Wed, September 16, 2026

حکمران اور سیلاب زدگان

 حکمران اور سیلاب زدگان

دعاہے ہمارے حکمرانوں کے بیرونی دورے ختم ہوں اس کے بعد کچھ اندرونی دورے بھی اْنہیں پڑیں ، وہ اْن سیلاب زدہ علاقوں میں بھی جائیں جہاں زندگی تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے یا پھر ایسی زندگی رہ گئی ہے جس کے بعد موت لوگوں کو زیادہ اچھی لگنے لگتی ہے، جیسے سیف الدین سیف نے کہا تھا’’موت سے ترے درد مندوں کی ، مشکل آسان ہوگئی ہوگی‘‘ ، سیلاب زدہ علاقوں میں حکمرانوں کا جانا اس لیے بھی ضروری ہے اْنہیں خوش ہونے کا موقع ملے کہ جو حالت اْنہوں نے بڑی جدوجہد سے اپنے عوام کی کر دی ہے وہی حالت عوام نے اْن کی نہیں کر دی کیونکہ عوام بھی’’غیرت‘‘ کے تقریباًاْسی لیول پر ہیں جس لیول پر حکمران ہیں ، کس قدر بے بسی ہے سوائے حکمرانوں کو بد دعائیں دینے کے بیچارے عوام کچھ نہیں کر سکتے یا پھر تھوڑی بہت جْرأت کر کے حالات کا مارا ہوا کوئی شخص ایک آدھ گالی دے کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتا ہے ، یا شاید یہ سوچ کر دل کا بوجھ مزید بڑھا لیتا ہے کہ سوائے اس کے وہ بیچارہ کچھ نہیں کر سکتا ، یہاں تو دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی بھی اب بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے ، کسی حکمران کو ذرا سا کوئی برا بھلا کہہ لے اْس پر بڑے بڑے مقدمات بنا دیے جاتے ہیں ، اْس کا سافٹ ویئر اپڈیٹ کرنے کے لئے ہر گھٹیا حربہ آزمایا جاتا ہے ، بندہ پوچھے کسی پر پریشر ڈال کر اس کا سافٹ ویئر اپڈیٹ کر کے اْس کا دل جیتا جا سکتا ہے ؟ یا اْس کی رائے بدلی جاسکتی ہے؟ اظہار رائے کی آزادی کو جس طرح اس دور میں کچلنے کی گھٹیا کوششیں ہوئیں، ایسی گھٹیا کوشش اس سے پہلے بہت کم ہمیں دیکھنے اور سننے کو ملتی ہے ، ان حالات میں جو سچ بول رہے ہیں ،جو کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کر رہے ، حتیٰ کہ جو درمیانی راستہ نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ، تاریخ اْنہیں ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کرے گی اور جو صرف ’’سرکاری سچ‘‘ بولتے لکھتے اور دکھاتے ہیں اْن کی بد کرداری بھی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی ، وزیراعلیٰ مریم نواز کے سیلابی علاقوں کے مسلسل دوروں کے مقاصد سیاسی و نمائشی ہیں یا وہ واقعی متاثرین کے دکھوں میں دل سے شرکت فرماتی ہیں ؟ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ، میرا مسئلہ یا دْکھ یہ ہے سیلاب ہر سال ہماری سیکڑوں ایکڑ فصلیں برباد کر دیتے ہیں ، ہمارے سیکڑوں لوگوں کی جانیں چلی جاتی ہیں، سیکڑوں لوگ بے گھرہو جاتے ہیں ، سیکڑوں مویشی ہلاک ہو جاتے ہیں ، یہ سلسلہ قیام پاکستان سے لے کر ابھی تک جاری ہے اس کے تدارک یا حل کا کوئی مستقل بندوبست کیوں نہیں کیا جاتا ؟ کیا مستقل بندوبست اس لئے نہیں کیا جاتا کہ سیلاب میں حکمرانوں کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا موقع مل جاتا ہے ؟ یا دنیا کو یہ دکھانے کا موقع مل جاتا ہے وہ اپنے عوام کے کتنے ہمدرد ہیں ؟ کیا سیلاب سے نمٹنے کا واحد حل یہ رہ گیا ہے سیلاب سے متاثرہ کسی دْکھی عورت کے منہ سے کہلوا لیا جائے اْس نے اپنے بچے کا نام نواز شریف رکھا ہے ؟ وہ تو شْکرہے کہیں اس بات کا موقع پر بْرا نہیں منالیا گیا کہ تمہاری جرأت کیسے ہوئی تم نے اپنے بچے کا نام نواز شریف رکھا، نواز شریف دنیا میں صرف ایک ہے ، اْس جیسا کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا ، ہمارے ایک صحافی بھائی طارق بزمی نے انکشاف کیا ہے ’’ڈی سی بہاول نگر نے وزیراعلیٰ کی خوشنودی کے لیے ایک بچی بلقیس کو مریم نواز شریف اور ایک بچے ثقلین کو نواز شریف بنا دیا، دونوں بچوں کے نام وزیراعلیٰ کے وزٹ  سے پہلے مْک مْکا کر کے تبدیل کیے گئے‘‘ ، مجھے اس بات کا ابھی تک یقین اس لیے نہیں آرہا یہ بات اگر درست ہوتی ڈپٹی کمشنر کو اب تک کمشنر کے عہدے پر ترقی مل گئی ہوتی ، ممکن ہے اس کار خیر پر نمائشی ڈپٹی کمشنر کو کچھ دنوں بعد انعام یا ترقی دی جائے، بعض اوقات فوری انعام یا ترقی دینے سے کچھ راز یا کٹے فوری کھل جاتے ہیں جن کا نقصان ہوتا ہے ، ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کچھ زیادہ ہی نمائشی لگتے ہیں ، لگتا ہے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے وزیر اعلیٰ مریم نواز کی شہرت کو وہ بہت پیچھے چھوڑ کر بہت آگے نکل جانا چاہتے ہیں ،اس مقصد کے لیے چالاکی وہ یہ کرتے ہیں سیلاب زدگان کی مدد کرتے ہوئے ایک آدھ جملہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے حق میں بول دیتے ہیں تاکہ خوشامد کی سند رہے اور اْنہیں کوئی نقصان نہ پہنچے ،ہماری بیوروکریسی ایسے مکار عیار اور چالاک افسروں سے بھری پڑی ہے ، بڑے مزے کا ایک واقعہ مجھے یاد آگیا جو میرے محترم قاضی آفاق حسین مرحوم نے مجھے سنایا تھا ، وہ سینئر بیوروکریٹ تھے ایک بار اپنے ایک کولیگ کے ساتھ اس وقت کے وزیراعلیٰ میاں منظور وٹو کے حضور اْنہیں پیش ہونا تھا، میٹنگ سے پہلے اْن کے کولیگ نے اْن سے کہا ’’دوران میٹنگ وزیراعلیٰ کی تعریف میں کوئی جملہ نہیں کہا جائے گا‘‘قاضی آفاق حسین نے اْن سے اتفاق کر لیا، مگر طے شْدہ فیصلے کے برعکس دوران میٹنگ اْن کے کولیگ نے وزیراعلیٰ کے سامنے اْن کی خوشامد کی انتہا کر دی، قاضی آفاق حسین بڑے حیران ہوئے ، باہر نکلے تو اْنہوں نے اپنے کولیگ سے کہا ’’تم نے تو خود کہا تھا وزیراعلیٰ کی تعریف میں ایک جملہ نہیں کہنا ،پھر تم نے اتنی خوشامد کیوں کی ؟، اس پر ایک زبردست قہقہہ اْن کے بیوروکریٹ کولیگ نے لگایا اور کہا ’’یار میں اصل میں یہ چاہتا تھا کہیں ایسا نہ ہو وزیراعلیٰ کی خوشامد میں تم مجھ سے آگے نکل جاو‘‘ ، ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ آج کل خوشامد میں اپنے تمام سینئر کولیگز سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں ،کچھ سینئر کولیگز اس پر شاید خوش بھی ہوتے ہوں گے اْن کے حصے کی خوشامد کی ذمہ داریاں یا فرائض اْن کا ماتحت ڈپٹی کمشنر ہی پوری کر دیتا ہے ، جہاں تک وزیر اعلیٰ مریم نواز کے سیلابی علاقوں میں دوروں کا تعلق ہے متاثرین سیلاب کا ہرگز یہ حق نہیں بنتا وہ اْس وزیراعلیٰ سے امداد کی توقعات وابستہ کریں جس کی جماعت کو اْنہوں نے ووٹ ہی نہیں دئیے ، اس کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب نمائشی طور پر ہی سہی اْن کی مدد کو پہنچ رہی ہیں اور اس مقصد کے لیے اْنہوں نے اپنے وزیروں اور افسروں کو بھی مکمل طور پر متحرک کر رکھا ہے یہ اْن کی مہربانی ہے ورنہ وہ یہ سوچ کر گھر میں بھی بیٹھ سکتی تھیں یا اپنے چچا کے ساتھ بیرونی دورے پر بھی جا سکتی تھیں کہ اس عوام یعنی سیلاب متاثرین نے کون سا ہمیں اپنے ووٹوں سے نوازا یا شہبازا ہے جو میں دلدل زدہ علاقوں میں جا کر ان کی مدد کے لیے خوار ہوتی پھروں ؟ یا آگے کون سا اس عوام نے ہمیں اپنی حمایت سے نوازنا یا شہبازنا ہے جو میں رات دن ان کے لیے ایک کر دوں ؟ ، جب حکمرانوں کو یقین ہو اْنہوں نے عوام کے ووٹوں سے جیت کر اقتدار میں نہیں آنا ، فارم 47 کی بنیاد پرہی آنا ہے اس کے باوجود وہ عوام کی خدمت کریں یہ اْن کا بڑا پن ہے ، جس پر ہم اْنہیں خراج تحسین پیش نہیں کریں گے یہ ہمارا چھوٹا پن ہوگا۔

ٹیگز: