Wed, September 16, 2026

ماں ، محبوبہ اور پی ایچ ڈی

 ماں ، محبوبہ اور پی ایچ ڈی

یہ سال 2017 ء کی بات ہے کہ میں نے سپیریئر یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات میں پی ایچ ڈی کی کلاس میں داخلہ لے لیا اس وقت میری عمر 56 سال تھی پہلی کلاس مقالہ نگاری کی تھی جس کے ٹیچر پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبد الرحمٰن تھے پہلے دن کلاس میں گیا تو طلبہ کلا س ٹیچر کو اپنا تعارف کرا رہے تھے جب میری باری آ ئی تو چودھری صاحب نے کہا کہ آ پ کو اس عمر میں ادھر کس نے دھکا دے دیا ہے میں نے جواب دیا کہ سر ! مجھے دھکا کسی نے نہیں دیا میں نے ادھر خود چھلانگ لگائی ہے اور یہ چھلانگ میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارکہ’’ اطلب العلم من المھد الی اللحد‘‘پر عمل کرتے ہوئے لگائی ہے۔ میرا جواب سن کر وہ کچھ مطمئن ہو گئے اور پھر پوچھا کہ آ پ کام کیا کرتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ میں نوائے وقت میں سٹاف رپورٹر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اب آ پ نے اسے چھوڑ کر نہیں جانا ان شاء اللہ پی ایچ ڈی ہو جائے گی۔ اگلی کلاس اکیڈمک رائٹنگ کی تھی جس کے ٹیچر پروفیسر ڈاکٹر احمد رضا بلال تھے اس کلاس میں بھی ایک تو طلبہ کا ٹیچر کے ساتھ تعارف ہوا دوسرا ڈاکٹر بلال صاحب نے اکیڈمک رائٹنگ کے بارے میں مختصراً بتایا اور ساتھ پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کچھ اس انداز میں کیا کہ میرے سمیت تمام سٹوڈنٹ پریشان ہو کر سوچنے لگے کہ ہم کدھر پھنس گئے ہیں مثال کے طور پر ان کا ایک جملہ تھا کہ اگر آپ پی ایچ ڈی کرنا چاہتے ہیں تو سب کچھ چھوڑ دیں حتی کہ بیوی یا شوہر کو بھی صرف والدہ کی خیریت دریافت کر سکتے ہیں۔ تیسری کلاس ایڈوانسڈ ریسرچ میتھڈز کی تھی جس کے ٹیچر پروفیسر ڈاکٹر الیاس تھے انہوں نے بھی پہلے دونوں اساتذہ کی طرح زیادہ گفتگو پی ایچ ڈی کے مشکل ہونے پر ہی کی جس کے لیے انہوں نے مثال دی کہ جس طرح محبوبہ کا حصول انتہائی مشکل کام ہے بالکل اسی طرح پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حصول بھی جان جوکھوں کا کام ہے ایک سٹوڈنٹ نے کہا کہ سر! آ ج کے دور میں موبائل ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے محبوبہ کا حصول تو کافی حد تک آ سان بنا دیا ہے جس کے جواب میں ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ میں نے مثال آ ج کی محبوبہ کی نہیں بلکہ مشہور لوک داستانوں ہیر رانجھا ، مرزا صاحباں ،سوہنی مہینوال ،سسی پنوں ، لیلیٰ مجنوں اور شیریں فرہاد والی محبوبہ کی دی ہے۔
خیر مذکورہ تین تعارفی کلاسز کے بعد ہر ویک اینڈ پر باقاعدہ کلاسز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ چھ ماہ بعد پہلا سیمسٹر ختم ہو ا پھر دوسرا سیمسٹر، پھر کمپری ہینسو امتحان ، پھر پرپوزل ڈیفنس اور پھر تھیسیس کی تیاری اور ڈیفنس ، اس سارے پراسیس  کی تکمیل پر لگنے تو تین سال چاہیں لیکن ایسا دیکھنے سننے میں نہیں آیا۔ جو لائق سٹوڈنٹ تھے انہوں نے تو چار پانچ سال میں ڈگری مکمل کرلی میں چونکہ پڑھائی اور صحت کے لحاظ سے ذرا کمزور تھا لہٰذا مجھے سات سال لگے اور میں نے 63 سال کی عمر میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے  بڑھاپے میں میری عزت رکھ لی۔ 
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پی ایچ ڈی کے دوران میں نے ٹی وی پروگرامز دیکھنے چھوڑ دیئے تھے۔ جب پی ایچ ڈی کی مصروفیت ختم ہو گئی تو میں نے خبریں اور دیگر اکا دکا پروگرام دیکھنے شروع کر دیئے۔ ایک دن ٹی وی آ ن کیا تو پنجاب کی مشہور لوک داستان پر مبنی فلم ہیر رانجھا لگی ہوئی تھی۔ میں نے فلم دیکھی اور دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ بیچارے رانجھے کو اپنی محبوبہ ’’ہیر‘‘کو پانے کے لئے بہت پاپڑ بیلنے پڑے۔ کئی سال تک ان کے ہاں نوکر رہا اس دوران ان کی بھینسوں کو چارہ ڈالنے کے علاوہ دیگر کام کیے۔بالآخر ہیر کے گھر والے ہیر کو رانجھے کے ساتھ بھیجنے کے لئے تیار ہو گئے لیکن عین رخصتی کے وقت ہیر کے چچا ’’ کیدو‘‘ نے سازش کرکے ہیر کو زہر دے دیا جس کے نتیجے میں ہیر رانجھے کے ساتھ اس کے گاؤں جاتے ہوئے راستے میں ہی انتقال کر گئی گویا کئی سال کی محنت کے بعد بھی رانجھے کے ہا تھ کچھ نہ آ یا۔
فلم دیکھنے کے بعد اچانک مجھے ڈاکٹر الیاس کا وہ جملہ یاد آ گیا جو انہوں نے کلاس کے پہلے روز کہا تھا کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا محبوبہ کو حاصل کرنا۔ اب میرے دماغ میں ایک طرف تو فلم میں رانجھے کو درپیش مشکلات گھوم رہیں تھیں اور دوسری طرف وہ مشکلات جن کا پی ایچ ڈی کے دوران میں نے سامنا کیا۔ میری اور رانجھے کی مشکلات میں کافی حد تک مماثلت تھی بس تھوڑا سا فرق تھا کہ رانجھے کو ایک ’’ کیدو ‘‘ کا سامنا تھا جبکہ میرے راستے میں ایک سے زیادہ ’’ کیدو‘‘ تھے  تاہم میری خوش قسمتی یہ تھی کہ میرے ساتھ پروفیسر ڈاکٹر چودھری عبد الرحمٰن ، ڈاکٹر نادیہ ناصر ، ڈاکٹر حارث، ڈاکٹر مسعود شیخ،ڈاکٹر سیف الرحمن،ڈاکٹر مہوش ظفر اور محمد مکرم جیسی عظیم اور ہمدرد شخصیات کا تعاون رہا جس کی بدولت میری محبوبہ (پی ایچ ڈی) مجھے مل گئی اور جس کے ساتھ اب میں ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہا ہوں۔
میرا اپنے ہم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کو مشورہ ہے کہ وہ بھی پی ایچ ڈی کریں کیونکہ اس عمر میں آ دمی کے پاس کافی وقت ہوتا ہے ریٹائرمنٹ کے بعد دفتری مصروفیات تو ختم ہوتی ہی ہیں ساتھ گھریلو مصروفیات بھی تقریباً ختم ہی ہو جاتی ہیں گھریلو مصروفیات ختم ہو نے کی وضاحت کے لئے میں یوسف کے اس واقعے کا ذکر کرنا چاہوں گا جو معروف اداکار اور کمیئر معین اختر نے سنایا تھا۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے:
’’یوسف کی شادی کے ابتدائی دن چل رہے ہیں بہار کا موسم ہے اور شام کا وقت۔ وہ اپنے گھر کی بالکونی میں بیٹھ کر چائے پی رہا ہے اور ساتھ ڈائجسٹ پڑھ رہا ہے کہ اسی دوران اس کی بیوی بھی نہا کر بالکونی پر آ جاتی ہے اور تولیے کے ساتھ اپنے بال خشک کررہی ہے کہ اچانک اس کی نظر چاند پر پڑتی ہے۔ چاند کو دیکھ کر اس کی بیوی یوسف سے مخاطب ہو کر کہتی ہے: یوسف ! دیکھو چاند کتنا خوبصورت لگ رہا ہے۔ یوسف چاند کو دیکھتا ہے پھر اپنی بیوی کو دیکھتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ چاند واقعی خوبصورت لگ رہا ہے لیکن آ پ چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ دس سال گزرنے کے بعد پھر اسی طرح کا سین ہوتا ہے۔ یوسف کی بیوی اس سے کہتی ہے کہ دیکھو چاند کتنا خوبصورت لگ رہا ہے اس کے جواب میں یوسف کہتا ہے کہ چاند بھی خوبصورت لگ رہا ہے اور آ پ بھی خوب صورت لگ رہی ہیں۔ پھر دس سال کے بعد اسی طرح کا سین ہوتا ہے یوسف کی بیوی اس سے کہتی ہے کہ دیکھو چاند کتنا خوبصورت لگ رہا ہے اس کے جواب میں یوسف کہتا ہے کہ ظاہر ہے وہ چاند ہے خوبصورت ہی لگے گا پھر دس سال کے بعد جب یوسف کی عمر ساٹھ سال کے قریب پہنچ جاتی ہے اسی طرح کا سین ہوتا ہے یوسف کی بیوی اس سے کہتی ہے کہ یوسف دیکھو چاند کتنا خوبصورت لگ رہا ہے اس بار یوسف غصے میں آ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ چاند میں نکالتا ہوں مجھے کیوں پوچھ رہی ہو میرا چاند سے کیا تعلق ہے۔‘‘
یوسف کے اس واقعے سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ جب بندہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو یہ فیصلہ ہو جاتا ہے کہ چاند زیادہ خوبصورت ہے یا بیوی گویا جوانی میں یا شادی کے ابتدائی سالوں میں جو وقت یہ تعین کرنے میں صرف ہوتا تھا کہ چاند زیادہ خوبصورت ہے یا بیوی وہ وقت ساٹھ سال کی عمر میں بچ جاتا ہے جو پی ایچ ڈی کرنے کے لیے کافی ہے۔
آ خر میں میری ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین سے درخواست ہے کہ جس طرح سرکاری ملازم کو پی ایچ ڈی کرنے پر دس ہزار روپے ماہانہ الاؤنس ملتا ہے اسی طرح پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے افراد اور وہ بیچارے بوڑھے افراد جو ریٹائرمنٹ کے بعد پی ایچ ڈی کرتے ہیں انہیں بھی دس ہزار روپے ماہانہ الاؤنس دیا جائے۔

ٹیگز: