Wed, September 16, 2026

پاکستان کی کامیاب حکومتی سفارتکاری اور عسکری ڈپلومیسی کی عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی

پاکستان کی کامیاب حکومتی سفارتکاری اور عسکری ڈپلومیسی کی عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی

اسلام آباد : پاکستان کی حکومتی اور عسکری سفارت کاری نے عالمی سطح پر نئی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جسے فارن پالیسی جریدے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں "خطے کا سفارتی فاتح" قرار دیا ہے۔ جریدے کے مطابق، پاکستان نے پچھلے چند ماہ میں اپنی خارجہ پالیسی کو مؤثر انداز میں آگے بڑھاتے ہوئے عالمی منظرنامے پر اہم تبدیلیاں کی ہیں۔

پاکستان نے امریکہ، چین، سعودی عرب، ترکیہ، ایران اور ملائیشیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئے سنگِ میل تک پہنچایا ہے، جو ملک کی سفارتی بحالی اور حکمتِ عملی کا عکاس ہیں۔ خاص طور پر، امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور داعش خراسان کے دہشت گرد کی گرفتاری نے پاکستان کے لیے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ایک نیا باب کھولا ہے۔

پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیاں اور اس کے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ امریکی سینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا نے پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو "غیر معمولی" قرار دیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور چین کے ساتھ اقتصادی و دفاعی تعاون میں اضافے سے پاکستان کی عالمی پوزیشن میں مزید مضبوطی آئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ اور پاکستان کے بڑھتے تعلقات نے بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں فاصلے پیدا کیے ہیں، جس سے پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک نئی جگہ ملنے کا موقع ملا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی غزہ امن کانفرنس میں شرکت اور امریکی سرمایہ کاری کے معاہدے نے بھی پاکستان کی عالمی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا ہے۔

فارن پالیسی نے یہ بھی ذکر کیا کہ پاکستان نے غیر نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود امریکہ، چین اور سعودی عرب کے ساتھ بیک وقت تعلقات مستحکم کر کے ایک نئی سفارتی حکمتِ عملی کو جنم دیا ہے، جس سے اسلام آباد عالمی منظرنامے پر ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر چکا ہے۔

ٹیگز: