آج کسٹم کا عالمی دن منایا جارہا ہے چونکہ ساری دنیا کے مختلف ممالک اپنی علیحدہ حدود میں اپنے اپنے دستور کے مطابق اپنے شہریوں کیلئے قوانین مرتب کر کے مملکت کے امور چلاتے ہیں ہر ملک اپنے طور پر خودمختار علاقے میں اپنے اپنے سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں جو زمینی، ہوائی اور سمندری حدود پر مشتمل ہوتے ہوئے ایک دوسرے کی حدود کی خلاف ورزی کے خلاف اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں مگر بین الاقوامی طور پر کسٹمزان حدود سے مستثنیٰ ہو کر تمام انسانیت کو ایک پیرائے میں کھڑا کر کے انسانیت کی خدمت کیلئے پیش پیش ہے اسی مقصد کو پورا کرنے کیلئے پاکستان دنیا کے تقریباً تمام ممالک کے شانہ بشانہ کام کرنے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے اورکسٹم ڈے کے موقع پر پاکستان کسٹم کا اس سال2026ء کی نسبت یہی نعرہ ہے کہ"The WCO is dedicating to Customs protecting society through vigilance and commitment. WCO Members will have the opportunity to showcase their efforts and activities in this domain" یعنی ’’ولڈ کسٹمز آرگنائزیشن اپنے پختہ عزم اور عقابی نظر کے ذریعے معاشرے کی صحیح معنوں میں حفاظت کرنے کے لئے وقف کر رہا ہے، اس لئے ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن ممبران اس سلسلے میں اپنی دیر پا کا وشوں اور سرگرمیوںکے احاطے کو اُجاگر کرنے کو ظاہر کریں‘‘۔ ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن اس سلسلے میں اپنے سلوگن کو دلچسپ مگر تعمیری لحاظ سے بھر پور انداز میں اپنے ممبران کے لئے شائع کرتا ہے تاکہ دُنیا کے تقریباً تمام ممالک اس سلوگن کو سامنے رکھ کر اپنی کاوشوں اور سرگرمیوں میں جہت پیدا کرکے اور اسے مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار اداکرنے کے لئے معاشرے کو بُرائیوں اور غیر قانونی جرائم کی روک تھام کو ممکن بنا سکیں۔
سال 2026ء کے جس موضوع کا چُناؤ کیاہے۔ یقیناً اگر محکمہ کسٹم اپنی کاوشوں کواس انداز میں مثبت پہلوؤں کی جانب پختہ عزم کا اعادہ کر لیں تو وہ دن دُور نہیں کہ ہم دُنیا کے ہر معاشرے کو بُرائیوں اور ناجائز نقل وحرکت کا خاتمہ کرکے اس دُنیا کو نہایت ہی خوبصورت بلکہ خوبصورت ترین دُنیامیں بدل سکتے ہیں۔ آج کے دن عالمی کسٹم برادری اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں مالیاتی جرائم کا نہ صرف خاتمہ کریں گے بلکہ بین الاقوامی تجارت میں مزید آسانیاں بھی پیدا کریں گے۔ لہٰذا دیگر عالمی تنظیموں کی طرح پاکستان کسٹم کو بھی چاہئے کہ وہ یہ اہم دن اس ذوق و شوق اور ارادہ کے ساتھ منائے کہ اسے عوامی خدمت کے بلند اہداف کو آگے لے جانا ہے، اس حوالے سے بات کی جائے تو قیام پاکستان سے قبل انگریزوں کے دور میں کسٹم ایکٹ 1872ء اور لینڈ کسٹم ایکٹ 1924 ء کے تحت کام کیا جاتا تھا جبکہ قیام پاکستان کے بعد اب صرف ایک ہی کسٹم ایکٹ 1969 ء پر کام کیا جا رہا ہے جس کے کل 224 سیکشنز ہیں جن میں اکثر و بیشتر تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور ان ہی کے تحت کسٹم کا کاروبار رواں دواں ہے۔ محکمہ کسٹم پشاور نے رواں مالی سال کے دوران کروڑوں روپے کی اسمگلنگ کو ناکام بنایا ہے اور اسمگلنگ کا مال قبضے میں لیا ہے جو نہایت اہم اقدام ہے۔ مالی سال 2025-26(جولائی تا دسمبر)کے دوران کلکٹریٹ آف کسٹم انفورسمنٹ پشاور نے مختلف اسمگلنگ چیزیں پکڑی ہیں جس میں نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیاں، سگریٹ، کپڑا، ٹائرزاور ٹیوب، چائے سلور گولڈ، الیکٹرانکس گڈز، چالیاں، میڈیسن، موبائل فونز، چرس، آئس وغیرہ جس کی ٹوٹل ویلیو 4.35 بیلین بنتی ہے۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اقتصادی شعبہ میں کسٹم کی کامیابیاں دنیا بھر میں تسلیم کی جا چکی ہے اور میکرو اکنا مک اعشاریے آئیڈیل رفتار سے بڑھ رہے ہیں اور پاکستان جلد ہی درمیانی سطح کی آمدنی والے ممالک کے درجہ میں شامل ہو جائیگااور اسی طرح دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کسٹمز کا جو کردار ہے پاکستان ان ممالک کے طریقہ کار کے عین مطابق ہم پلہ اور برابری کی سطح پر قدم بڑھا رہا ہے جبکہ پیپر لیس نظام عروج پر ہے۔چند منٹوں میں اشیاء کی قیمتوں کا تعین ہو جاتا ہے۔ڈیوٹی اور ٹیکسز کے ٹیرف آسان ہوگئے ہین جو کبھی اپنی مرضی کی رپورٹس پر ہو جاتے تھے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز آئی ٹی اور اے آئی کے ماہر ہوگئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کسٹمز کمرشل کارگو سمگلنگ کی روک تھام کو یقینی بنا کر ملکی صنعت کو فروغ دے رہا ہے اس کے علاوہ پاکستان کسٹمز دوسرے قانون نا فذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر سمگلنگ کی روک تھام بھی کر رہا ہے جبکہ اسی طرح چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کی سربراہی میں ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کے لئے کافی سہولتوں کا اجرأ کرتے ہوئے موجودہ نظام میں کافی اصلاحات متعارف کروائی ہیں جس کے باعث ٹیکس ادا کرنے اور ٹیکس وصول کرنے والوں کے مابین انڈرسٹینڈنگ کی فضا اوردوستانہ ماحول نے جنم لیا ہے اور ٹیکس دہندگان کارسپانس کافی بڑھا ہے جس کا کریڈٹ بلاشبہ بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال، ممبر کسٹمز آپریشن سید شکیل شاہ، ممبر کسٹمز پالیسی اشہد جواد ،چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ باسط مقصود عباسی ،کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ پشاورمحترمہ عائشہ بشیر وانی اور دیگر سینئر افسران کو جاتا ہے جس میں ایڈیشنل کلکٹرز، ڈپٹی کلکٹرز شامل ہیں جبکہ مزید بہتری لانے کیلئے ملک بھر سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)،پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(PAJCCI)،سر حد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) اور پاکستان بھر کے تمام پرائم چیمبرز آف کامرس و دیگر بزنس کمیونٹی کی تنظیموں سے تجاویز لی جائیں ۔ جس سے بزنس کمیونٹی کی طرف سے حکومتی اعتماد ٹیکس ، کسٹم ڈیوٹی ، زرمبادلہ کے ذخائر اور سیلز ٹیکس میں قابل قدر اور نا قابل فراموش اضافہ ہو ۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اقتصادی شعبہ میں کسٹم کی کامیابیاں دنیا بھر میں تسلیم کی جا چکی ہیں اور میکرو اکنامک اعشارئیے آئیڈیل رفتار سے بڑھ رہے ہیں ۔ہر سال کی طرح پاکستان کسٹمز (ایف بی آر)نے ورلڈ کسٹمز ڈے 2026ء کے موقع پر 26جنوری پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح کسٹم ہاؤس پشاور میں بھی ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا ۔