پنجاب میں اپنی حکمرانی کے آغاز میں جب اْنہوں نے خود کو’’سب دی ماں‘‘ قرار دیا، یا کہلوانا پسند کیا ہمیں لگا اس رشتے کے تقدس اس کی اہمیت سے وہ بخوبی واقف ہیں، ہمارا خیال تھا پنجاب اب ایسے انتہائی محفوظ ہاتھوں میں ہے جن سے غریب عوام کو اب صرف فیض ہی فیض ملے گا، وہ اپنے اقدامات سے ثابت کر دیں گی وہ واقعی ’’سب دی ماں‘‘ جیسی ہیں ۔ یہ درست ہے اْنہوں نے کچھ اقدامات واقعی ایسے کیے جنہیں صرف سرکاری طور پر ہی نہیں عوامی طور پر بھی سراہنا چاہئے ، اْنہوں نے لاہور میں ایک بڑے سرکاری کینسر ہسپتال کا صرف اعلان ہی نہیں کیا فوری طور پر اْس کی تعمیر بھی شروع کروائی، اس میں اعتراض والی بات صرف یہ تھی اس سرکاری ہسپتال کا نام اْنہوں نے اپنے والد کے نام پر’’نواز شریف کینسر ہسپتال‘‘، حکمران اپنی ذاتی جیبوں سے کوئی ادارہ بنائیں سو بار اْس کا نام اپنے ناموں پر یا اپنے عزیزوں کے ناموں پر رکھیں کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے ؟ مگر جب آپ سرکاری مال سے کوئی ادارہ بناتے ہیں اْس کا نام اپنے یا اپنے امی ابو کے نام پر رکھنا انتہائی معیوب ہے، اگر اس سرکاری کینسر ہسپتال کا نام اپنے کسی عزیز کے نام پر رکھنا اتنا ہی ضروری تھا پھر بہتر تھا’’سب دی ماں‘‘ اسے اپنی ماں بیگم کلثوم نواز کے نام پر رکھ دیتیں جو کینسر کے مْوذی مرض سے وفات پا گئی تھیں، خیر یہ حکمرانوں کی مرضی ہوتی ہے وہ انڈہ دیں، بچہ دیں دونوں دیں، وقت پر دیں یا پہلے دیں کوئی اْن کا کیا بگاڑ سکتا ہے ؟ تھوڑی بہت ایک ووٹ کی طاقت عوام کے پاس رہ گئی تھی وہ بھی چھین لی گئی ہے ، اب ہم صرف کچھ لکھ لکھا کر یا تھوڑا بہت بول کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں ، سرکاری کینسر ہسپتال کے بعد اْن کا دوسرا اچھا اقدام تجاوزات کے خاتمے کا ہے، پنجاب کے اکثر علاقوں میں ریڑھی بانوں نے پوری پوری شاہراہوں پر قبضہ کیا ہوا تھا، اس قبضے کو ختم کرا کر شہریوں کو بہت بڑا ریلیف دیا گیا ، اس سے سڑکوں پرہونے والے حادثات میں بھی نمایاں کمی ہوئی، پہلی بار ایسا ہوا غریب ریڑھی بانوں کو سرکاری طور پر خوبصورت دکان نما ٹھیلے فراہم کئے گئے۔ کچھ مخالفین نے یہ خبریں پھیلائیں اْن سے اس کا بڑا بڑا معاوضہ لیا گیا ہے، میں نے بہت سے ریڑھی بانوں سے پوچھا کسی نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ البتہ چند ایک نے یہ اعتراض ضرور کیا کہ سرکاری طور پر فراہم کئے گئے ان ٹھیلوں پراُنہیں’’سب دی ماں‘‘ کی تصویر لگانے پر مجبور کیا گیا ہے، میں نے اْن سے کہا ’’اس میں حرج کیا ہے ؟ اگر کوئی آپ کے لئے مناسب روزگار کا وسیلہ بنے اْس پر تو اپنے اس محسن یا محسنہ کی تصویر ازخود آپ کو لگا لینی چاہئے‘‘، مگر میں اس حد تک ’’شخصیت پرستی‘‘ یا ’’تصویر پرستی‘‘ کے خلاف ہوں حکمران سرکاری لائٹرینوں یا واش روموں پر بھی اپنی تصویریں دیکھنے کے خواہاں ہوں، یا مستحقین کو جو افطاریاں مخیر حضرات یا تاجروں کے پیسوں سے’’سرکاری طور پر‘‘ کرائی جائیں اْن میں رکھی جانے والی پکوڑوں کی پلیٹوں پر بھی اپنی تصویریں سجا دی جائیں ۔ ان بیوقوفوں کو شاید اندازہ نہیں واپسی پر چْوم چاٹ کر اْن کی یہ تصویریں لوگ اپنے گھروں میں نہیں لیجاتے ،بعد میں یہی تصویریں لوگوں کی جوتیوں تلے آتی ہیں۔’’سب دی ماں‘‘ کا تیسرا اچھا اقدام صفائی کے نظام میں بہتری کا ہے۔ اس میں ہلکے پْھلکے اعتراض والی بات یہ ہے صفائی صرف شہر کی بڑی بڑی سڑکوں یا سرکاری کالونیوں میں ہی نظر آتی ہے۔ اندرون گلیوں محلوں میں سیوریج سسٹم پہلے جیسا خراب ہے۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر بھی دکھائی دیتے ہیں، اس نظام کو زیادہ شفاف اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے، خصوصاً اس میں اندھا دْھند کرپشن کا جو تاثر ھے اْسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے , کہا جاتا ہے خاکروبوں کی تنخواھوں سے غیر قانونی کٹوتی ہوتی ہے جو اْوپر تک جاتی ہے، ٹھیکے من پسند لوگوں کو دئیے جاتے ہیں ، ان الزامات میں کوئی صداقت اگر ہے اْس کا سدباب ہونا چاہیے ورنہ بعد میں یہی چیزیں حکمرانوں کے گلے کا پھندہ بن جاتی ہیں یا اْنہیں جیلوں میں لیجاتی ہیں، ’’سب دی ماں‘‘ نے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور اْس کی بچی کی ہلاکت کا جو نوٹس لیا اْسے بھی سراہا گیا۔ گزشتہ پچیس تیس برسوں سے بند بسنت کے جس تہوار کو تمام تر حفاظتی اقدامات یقینی بنا کر اوپن کیا گیا اْسے بھی لوگوں نے پسند کیا، یہ اْنہوں نے بڑا رسک لیا تھا، جو مقبولیت اْن کے کچھ اچھے اقدامات سے اْنہیں ملی تھی وہ بسنت پر ہونے والے متوقع نقصانات کی وجہ سے داؤ پر لگ سکتی تھی، اْنہوں نے اس کی پروا ہی نہیں کی ، اپنی مقبولیت سے زیادہ لوگوں کی خوشیاں دیکھیں ، یہ میلے ٹھیلے یہ موج میلے ضرورہونے چاہئیں لیکن اصل معاملہ عوام کو حقیقی اور دیرپا خوشیاں و ریلیف دینے کا ہے، اگر ہم اپنا نظام تعلیم نظام صحت خاص طور پر نظام عدل یعنی تھانے کچہریوں کا نظام مستقل بنیادوں پر ٹھیک نہیں کریں گے پھر ہمارا نام تاریخ میں ایک معمول کے حکمران کے طور پر ہی ملے گا، لوگوں کے دل صرف ایک کریمینل اور کرپٹ سسٹم کو ٹھیک کر کے ہی جیتے جاسکتے ہیں، البتہ عارضی طور پر چند لوگوں کے دل جیتنے اگر مقصود ہیں پھر صرف بسنت ہی کافی ہے، محکمہ پولیس پنجاب میں کوئی بہتری نہیں آرہی، تھانوں کا روایتی ’’منتھلی سسٹم‘‘ سر چڑھ کر بول رہا ہے، پولیس کی بدتمیزیاں ، کرپشن اور ظلم بڑھتے جا رہے ہیں، ان سب کا ازالہ محض کسی آئی جی یا چند سینئر پولیس افسروں کی ڈانٹ ڈپٹ سے ممکن نہیں ، اس کے لئے پورا ایک نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے، آخر میں بس اتنا عرض کروں گا سرکاری مال سے گیارہ ارب روپے کا جہاز خریدنا فضول خرچی بلکہ ’’گھٹیا خرچی‘‘ کی انتہا ہے، ایک طرف لوگ بھوک اور غربت سے مر رہے ہیں، سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے، سیلاب زدگان کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، کسانوں کی بدحالیاں صوبے کو قحط کی جانب لیجا رہی ہیں، بجائے اس کے ’’سب دی ماں‘‘ ان اہم معاملات پر توجہ دے کر اپنی کارکردگی بہتر بناتیں اللہ جانے وہ کس راستے پر چل نکلی ہیں ؟ جس کسی نے بھی ’’جہاز رانی‘‘ بننے کا اْنہیں مشورہ دیا وہ اْن کا دوست یا خیر خواہ نہیں ہوسکتا ، یا جس کسی نے اْن کے اس فیصلے کی تائید کی وہ اْن کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا، یہ ’’بدخواہ‘‘ اسی طرح اُن سے جُڑے رہے عنقریب ’’سب دی ماں‘‘ کو سوتیلی ماں بنا کر چھوڑ دیں گے۔