Wed, September 16, 2026

کلاسیکی موسیقی کے شہنشاہ اسد امانت علی خان کی آج 70 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

کلاسیکی موسیقی کے شہنشاہ اسد امانت علی خان کی آج 70 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

لاہور : آج ہم کلاسیکی موسیقی کے ایک عظیم فنکار، اسد امانت علی خان کی 70 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ 25 ستمبر 1955 کو لاہور میں جنم لینے والے اسد امانت علی خان نے اپنے والد استاد امانت علی خان سے گائیکی کا ورثہ حاصل کیا، لیکن انہوں نے اپنے منفرد انداز سے موسیقی کی دنیا میں اپنی الگ پہچان بنائی۔

بس دس سال کی عمر میں گائیکی کا آغاز کرنے والے اسد امانت علی خان نے اپنے خاندان کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے کلاسیکی اور غزل کی دنیامیں نئی بلندیوں کو چھوا۔ ان کی آواز میں وہ جادو تھا جو ہر دل کو چھو جاتا تھا۔

ابتدائی شناخت انہیں اپنے والد کی گائی ہوئی غزل "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" سے ملی، مگر اصل شہرت "عمراں لنگھیاں پباں بھار" جیسی غزلوں نے دی۔ ان کے مشہور گانے جیسے "کل چودھویں کی رات تھی"، "آنکھیں غزل ہیں آپ کی" اور "گھر واپس جب آؤ گے تم" آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے 2007 میں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ بدقسمتی سے وہی سال لندن میں ان کا انتقال ہو گیا، مگر ان کی موسیقی آج بھی ہر نسل کو محظوظ کر رہی ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔

ٹیگز: