Wed, September 16, 2026

محبت اور احساس کی شاعری کے شاہکار منیر نیازی کی 19 ویں برسی

محبت اور احساس کی شاعری کے شاہکار منیر نیازی کی 19 ویں برسی

لاہور (26 دسمبر 2025): اردو اور پنجابی ادب کے عظیم شاعر منیر نیازی کی آج 19 ویں برسی ہے۔ ان کی شاعری میں ماضی کی گمشدہ یادیں، ٹوٹے رشتوں کا دکھ اور تنہائی کے احساسات بڑی شدت سے جھلکتے ہیں۔ ان کا منفرد اسلوب آج بھی قارئین کے دلوں کو چھو جاتا ہے۔

منیر نیازی کا شمار اردو اور پنجابی کے بڑے شعراء میں کیا جاتا ہے۔ وہ 9 اپریل 1928 کو ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے، اور پاکستان کے قیام کے بعد لاہور آ کر اپنی شاعری کے ذریعے ادب کی دنیا میں ایک نئی روشنی لے کر آئے۔ ان کی شاعری نے اردو ادب کو ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔

منیر نیازی کے اردو کے 13، پنجابی کے 3 اور انگریزی کے 2 مجموعے شائع ہوئے، جن میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، سفید دن کی ہوا اور ماہ منیر جیسے اہم مجموعے شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں جنگل اور اس سے جڑی علامات کا استعمال بہت خوبصورتی سے کیا گیا، جو ایک منفرد رنگ میں نظر آتا ہے۔ ان کی شاعری میں ماضی کی دھندلاہٹ، کھوئے ہوئے لمحے اور رشتہ کی ایک نرم سی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔

ان کی بے مثال ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز جیسے بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔ منیر نیازی 26 دسمبر 2006 کو لاہور میں وفات پا گئے، لیکن ان کی شاعری آج بھی دلوں میں زندہ ہے، اور ہر نسل کے لیے ایک میٹھا یادگار ہے۔

ٹیگز: