Wed, September 16, 2026

قاتل منشیات

 قاتل منشیات

منشیات انسان کی صحت، معاشرت اور معیشت پر ایسا کاری وار کرتی ہیں کہ ان کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر ’’قاتل منشیات‘‘ کہا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ جسمانی صحت کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور سماجی رشتوں کو بھی نگل لیتی ہیں۔ ابتدائی طور پر نشہ آور اشیاء وقتی سکون یا خوشی کا دھوکہ دیتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ آہستہ آہستہ انسان کے اعصاب، اعضاء اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ منشیات کا استعمال محض ایک فرد کی ذاتی کمزوری نہیں رہتا بلکہ خاندان کے ٹوٹنے، جرائم کے بڑھنے اور معاشرے کے اخلاقی زوال کا سبب بن جاتا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد منشیات کی وجہ سے ہر سال اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ نشے کی لت میں مبتلا افراد علاج کے بجائے اکثر جرم، چوری، دھوکہ دہی اور تشدد جیسے راستوں پر نکل پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین سماجیات اور معالجین منشیات کو صرف ’’صحت کا مسئلہ‘‘ نہیں بلکہ ایک قتلِ عام پر مبنی سماجی ناسور قرار دیتے ہیں۔
پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں بیروزگاری، ناانصافی، معاشی دباؤ اور ذہنی دباؤ منشیات کے بڑھتے استعمال کے بڑے اسباب ہیں۔ نوجوان نسل، جو کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے، سب سے زیادہ اس تباہی کا شکار ہے۔ یہ قاتل منشیات ایک طرف ان کی تعلیم اور مستقبل چھین لیتی ہیں تو دوسری طرف خاندان اور معاشرے پر بھی بوجھ ڈال دیتی ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ منشیات کوئی عام بیماری نہیں بلکہ یہ ایک خاموش قاتل ہے جو جسم اور روح دونوں کو نگل جاتا ہے۔ اس کے انسداد کے لیے صرف قانون نافذ کرنا کافی نہیں، بلکہ عالمی سماجی شعور، تعلیمی اصلاحات، خاندانی نگرانی اور ریاستی سطح پر مربوط پالیسی ناگزیر ہیں۔
بھارت منشیات کی پیداوار، تیاری، تجارت اور سمگلنگ کا علاقائی اور بین الاقوامی مرکز بن چکا ہے۔ ان منشیات میں افیون، گانجا اور چرس وغیرہ شامل ہیں۔ غیرقانونی منشیات افیون، گانجا اور چرس کے علاوہ ہیروئن بھی بھارت کے راستے دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچتی ہے۔ بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب اور اتر پردیش بھارت میں منشیات کی پیداوار، سمگلنگ اور استعمال کے گڑھ ہیں۔ ان ریاستوں میں میں بھارتی حکومت دکھاوے کی حدتک کارروائی کے علاوہ کچھ نہیں کرتی جس کی وجہ سے پورے بھارت بالخصوص مذکورہ ریاستوں میں منشیات کا غیر قانونی کاروبار عروج پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق ناجائز منشیات کی سب سے زیادہ پیداوار اتر پردیش (یوپی) مہا راشٹر اور پنجاب میں ہوتی ہے۔ بھارت میں منشیات کے غیر قانونی کاروبار کا فائدہ دہشت گرد تنظیموں کو بھی پہنچ رہا ہے جو براہ راست اس کاروبار میں ملوث ہیں۔ 
 اقوام متحدہ کی اینٹی ڈرگ ایجنسی UNODC کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت عالمی سطح پر منشیات کی سمگلنگ کا مرکز بن چکا ہے، جس کے باعث لاکھوں زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے ’’ڈی ڈبلیو‘‘ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بھی بھارت میں منشیات کی سمگلنگ کے راستے اور طریقے مزید جدید ہو چکے ہیں، جس سے اس غیر قانونی کاروبار میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت غیر قانونی منشیات اور کیمیکل کی سمگلنگ کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے، جہاں سے میانمار، وسطی امریکہ اور افریقہ تک منشیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اینٹی ڈرگ ایجنسی کے مطابق بھارت بین الاقوامی سطح پر وسطی افریقہ کو غیر قانونی منشیات کی سپلائی میں بھی ملوث ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی نے بھارت سے سمگل کی گئی غیر قانونی افیونی دوا ٹراماڈول ضبط کی ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ نائیجیریا میں 40 لاکھ سے زائد افراد بھارت سے سمگل شدہ افیون استعمال کر رہے ہیں، نائیجیرین حکام کے مطابق 2018 میں حکومت نے بھارت سے افیونی ادویات کی درآمد پر پابندی عائد کردی تھی، اس کے باوجود سرحد پار سے سمگلنگ کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھارت سے غیر قانونی طور پر افیون گھانا بھیجی جاتی ہے، جہاں سے یہ منشیات گھانا کی سرحد عبور کر کے نائیجیریا پہنچتی ہیں۔
یہ حقیقت اب مزید کھل کر دنیا کے سامنے آ چکی ہے بھارت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں منشیات کی پیداوار، تیاری اور سمگلنگ میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ بھارت کی جغرافیائی صورتحال، سرحدی علاقوں کی پیچیدگیوں، غیر قانونی منشیات کے نیٹ ورک کی حکومتی پشت پناہی نے بھارت کو عالمی منشیات کے کاروبار کا اہم مرکز بنا دیا ہے۔ غیر قانونی منشیات کی سمگلنگ نہ صرف بھارت بلکہ عالمی معاشرتی، اقتصادی اور صحت کے نظام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ منشیات کی روک تھام دنیا کے کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس مسئلے کے حل کیلئے عالمی سطح پر تعاون اورکوششوں کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
بھارت میں بڑے پیمانے پر منشیات کی پیداوار، تیاری اور سمگلنگ حکومتی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں اس لیے بھارت کیخلاف عالمی سطح پراقدامات کی ضرورت ہے، بھارتی حکومت جب تک منشیات کی غیر قانونی پیداوار، تیاری اور سمگلنگ کیخلاف ٹھوس اقدامات نہیں اٹھاتی تب تک اس کیخلاف سخت معاشی اور تجارتی پابندیوں کے ساتھ دیگر اقدامات اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

ٹیگز: