چوپال سجی ہوئی تھی۔ اس میں آج انگریزی حلیے والے انکل سیم (فرضی نام) بھی موجود تھے۔ ان کا رنگ گورا چٹا تھا اور بال گولڈن برائون تھے اسی مناسبت سے سب ا ن کو انکل سیم کہتے تھے۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ انہوں نے اپنا کچھ وقت بیرون ملک میں گزارا۔ آج وہ سر پر ہیٹ پہنے ، شرٹ اور جینز میں ملبوس چوپال میں چپ سائیں سے ملنے آئے تھے۔ چوپال میں ایک دم سناٹا تھا اور اگر سوئی بھی گرتی تو اس کی آواز سنائی دے سکتی تھی۔ خیر۔۔۔ چپ سائیں آئے اور سب ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے ۔۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ توقف کے بعد بولے۔۔ سیم بھائی ۔۔ خیریت آج یہاں کا رخ کیسے کیا۔ ؟ اس پر انکل سیم نے کہاکہ۔۔۔ سائیں جی۔۔۔ میرے بارے میں لوگ سمجھتے ہیں کہ میں آدھا ولایتی ہوں پر آپ تو مدت سے مجھے جانتے ہیں۔۔۔چپ سائیں نے اثبات میں سرہلایا۔۔ انکل سیم نے کہا۔۔۔ میں نے اس وقت باہر کا رخ کیا۔۔ جب لوگ بیرو ن ملک جانا پسند نہیں کرتے تھے اور بہت مشکل ہوتا تھا۔۔۔ خیر۔۔ میں آج تعصب اور انتہا پسندی پر بات کرنا چاہتا ہوں۔۔ میرے بھتیجے نے بتایا ہے کہ لندن کے تاریخی ٹیویسٹاک سکوائر میں نصب مہاتما گاندھی کے مجسمے کو نامعلوم افراد نے مسمار کردیا ہے ۔سائیں جی یہ واقعہ گاندھی جیانتی اور اقوام متحدہ کے ’یومِ عدم تشدد‘ کی تقریبات سے چند روز قبل رونما ہوا، تقریبات 12 اکتوبر کو منعقد کی جائیں گی۔یہ واقعہ ایسے ایام میں رونما ہوا جب مہاتما گاندھی کو امن و رواداری کی علامت کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔چوپال کے دوستو نجانے آج کل نوجوان نسل میں تعصب اور انتہا پسندی کی لہر کیوں پروان چڑھ رہی ہے؟۔۔۔ اس نوجوان نسل میں صبر اور برداشت نام کی کوئی چیز رہ ہی نہیں گئی۔۔۔ سائیں جی آپ ہی اس بارے میں کچھ بتائیں؟۔
چپ سائیں نے ساری بات پوری توجہ سے سنی اوراس کے بعد کہا۔۔ سیم بھائی میں آج اس بارے میں چوپال کے بچوں اور دوستوں کو ضرور بتائوں گا۔دوستو!۔۔۔دنیا ترقی کے بامِ عروج پر ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت اور رابطوں
کے میدان میں بے مثال پیش رفت ہو چکی ہے۔ انسان مریخ کی سرزمین پر قدم رکھنے کے خواب دیکھ رہا ہے، مگر افسوس کہ دل آج بھی تنگ ہیں، نظریے آج بھی محدود اور تعصب کی زنجیریں آج بھی ذہنوں کو جکڑے ہوئے ہیں۔
ہم جس دور میں جی رہے ہیں، اسے اگر ’’معلومات کا سنہرا دور‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، مگر یہی دور، انتہا پسندی اور تعصب کی تاریکیوں میں بھی لپٹا ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جوں جوں علم بڑھا ہے، ظرف گھٹتا جا رہا ہے۔تعصب کوئی اچانک پھوٹنے والا جذباتی ردعمل نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک خاموش، مگر گہرا زہر ہے۔ یہ اس وقت جنم لیتا ہے جب انسان ’’خود‘‘ کو مرکز سمجھنے لگتا ہے اور ’’دوسروں‘‘ کو کمتر۔ خواہ وہ مذہبی بنیاد پر ہو، لسانی، نسلی یا سیاسی، تعصب ہمیشہ معاشروں میں نفرت کی جڑیں گہری کرتا ہے۔
آج دنیا کے کئی حصوں میں ایک خاص نظریہ، قوم، زبان یا فرقے کو کم تر یا خطرناک قرار دینا ایک عام رویہ بن چکا ہے۔ یہ تعصب معاشرتی تفریق کو جنم دیتا ہے، جس کے نتیجے میں سماجی بے چینی، نفسیاتی دباؤ، اور معاشی غیر مساوات جنم لیتی ہے۔صاحبو!انتہا پسندی، تعصب کی ہی ایک بلند تر شکل ہے، جس میں دلیل، مکالمہ اور اختلافِ رائے کی کوئی جگہ نہیں رہتی۔ یہ وہ سوچ ہے جو دوسروں کو جینے کا حق نہیں دیتی، جو ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی تقسیم سے وجود پاتی ہے، اور جو اپنے نظریات کو نافذ کرنے کے لیے تشدد، نفرت، اور استبداد کا راستہ اختیار کرتی ہے۔دنیا میں ہونے والی بیشتر دہشت گردی، جنگیں، نسلی قتل عام اور مذہبی فسادات اسی انتہا پسند سوچ کی پیداوار ہیں۔ افسوس کہ سوشل میڈیا، جو کسی وقت اظہار کی آزادی کا نشان تھا، اب اکثر انتہا پسندانہ خیالات کی افزائش کا ذریعہ بن چکا ہے۔
انتہا پسندی اور تعصب کی بنیادی وجوہات میں تعلیم کی کمی، سماجی ناہمواری، انصاف کا فقدان اور طاقتوروں کی سیاسی چالاکیاں شامل ہیں۔ ان وجوہات کا فائدہ اٹھا کر کچھ عناصر نوجوانوں کو بہکاتے ہیں، ان کے دلوں میں نفرت بھرتے ہیں، اور انہیں ایک زہریلی سوچ کی طرف مائل کرتے ہیں جس کا نتیجہ معاشرتی انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔
صاحبو!اس لہر کا مقابلہ صرف جنگ یا قانون سے نہیں کیا جا سکتا۔ اصل لڑائی ذہنوں اور دلوں کی ہے۔ ہمیں ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو صرف معلومات نہیں، بلکہ برداشت، رواداری اور مکالمے کی تربیت دے۔ میڈیا کو اپنا کردار مثبت بنانا ہوگا، اور ہر فرد کو اپنی سطح پر خود احتسابی کرنا ہوگی۔انتہا پسندی کا علاج علم، مکالمہ، اور محبت ہے۔ یہ وہ تین ستون ہیں جن پر ایک پرامن، مہذب، اور ترقی یافتہ معاشرہ کھڑا ہو سکتا ہے۔تعصب اور انتہا پسندی کی یہ لہر وقتی سہی، مگر اگر اسے چیلنج نہ کیا گیا، تو یہ انسانیت کی کشتی کو بہا لے جائے گی۔ وقت ہے کہ ہم نفرت کے اس اندھیرے سے نکل کر شعور، برداشت اور ہمدردی کی روشنی کی طرف بڑھیں۔ کیونکہ اگر ہم نے آج خاموشی اختیار کی، تو کل شاید بولنے کا حق بھی چھن جائے گا۔
دوستو!تعصب اور انتہا پسندی صرف دوسروں کا نقصان نہیں کرتی، بلکہ ہماری اپنی روح کو بھی مسخ کر دیتی ہے۔ یہ آگ اگر نہ بجھائی گئی، تو وہ سب کچھ جلا دے گی جو ہم نے صدیوں میں بنایا ہے۔ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کیسی دنیا اگلی نسل کے لیے چھوڑ کر جا رہے ہیں ، ایک نفرت زدہ، تقسیم شدہ دنیا؟۔ یا ایک ایسی دنیا جو اختلافات کے باوجود محبت، برداشت اور انصاف کے اصولوں پر قائم ہو؟۔نفرت کے ہر وار کا جواب صرف علم، عقل اور محبت سے دیا جا سکتا ہے۔اگر ہم خاموش رہے، تو اگلی صدی‘‘اندھوں کے ہاتھوں میں مشعل’’جیسی ہو گی۔
ہم صرف اپنی بات سننا چاہتے ہیں، دوسروں کی نہیں۔ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھتے ہیں۔۔۔۔ہم بچوں کو محبت نہیں، دشمنی کے قصے سنا رہے ہیں۔ہم مذہب، سیاست اور نسل کو انسانیت پر فوقیت دیتے ہیں۔۔۔سچ یہ ہے کہ دنیا کو نفرت نہیں، محبت بچا سکتی ہے۔ اختلاف رائے فطری ہے، مگر نفرت فطرت کے خلاف۔۔۔۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نسلوں کو کون سا ورثہ دینا چاہتے ہیں ۔۔۔ خون، نفرت اور شدت؟ یا علم، محبت اور امن؟۔۔۔جو دلوں کو جوڑ سکے، وہی اصل انسان ہے۔ باقی سب ماسک پہنے ہوئے تعصبات ہیں۔۔۔لہٰذا محبتیں بانٹیں۔۔ آسانیاں پیدا کریں اورآسانیاں تقسیم کریں ۔۔باقی رہے نام اللہ کا!۔