سلووینیا : یورپی ملک سلووینیا نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو پر سفری پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ سلووینیا کی جانب سے گزشتہ سال فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرنے کے بعد کیے گئے کئی اقدامات میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل، سلووینیا نے اسرائیلی کابینہ کے دو دائیں بازو کے وزرا پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں۔
سلووینیا کی وزارتِ خارجہ کی اسٹیٹ سیکرٹری نیوا گراشچ نے کہا کہ "اس اقدام کا مقصد سلووینیا کی اصولی اور مستقل خارجہ پالیسی کی تائید کرنا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے احترام پر مبنی ہے۔"
اس فیصلے کے تحت، سلووینیا نے اسرائیل کو اسلحے کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے اور اسرائیلی زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں میں تیار ہونے والی اشیاء کی درآمد بھی روک دی ہے۔ نیوا گراشچ نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو پر غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات ہیں، جو عالمی عدالتِ انصاف میں زیرِ سماعت ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سلووینیا اس فیصلے کے ذریعے اسرائیل کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں اور انسانی قوانین کی مکمل پیروی کی توقع کرتا ہے۔
یہ اقدام سلووینیا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بن سکتا ہے، اور یہ ایک اہم پیغام بھی دیتا ہے کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔