بلوچستان ایک طویل عرصے سے بیرونی سازشوں، اندرونی فتنہ انگیزی اور پراپیگنڈے کی زد میں ہے۔ اس پورے منظرنامے میں اگر کسی ایک جھوٹ پر مبنی بیانیے کو سب سے زیادہ منظم انداز میں استعمال کیا گیا تو وہ ہے ’’مسنگ پرسنز‘‘ کا بیانیہ۔ بظاہر یہ ایک انسانی مسئلہ دکھایا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ فتنہ الہندوستان کی پراکسی تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے ریاست اور اس کے اداروں کو بدنام کرنے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے تانے بانے براہ راست بھارت اور افغانستان سے جا ملتے ہیں۔ بی وائی سی کو اگر بغور دیکھا جائے تو یہ کسی فلاحی یا حقوق کی تنظیم کے بجائے بی ایل اے، بی ایل ایف جیسی کالعدم تنظیموں کا سیاسی و تشہیری ونگ دکھائی دیتی ہے۔ اس کا کام نہ تو انسانی حقوق کے لیے جدوجہد ہے اور نہ ہی بلوچ عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ بلکہ اس کا اصل ہدف چند مخصوص چہروں، مخصوص تصویروں اور مخصوص نعروں کے ذریعے ایک ایسا تاثر قائم کرنا ہے جس میں ریاستی اداروں کو ظالم، جب کہ دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو مظلوم بنا کر پیش کرنا ہے۔ یہی وہ بیانیہ ہے جس پر بیرونی طاقتیں خوش ہوتی ہیں، فنڈنگ آتی ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسے عالمی سطح پر پھیلایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن افراد کو بی وائی سی ’’جبری گمشدہ‘‘ قرار دے کر احتجاج، دھرنوں اور ریلیوں میں پیش کرتی ہے، ان میں سے بڑی تعداد یا تو ازخود روپوش ہوتی ہے یا ذاتی تنازعات، قبائلی جھگڑوں، جرائم، سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے اپنے گھروں سے فرار ہوتی ہے۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو بی ایل اے، بی ایل ایف جیسی شدت پسند تنظیموں کے فریب میں آ کر غیر قانونی طریقوں سے سرحد پار چلے جاتے ہیں، کچھ عرصہ لاپتا رہتے ہیں اور پھر اچانک سے نمودار ہو جاتے ہیں۔ مگر بی وائی سی جان بوجھ کر ان کے ’’لاپتا‘‘ ہونے کا الزام ریاستی اداروں پر دھر دیتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ سنگین حقیقت یہ ہے کہ ماضی اور حال میں جن افراد کو ’’مسنگ پرسن‘‘ قرار دے کر ریاست کے خلاف شور مچایا گیا، بعد ازاں وہی افراد پہاڑوں میں دہشت گرد کیمپوں میں موجود پائے گئے، قومی دھارے میں شامل ہونیوالے کالعدم تنظیم بی ایل اے کے اہم کمانڈر طلعت عزیز کے انکشافات اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہیں۔ یہی لاپتا افراد ریاستی تنصیبات، سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملوں میں ملوث رہے، حتیٰ کہ بعض خودکش حملوں میں بھی ان کے نام سامنے آئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دہشت گرد تنظیم میں شامل ہو کر ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے تو کیا اسے ’’مسنگ پرسن‘‘ کہا جائے گا یا دہشت گرد؟ بی وائی سی کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی فرد لاپتا ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیموں خصوصاً بی ایل اے، بی ایل ایف کے لیے نئی بھرتی، ہمدردی اور مالی امداد کا راستہ کیسے ہموار رکھا جائے۔ ’’مسنگ پرسنز‘‘ کا بیانیہ اسی مقصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جذباتی تصویریں، خواتین اور بچوں کو آگے کر کے احتجاج اور سوشل میڈیا پر آہ و زاری یہ سب ایک سکرپٹ کا حصہ ہے۔ اس سکرپٹ میں نہ عدالتی فورمز کا ذکر ہوتا ہے، نہ حقائق کی تصدیق، نہ ہی ان افراد کی سرگرمیوں کا پس منظر سامنے لایا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بی وائی سی کے نام نہاد احتجاجی کیمپ دہشت گرد تنظیموں کے لیے کور فراہم کرتے ہیں۔ ان دھرنوں میں وہی چہرے بار بار نظر آتے ہیں جن کے روابط کالعدم تنظیموں سے ثابت شدہ ہیں۔ ان کی تقاریر میں انسانی حقوق کے الفاظ تو ہوتے ہیں، مگر پاکستان دشمن نعرے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیزی اور علیحدگی پسند ایجنڈا کھلے عام جھلکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سرگرمیوں کو عالمی سطح پر بھی مشکوک نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ ریاستی اداروں کے خلاف یہ منفی پراپیگنڈا محض زبانی دعوؤں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اسے دستاویزی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فرضی فہرستیں، غیر مصدقہ اعداد و شمار اور پرانی تصاویر کو نئے واقعات سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاست میں لاپتا افراد کے معاملے پرعدالتی کمیشنز کام کر رہے ہیں۔ اگر واقعی بی وائی سی کا مقصد انصاف ہوتا تو وہ انہی قانونی فورمز سے رجوع کرتی، مگر ایسا نہیں کیا جاتا کیونکہ مقصد انصاف نہیں، پراپیگنڈا ہے۔ بلوچستان کے عوام اب اس کھیل کو سمجھنے لگے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ بی وائی سی اور اس جیسی تنظیمیں ان کے نام پر سیاست کرتی ہیں، اور بیرونی ڈالروں کے عوض ریاست کے خلاف زہر اگلتی ہیں۔ عام بلوچ جانتا ہے کہ دہشت گردی نے سب سے زیادہ نقصان خود بلوچستان کو پہنچایا ہے۔ تعلیم، صحت، ترقی، روزگار سب کچھ متاثر ہوا ہے۔ ایسے میں جو عناصر دہشت گردوں کو مظلوم اور ریاست کو ظالم بنا کر پیش کریں، وہ دراصل بلوچ عوام کے دشمن ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستی اداروں نے ہمیشہ بلوچستان میں ترقی، امن اور استحکام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ سڑکیں، سکول، ہسپتال، روزگار کے مواقع اور سماجی بہبود کے منصوبے اس کی واضح مثال ہیں۔ مگر بی وائی سی ان تمام مثبت اقدامات پر پردہ ڈال کر صرف ایک منفی تصویر پیش کرتی ہے، کیونکہ مثبت تصویر سے اس کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے اور فنڈنگ کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔ آخر میں سوال یہی ہے کہ کب تک ’’مسنگ پرسنز‘‘ کے نام پر یہ ڈرامہ چلتا رہے گا؟ کب تک دہشت گردوں کو معصوم بنا کر پیش کیا جاتا رہے گا؟ کب تک ریاست کے خلاف جھوٹا بیانیہ گھڑا جاتا رہے گا؟ اب وقت آ گیا ہے کہ حقائق کو بے نقاب کیا جائے، سچ کو سامنے لایا جائے اور اس فتنہ انگیزی کو اس کے اصل نام سے پکارا جائے۔ بی وائی سی کوئی حقوق کی تحریک نہیں، بلکہ فتنہ الہندوستان کی ایک منظم پراکسی ہے جو ڈالروں کے عوض ’’مسنگ پرسنز‘‘ کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کر رہی ہے۔ اس ڈرامے کی حقیقت اب سب کے سامنے آ چکی ہے، اب ہر بلوچ شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کو سمجھے، جھوٹے پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہو اور بلوچستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔