیش کیا گیا، جس کا کام صرف اطاعت، خدمت اور خاموشی تھا۔ نا تو اس کی رائے معتبر سمجھی گئی نا اس کا فیصلہ قابلِ قبول۔ مگر ہر اندھیرے کے بعد کوئی اجالا ضرور ہوتا ہے اور ان سب تاریکیوں کے درمیان اسلام وہ پہلا آفتابِ عدل تھا جس نے عورت کو انسان نہیں بلکہ اشرف المخلوقات کی برابری عطا کی۔ جس معاشرے میں بیٹی کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا وہاں نبی کریم ؐ نے فرمایا: جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، تو وہ اس کے لیے جنت کا ذریعہ بنیں گی۔ اسلام نے بیٹی کو رحمت، بیوی کو سکون، بہن کو احترام اور ماں کو جنت کا دروازہ بنایا اور انہیں مقامِ تکریم عطا کیا۔ اسے وراثت کا حق دیا جسے آج کی مہذب دنیا بھی مکمل طور پر تسلیم نہیں کر پائی۔ اس نے عورت کو حقِ تعلیم، حقِ رائے، حقِ تجارت، حقِ نکاح اور حقِ طلاق تک عطا کیے۔ دینِ اسلام نے جہاں عورتوں کو حقوق دئیے وہیں مرد کو عورت کے محافظ اور خیر خواہ کا درجہ بھی عطا کیا۔ ارشادِ نبوی ؐہے: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے سب سے بہتر ہے۔ یہ انقلابی اعلان تھا جس نے مرد کو عورت کا محافظ ہی نہیں بلکہ اس کا رفیق، ہمراز اور برابر کا شریک ٹھہرایا۔ مگر آج ہم نے مذہب کو محض رسومات تک محدود کر کے اس کے اصل پیغام کو پسِ پشت ڈال دیا، عورتوں کی عظمت صرف خطبوں، نعتوں اور تقریروں میں رہ گئی اور عمل کی دنیا میں وہ ایک بار پھر سے محروم و محکوم بن گئی۔ تعلیم، صحت، ملازمت، فیصلہ سازی ہر میدان میں اس کا استحصال ہوا۔ عورت کی ذات کو ایک مسئلہ بنا دیا گیا حالانکہ وہ تو خود حل تھی، روشنی تھی، محبت تھی۔ آئینِ پاکستان عورتوں کو برابری کا درجہ دیتا ہے لیکن قانون اور عمل میں ایک گہری خلیج ہے۔ زمینی حقائق سے نظریں چراتی ریاست، خاموش عدلیہ اور بے حس سماج اس تحریری مساوات کی عملی نفی کرتے ہیں۔ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد، جنسی ہراسانی، جبری شادی، ونی، کاروکاری، تیزاب گردی، غیرت کے نام پر قتل، وراثتی حقوق کی پامالی اور تعلیمی تفریق جیسے مسائل آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ سیکڑوں قوانین ہونے کے باوجود انصاف کی راہیں عورتوں کے لیے پیچیدہ پُر خطر اور کٹھن ہیں۔ معاشرہ عورت سے بلند کردار، حیا، صبر اور قربانی کی امید رکھتا ہے مگر مرد سے ان اوصاف کی توقع نہیں رکھتا۔ معاشرتی تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ عورت کو کامیابی کی معراج پر بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ناکامی کی صورت میں اس پر تقدیر اور سماج کا دوہرا عذاب نازل ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں عورت آج بھی دو انتہائوں کے درمیان لٹکی ہوئی ہے ایک طرف دقیانوسی زنجیریں ہیں جو عورت کو چار دیواری میں دفن کرنا چاہتی ہیں اور دوسری طرف مغربی ماڈل ہے جو عورت کو صرف ظاہری نمائش کا مرکز بناتا ہے۔ مگر اصل ضرورت تو توازن کی ہے، اس فکری توازن کی جو عورت کو اس کی فطری، اخلاقی، سماجی اور روحانی عظمت عطا کرے۔ خواتین کے حقوق کا مسئلہ محض ایک سماجی، قانونی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی، فکری اور وجودی بحران کی علامت ہے۔
عورت فقط ایک صنف نہیں بلکہ ایک مکمل تمدنی اکائی ہے وہ صبر، قربانی، روشنی اور حیات کی علامت ہے۔ وہ گود ہے جو قوموں کو جنم دیتی ہے، وہ حرف ہے جو تہذیب کو لکھتا ہے، وہ عکس ہے جو آئینوں میں سماج کی صورت بن کر چھلکتا ہے۔ وہ حوا کی یادگار ہے جو اکیلی جنت سے نکالی گئی مگر زمین پر نسلِ انسانی کا سرچشمہ بنی، وہ ہاجرہ ہے جو ریگزار ِ مکہ میں صفا و مروہ میں دوڑی تو توکل کا استعارہ بنی۔ وہ مریم ہے جو تنہائی میں نور ِرسالت کی ماں بنی۔ وہ زینب ہے جو ظلم کے مقابلے میں جرأت و حقانیت کا پرچم بلند کیے کھڑی رہیں۔ یہی عورت آج معاشرتی زنجیروں میں جکڑی اپنی شناخت کے لیے برسرِ پیکار ہے۔ عورتوں کا مقدمہ فرد کا مقدمہ نہیں بلکہ انسانیت اور معاشرت کا مقدمہ ہے۔ جب تک عورت کو برابر کا فرد تسلیم نہیں کیا جاتا نہ تو معیشت مستحکم ہو سکتی ہے، نا ہی تمدن ترقی کر سکتا ہے اور نا اخلاق بلند ہو سکتے ہیں۔ لازم ہے کہ ہم اپنی ثقافت کو از سرِ نو پرکھیں، وہ اقدار جو ظلم کو روایات کا لباس پہنا کر قائم کی جاتی ہیں وہ ثقافت نہیں بلکہ جہالت کا تسلسل ہیں کیونکہ اب عورت خاموش نہیں وہ عدالتوں میں ہے، اسمبلیوں میں ہے، وہ قلم اٹھا چکی ہے اور اس کا قدم اب پیچھے نہیں ہٹے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نا صرف عورت کو برابری کا درجہ دیا جائے بلکہ اس کے ساتھ صدیوں کے جبر کا کفارہ بھی ادا کیا جائے۔

ٹیگز: