Wed, September 16, 2026

عالمی ہیلتھ کیئر : ایک اندھا کنواں

عالمی ہیلتھ کیئر : ایک اندھا کنواں

میرے سامنے گریڈ 4 یعنی آخری سٹیج کے برین کینسر کا ایک کیس ہے جسے دیگر ہسپتالوں نے علاج سے معذرت کر لی تھی لواحقین افورڈ نگ تھے انہوں نے آخری حربہ کے طور پر پاکستان کے سب سے بڑے نیورو سرجن کا دعویٰ کرنے والے ڈاکٹر کو رپورٹس دکھائیں مریض کی حالت کی وجہ سے اسے کلینک لانے میں دقت تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے مریض دیکھے بغیر آپریشن کی حامی بھر لی ایک لمحے کے لیے ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ ایک عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر مریض کو چیک کیے بغیر محض رپورٹ دیکھ کر برین سرجری کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اس طرح کے آپریشن وہ روزانہ کرتے ہیں مریض تین چار دن میں گھر چلا جاتا ہے۔ آپریشن فیس 10 لاکھ تھی کمرے کا ایک دن کا کرایہ 30ہزار تھا۔ دوائیوں اور ٹیسٹوں کے دیگر اخراجات علاوہ تھے۔ آپریشن سے پہلے لواحقین سے consentتحریری طور پر لے لی گئی کہ ہم قانونی کارروائی کا حق سرینڈر کرتے ہیں۔ قصۂ مختصر آپریشن کو 3ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے فیروز روڈ لاہور پر سب سے اونچے ہسپتال میں آپریشن ہوا جس کا مجموعہ بل 25 لاکھ سے متجاوز تھا۔ مگر مریض کومہ میں چلا گیا تین ماہ ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ مریض ٹھیک ہو رہا ہے اس کیس کو بھی انہوں نے کامیاب آپریشن کے اعداد و شمار میں رکھا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ دوران آپریشن اور آپریشن کے بعد مریض کو تین ماہ سے زیادہ زندگی مل چکی ہے حالانکہ یہ زندگی اور موت کا درمیانہ عرصہ ہے۔ مریض زندوں میں ہے نہ مردوں میں۔ 
یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں ہے اور نہ ہی یہ آخری سے ہے دنیا بھر میں یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ ہم نے سنا تھا کہ امریکی ڈاکٹر اپنے پیشے کے بہت بڑے ماہر ہیں وہاں علاج اور پرائیویٹ ڈاکٹروں کی فیس اتنی زیادہ ہے جس کا آپ تصور نہیں کر سکتے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں ڈاکٹروں کے پاس اپنے ہوائی جہاز ہیں لیکن ہم نے جب سے امریکی ڈاکٹر اور کینسر کے ماہر Dr Morty Makary کی کتاب Blind Spot کے اقتباسات پڑھے ہیں ہمارا دنیا کے ہیلتھ کیئر 
سسٹم سے ایمان اٹھ گیا ہے ان کی کتاب کا اردو ترجمہ اندھا کنواں ہم نے خود سے کیا ہے یہ لفظی نہیں مصنوعی ترجمہ ہے ویسے اگر وہ اس کتاب کا نام Blind Spot کی بجائے Black Spot یا سیاہ دھبہ رکھ دیتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔ اس کتاب نے دنیا بھر کے ہیلتھ کیئر حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے ایک زلزلے کی کیفیت ہے لاہور کے جس کیس کو ہم نے مثال بنایا ہے وہ تو ڈاکٹر مارٹی کی کتاب پڑھ کر لگتا ہے کہ نہایت معمولی سی بات ہے۔ 
ڈاکٹر مارٹی کی Blind Spot کا نچوڑ یہ ہے کہ امریکہ میں ہونے والے سرجیکل آپریشن میں 50 فیصد سے زیادہ آپریشن ایسے ہوتے ہیں جن کی درحقیقت ضرورت ہی نہیں ہوتی یعنی محض پیسہ بنانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ دل اور کینسر کے امراض امریکا میں بالترتیب پہلی اور دوسری موت کی وجہ بتائے جاتے ہیں تیسرا نمبر غیر ضروری آپریشن سے ہونے والی اموات ہیں۔ امریکہ میں سالانہ غیر ضروری علاج پر ایک ٹریلین ڈالر ضائع ہو رہا ہے آگے آپ خود اندازہ لگا لیں یہ حقائق ہم اپنی طرف سے نہیں بتا رہے یہ ڈاکٹر مارٹی کی تحقیق ہے۔ ان کے مطابق جو آپریشن امریکی ہسپتالوں میں کیے جارہے ہیں ان میں 50 فیصد Avoidable ہیں یعنی بغیر آپریشن علاج ہو سکتا ہے۔ 
مصنف کے مطابق ہسپتالوں میں ریٹنگ کا مقابلہ ہے لیکن رینکنگ بنانے میں سرجری کی کامیابی کا تناسب پیش کرنے کے بجائے مجموعی آپریشنوں کی تعداد شمار کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر مارٹی کے مطابق گھٹنے تبدیل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے علاج کی بجائے تبدیلی پر زور دیا جاتا ہے۔ اس طرح 40 فیصد قابل علاج مریضوں کے گھٹنے تبدیل کر دیئے جاتے ہیں۔ 
اس کتاب مطابق ولادت کے شعبے میں C-Section یا میجر آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کے کیسز میں 33 فیصد آپریشن کی ضرورت نہیں ہوتی مگر آپریشن کر کے زچہ اور بچہ کی زندگی کو خطرات لاحق کر دیئے جاتے ہیں۔ 
اسی طرح معمولی معمولی نزلہ زکام پر اینٹی بائیوٹک دینے کا رواج عام ہے جس سے مریض کا مزاحمتی نظام مجروح ہوتا ہے۔ ہسپتالوں کے بل کے نظام میںشفافیت نہیں ہے۔ آخر میں مریض کو اندازہ ہوتا ہے کہ بل کتنا مہنگا ہے پہلے اندازہ نہیں ہونے دیا جاتا۔ لاعلاج مریضوں پر زندگی کے آخری Phase میں فضول اور بے کار خرچے کرائے جاتے ہیں اور لواحقین کو شو کیا جاتا ہے کہ مریض کی جان بچانی ہے مگر اندر سے ڈاکٹر کو پتہ ہوتا ہے کہ بچنے کا امکان نہیں ہے۔ بہت سے ٹیسٹ بلاوجہ کرائے جاتے ہیں جس سے ہسپتال کو پیسہ ملتا ہے مگر ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 90 فیصد مریضSecond opinion نہیں لیتے یا کسی دوسرے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے جس کا فائدہ کاروباری ڈاکٹر کو ہو جاتا ہے۔ آپریشن کرنے سے بل زیادہ بنتا ہے اس لیے نان آپریشن کیس کا بھی آپریشن کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ 
ڈاکٹر مارٹی کے مطابق ہسپتالوں اور ہیلتھ کیئر میں احتساب کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ میڈیکل کالجز میں علاج کے ساتھ علاج کے اخراجات سے آگاہی ضروری ہے لیکن اس کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ حاملہ عورتوں کو خواہ مخواہ High Risk Case قرار دیدیا جاتا ہے جس سے وہ ہر ہفتے ڈاکٹر کے پاس آنے پر مجبور ہوتی ہے۔ 
غیر ضروری ٹیسٹوں اور Over diagnosis کے ذریعے پروسٹیٹ کینسر کا علاج کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔ غلط علاج سے ہونے والے نقصانات کو چھپایا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں پر پریشر ہوتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ آپریشن کریں۔ 
یہ رونگٹے کھڑے کر دینے والے انکشافات مذکورہ کتاب کے چیدہ چیدہ حقائق میں جس کو پڑھ کر ہم نے پاکستان کے ہیلتھ کیئر پر لکھنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب امریکا میں یہ حال ہے تو پاکستان کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ البتہ ہمارے امراء و وزراء کو علاج کے لیے امریکا جانے سے پہلے سوچنا چاہیے لیکن وزراء کو سوچنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ ان کے علاج کے اخراجات انہوں نے کون سا اپنی جیب سے ادا کرنا ہوتے ہیں۔ 

ٹیگز: