کابل : افغان جریدے "ہشت صبح" کی ایک حالیہ رپورٹ نے خطے میں سیکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، افغانستان کا صوبہ غزنی مبینہ طور پر بین الاقوامی اور علاقائی شدت پسند تنظیموں کی محفوظ آماجگاہ بنتا جا رہا ہے، جہاں ان کے لیے خصوصی انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے۔
اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ غزنی میں تعمیر کیے گئے رہائشی کمپلیکس محض عام بستیاں نہیں ہیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک گہرا منصوبہ نظر آتا ہے۔ یہ رہائشی منصوبے صرف مخصوص غیر ملکی شدت پسندوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے مختص ہیں۔ان بستیوں کے اندر مدارس کا قیام اور سخت سیکیورٹی حصار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہاں ایک متوازی عسکری ڈھانچہ پنپ رہا ہے۔
رپورٹ میں افغان حکومت کی پالیسیوں کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کی موجودگی کے الزامات نے کابل کو عالمی برادری سے مزید دور کر دیا ہے۔ حکومت کی ترجیحات انسانی فلاح کے بجائے مخصوص گروہوں کی سرپرستی کی طرف ہونے کی وجہ سے ملک انسانی بحران کا شکار ہے، جس سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
علاقائی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر افغان حکام نے ان مبینہ ٹھکانوں کے حوالے سے ٹھوس وضاحت پیش نہ کی، تو خطے میں بے اعتمادی کی فضا مزید گہری ہو جائے گی۔ ہشت صبح کی رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک "ویک اپ کال" ہے کہ افغانستان کی سرزمین دوبارہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔