چیف کلکٹر کسٹم اپریزمنٹ ڈاکٹر نوید الٰہی اور کلکٹر کسٹم عمر شفیق کی تعیناتیاں ہونے کے بعد جو کہ سمگلروں کے لیے بالکل اچانک اور غیر متوقع تھیں، سمگلروں کے وہ سہولت کار جو سول تو کیا عسکری اداروں کے اعلیٰ ترین عہدوں کے حوالے دیتے ہوئے نہیں تھکتے تھے، جو پیٹھ پیچھے ہر اُس شخص کی اوقات کا تعین اپنے کرپشن، سہولت کاری، رشوت، دلالی سے اکٹھے کیے ہوئے پیسے کے بل بوتے پر کرتے تھے، حالانکہ وہی لوگ جب تعینات آفیسران تھے، کی ایک آواز پر ان کی آپس میں ٹکریں لگتی تھیں کہ پتہ نہیں مجھے بلایا ہے، ان کی جرا¿ت نہ تھی کہ ان کے سامنے پیٹ بھر کر سانس لے سکتے مگر 2017 کے بعد ایسی کایا پلٹی کہ اہم ترین اداروں کے اعلیٰ افسران ان کے سفارشی ہو گئے۔ اللہ کی کرنی کہ یہ کرپشن کی نئی بساط بچھا چکے تھے کہ وقت بدل گیا۔ جب سے یہ دو افسران آئے ہیں چیف کلکٹر اور کلکٹر اپریزمنٹ لاہور، تب سے سمگلروں کے ان سہولت کاروں کی گفتگو کے انداز، سوچ کے معیار یوں بدلے کہ سمگلروں کے سہولت کاروں کے حال احوال اور بات چیت کے انداز بدل گئے۔ حال پوچھیں تو جواب ’سر کام بند اے‘۔ کہا جائے کہ کیا کوئی ہڑتال ہو گئی یا مرگ ہو گئی۔ جواب آئے گا، سر جی مرگ سے بھی کام آگے چلا گیا۔ کیا ہوا؟ سر جی چیف کلکٹر اور کلکٹر تو سنا ہے ناجائز کام کرنے والوں کے لیے دفتر میں ہی ہتھکڑی لے کر بیٹھے ہیں۔ بہت بُرا حال ہے، ذرا سی بھی یعنی 12/15 لاکھ بھی ڈیوٹی کا فرق نہیں چھوڑتے، گویا یہ چوری ان کی نظر میں چوری نہیں۔ جو وارداتیے یعنی غلط ڈیکلریشن کر کے قومی خزانہ کو اربوں روپے نقصان پہنچا کر اپنے خونین جبڑوں کے ذریعے اپنے پیٹ اور تجوریوں میں اتارتے تھے، وہ رک گئے۔ جو محکمہ کے اندر ان کی سرکاری سہولت کاری تھی وہ بھی زمین بوس ہو گئی صرف دو افسران کی تعیناتی کی وجہ سے سراسیمگی پھیل گئی مگر دوسری جانب جو قانون کے مطابق امپورٹ کرنے والے یا اُن کی کلیئرنس کرانے والے شریف لوگ ہیں وہ بہت خوش ہیں کہ دونوں افسران نعمت کے طور پر تعینات ہوئے ہیں۔ ان میں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کا تعلق کسٹم سروس سے ہے یہ ٹیکنیکل معاملات کو سمجھتے ہیں۔ ویسے بھی کسی خاص گروپ کو آگے لانا اور اس کی چال اور جال میں آنا دونوں افسران کا ناممکن ہے جس کی گواہی ان کا ماضی ہے۔ مجھے انتہائی حیرت ہو ئی ان لوگوں پر جو ان کے آنے پر کہتے ہیں ’سر جی کم بند اے‘ گویا کرپشن بند ہے۔ صرف دو افسران کی تعیناتی جو ہوئی ہے ان سہولت کاروں کی اوقات اُبھر کر باہر آ گئی ہے۔ نیک افسران کی کردار کشی بھی بند ہو گئی۔
میں سوچتا ہوں کہ پنجاب حکومت نے یہ سی سی ڈی اور ٹریفک قوانین کے حوالے سے جو اشتہار بازی کی ہے حالانکہ ان دونوں اقدامات کا ایسا Delacle یعنی شکست آئے گی کہ سیاسی حکومت سوچتی کم اور بھگتتی زیادہ رہ جائے گی۔ جبکہ دوسری جانب صرف لاہور میں اور صرف ایک شعبہ کسٹم میں صرف دو افسران آئے ہیں، اشتہار دیا گیا نہ بڑھک ماری گئی، ان کا اپنے دفاتر میں بیٹھ کر قانون کے مطابق اپنے پالیسی اور قانونی انداز میں کام شروع کر دینا کئی ملک دشمنوں کا کام بند کر گیا۔ جہاں یہ ملک دشمن اوقات پر بڑا زور دیتے ہیں وہاں ان کو خاندانی کہلانے کا بڑا شوق ہے۔ حج، عمرے، روزہ، زکوٰة اور کرپشن کے پابند ہیں۔ ایسے خاندانی ہیں جو خود اگلے کے در پر جا کر حاضری لگواتے ہیں، کام ہو تو سازش کے تحت معافی مانگتے ہیں اور باپ کا درجہ دے کر گھر کو لوٹتے ہیں۔ روضہ رسول، خانہ کعبہ سے انکی ویڈیو آڈیو پیغام اور بھیجے ہوئے دعائیں سلام پر یقین نہ کریں ان کے روئے روئے میں منافقت، غیبت اور بدخواہی پل رہی ہوتی ہے۔مگر غیبت، چغل خوری، سازش ان کے کردار سے نکال دی جائے تو واپس اسی حیثیت میں آ جاتے ہیں جس حیثیت میں ایک دوست سے گالیاں کھایا کرتے تھے۔ انہیں اپنے ٹھنڈے ہاتھ دکھاتے، چیک کراتے تھے کہ ہم آپ سے اتنے خوفزدہ ہیں۔ خوف اس جرم کا تھا جس کا ہمارے وہ دوست حصہ دار نہیں بننا چاہتے تھے، اپنی عزت اور قانون کے مطابق کام کرتے تھے۔
اوقات ہمیشہ کردار کی ہوتی ہے اور خاندانی میراث بھی حقیقت میں کردار کی ٹھہرتی ہے۔ مال متاع عہدے اس کی تعریف میں نہیں آ سکتے۔ میں نے اقتدار اعلیٰ پر بیٹھے لوگوں کو لوگوں کی نظر میں ذلت کا مجسمہ بنتے دیکھا ۔ عزت الگ چیز ہے اقتدار الگ، کردار الگ اور مال الگ ایک نو دولتیا کرپشن کے مینار پر چڑھ کر قد اونچا کرنے والا ہمارے ایک مہربان انتہائی پارسا، دیانتدار اور محنتی، متقی، ذمہ دار سرکاری افسر ہیں، کے متعلق سوال کرنے لگا کہ وہ کیا دیانت دار ہیں؟ جواب ملا کہ تمہاری اوقات نہیں کہ تمہاری نجس زبان سے ان کا ذکر بھی ہو۔ اس کرپٹ کے دوست اور وہ دوستوں کی خواتین کو ”میٹھے چاول“ کا لقب دیتے ہیں۔ گندی نالی کے گندے کیڑے، بد نسل جب سمگلروں وغیرہ کے سہولت کار اگر معتبر ہوں گے تو معاشرے میں بدی معراج پاتی ہے، نیکی مسدود ہوتی ہے۔ ایسے میں پھر دیانت دار افسران کی تعیناتی سے ان کا کام بند ہو جایا کرتا ہے۔ اب سنا ہے لاہور سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں کراچی، راولپنڈی اور دوسری پورٹس پر کام شفٹ کر رہے ہیں۔ حالانکہ قانون تو ایک ہی ہے لہٰذا رویہ بھی ہر کلکٹریٹ میں جیسا ہونا چاہیے۔ مجھے ایسے معاشی شر پسندوں کو دیکھ کر معروف شاعر چودھری نوید اقبال چیمہ کا کلام یاد آ گیا۔
اتنی تیزی سے بدل گیا ہے سب کچھ نوید
جو نالہ تھا کل تک آج وہ دریا ہے
یہ کرپشن کے قلزم کل تک پتلی گندی نالیاں تھیں، چند کرپٹ افسران نے اپنا آپ ان کو بیچا اور بدی کو تسلسل دے دیا۔ مگر یاد رہے کہ نئے تعینات ہونے والے افسران کی طرف سے کام جاری ہے اچانک لاہور میں کی گئی وارداتیں ایک منظم رپورٹ کے طور پر مقدمات کی صورت اختیار کریں گی۔ ایک سابقہ افسر جس کو ایف آئی اے نے ایگزامن کیا تھا جس نے طوطا بن کر 40 سے زائد کرپٹ، سہولت کار اور افسران کے نام دئیے تھے، ان افراد کی بھی تفصیلی رپورٹ آنے والی ہے۔ موجودہ نئے تعینات ہونے والے افسران ٹرانسفر تو ہو سکتے ہیں مگر کسی کے کہنے پر ناجائز کام کو تحفظ نہیں دیں گے۔ صرف دو افسران کی تعیناتی سے سہولت کاروں کی اوقات سامنے آ گئی ہے۔ یاد رکھیے میں ذاتی طور پر تو نہیں جانتا مگر یہ دونوں افسران ایسا تاریخی کام کر جائیں گے کہ کرپٹ مافیا اوقات تو کیا اپنی ولدیت بھول جائے گا۔ میرا خیال تھا کہ میں پنجاب حکومت کو درخواست کروں کہ ایسے افسران اپنی ذات میں مکمل محکمہ اور قانون ہوتے ہیں ان کو تعینات کریں، شعبدہ بازی کی ضرورت نہیں رہے گی وفاق میں اور نہ ہی کسی صوبے میں۔