پھر سوشل میڈیا پر ایک ایسی خبر دیکھی جس نے دل ہلا کر رکھ دیا۔دو طالبات نے نمبر کم آنے کی وجہ سے اپنی جان لے لی۔میں نہیں جانتا کہ اس میں کتنی صداقت ہے، مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کوئی نئی خبر نہیں۔ایسے دل دہلا دینے والے واقعات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔کبھی چند نمبروں کی کمی، کبھی کسی موازنے، کبھی معاشرتی دباؤ کے باعث، ہمارے بچے اپنی قیمتی زندگیاں گنوا بیٹھتے ہیں۔میں نے پچھلے دنوں میٹرک کے نتائج کے موقع پر بھی اسی موضوع پر لکھا تھا، مگر آج پھر قلم اٹھانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔کیونکہ ہم اب تک یہ سادہ سی بات نہیں سمجھ پائے کہ نمبر ہی سب کچھ نہیں ہوتے۔ہم نے اپنے تعلیمی نظام کو کامیابی کا واحد پیمانہ گریڈ اور نمبر بنا دیا ہے۔بچوں کو شروع دن سے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اچھے نمبر لانے والے ہی کامیاب ہیں، باقی سب ناکام۔ گھر، سکول اور سوشل میڈیا ، ہر جگہ بچوں کو موازنوں کے ترازو میں تولا جا رہا ہے۔
’’دیکھو فلاں کے کتنے نمبر آئے ہیں؟‘‘
’’فلاں نے اے ون گریڈ لیا، تم نے کیوں نہیں؟‘‘
یہ جملے بظاہر عام لگتے ہیں، مگر ان کے اثرات اندر تک زہر گھول دیتے ہیں۔
جب ہر طرف سے دباؤ بڑھتا ہے تو ایک حساس ذہن اس بوجھ کو برداشت نہیں کر پاتا۔ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر بچہ الگ ہے، ہر ذہن کی اپنی رفتار اور سمت ہوتی ہے۔کسی کی صلاحیت الفاظ میں ہے، کسی کی ہاتھ کے ہنر میں، کسی کی تخیل میں۔۔ مگر ہم سب کو ایک ہی پیمانے پر پرکھتے ہیں۔
خدارا!:اپنے بچوں کو نمبر حاصل کرنے والی مشین نہ بنائیں۔انکا دوسروں کے بچوں سے موازنہ نہ کریں۔ان کی فطری صلاحیتوں کو پہچانیے، ان کی حوصلہ افزائی کیجیے۔
یاد رکھیے !:اچھے نمبر لینا اچھی بات ہے، مگر زندگی میں کامیاب ہونا صرف نمبروں سے ممکن نہیں۔اصل چیز علم، فہم، کردار اور شعور ہے۔بدقسمتی سے ہمارا نظام تعلیم بچوں کو سوچنے، سوال کرنے اور سمجھنے کے بجائے رٹّا لگانے کی تربیت دیتا ہے۔ہم دانشور نہیں، نمبروں کی مشینیں پیدا کر رہے ہیں۔دنیا کے کامیاب ترین لوگوں کی فہرست بنا لیجیے،آپ کو ان میں سے زیادہ تر وہی ملیں گے جن کے نمبر کبھی بہت اچھے نہیں تھے۔ایوریج نمبر ہونے کے باوجود وہ آج دنیا پر راج کر رہے ہیں اور حیرت انگیز طور پر وہی لوگ جنہوں نے کلاسوں میں ٹاپ کیا تھا،اکثر انہی کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔کیونکہ کامیابی نمبروں کی نہیں، قابلیت کی محتاج ہے۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں کم نمبر لینے کی تلقین کر رہا ہوں یا زیادہ نمبر لینے والوں کو discourage کر رہا ہوں۔ نہیں ، آپ اپنی پوری محنت کریں، اپنا بہترین دیں، اور پھر اللہ پر چھوڑ دیں۔لیکن خدارا، اگر نمبر کم آ جائیں تو اپنی جان کو اتنا سستا نہ کریں۔اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی الگ صلاحیت رکھی ہے۔کوئی کتابوں میں اچھا ہوتا ہے تو کوئی عملی زندگی میں کمال دکھاتا ہے۔پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ تعلیم کے باوجود نوکری کیوں نہیں ملتی، کامیابی کیوں نہیں ملتی؟کیونکہ نوکری قابلیت سے ملتی ہے، کامیابی شعور اور کردار سے ملتی ہے ، صرف نمبروں سے نہیں۔میری والدین اور تعلیمی اداروں سے التجا ہے:ان معصوم زندگیوں پر رحم کیجیے۔ان کے خوابوں کی قدر کیجیے۔انہیں اپنی رفتار سے چلنے دیجیے۔انہیں سکھائیے کہ زندگی نمبروں سے بڑی چیز ہے۔ورنہ یہ خودکشی کے کیسز بڑھتے جائیں گے اور ایک دن یہ سب کچھ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔