شادی کی عمر مقرر کرنے کا پاکستان کی قومی اسمبلی نے جو بل منظور کیا ہے، وہ محض کاغذ پر ایک قانون نہیں بلکہ ان لاکھوں خاموش بیٹیوں کی آواز بھی ہے جن کی معصومیت کو رسم و رواج کے نام پر نگل لیا جاتا ہے۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچیوں کی شادی پر پابندی، والدین یا سرپرستوں کو سزا کا تصور، اور نکاح خوانی کرنے والوں کے خلاف کارروائی۔ یہ سب ایک ایسی سماجی تبدیلی کی بنیاد رکھتے ہیں جو دیر سے آئی ہے مگر یہ طے تھا کہ آنی ضروری تھی۔ مگر کیا یہ قانون اکیلے ان گھناؤنے اعدادوشمار کو مٹا پائے گا جو اخبارات کی زینت بن چکے ہیں؟ واضح رہے کہ پندرہ اپریل 2024 میں لاہور ہائی کورٹ نے شادی کی عمر کم از کم 18 برس کرنے اور 95 برس پرانے قانون میں 15 دن میں ترمیم کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اذکا واحد کی درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئینی درخواست کے ذریعے 1929 میں بنے کم عمری کی شادی کی روک تھام کے قانون میں لڑکی اور لڑکے کی شادی کیلئے کم از کم عمر میں فرق سے متعلق دفعات 2 اے اور بی کی تعریف کو آئین میں درج مساوات کے حقوق کے آرٹیکل سے متصادم قرار دے کر کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے اس بل کو ریاستی قانون بنا دیا ہے۔
کم عمری کی شادیاں بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں، پاکستان میں کئی بچے چائلڈ میرج کا شکار ہیں اور یہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ نسبتاً لڑکیاں زیادہ کم عمری کی شادی کی شکار ہیں۔ چائلڈ میرج ان کو نا صرف تعلیم سے محروم کرتی ہے بلکہ وہ کئی صحت کے مسائل سے بھی دوچار ہو جاتی ہیں۔ یونیسف اور دیگر اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 21 فیصد لڑکیوں کی 18 برس کی عمر سے قبل شادی کر دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں 3 فیصد لڑکیوں کی 15 سال عمر ہونے سے پہلے ہی شادی کر دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ حمل اور بچوں کی پیدائش کی پیچیدگیاں 15 سے 19 سال والی ماؤں
کی موت کا بھی سبب بنتی ہیں جبکہ کم عمری کی شادی غربت اور نسل در نسل غذائیت کی کمی کو برقرار رکھتی ہے۔ بلوچستان جیسے صوبوں میں یہ شرح 32 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ وہ بچیاں ہیں جو نہ تو جسمانی طور پر ماں بننے کے لیے تیار ہوتی ہیں، نہ ذہنی طور پر، مگر انہیں بیاہ دیا جاتا ہے اور پھر وہ ایک اور نسل کو جنم دیتی ہیں جو خود کمزور اور ناتواں ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، پاکستان میں ہر سال 5 ہزار سے زائد لڑکیاں زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، اور ان میں سے اکثریت وہ ہوتی ہیں جن کی عمریں 15 سے 19 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔
یہ صرف اعدادوشمار نہیں، یہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر داغ ہیں۔ لاڑکانہ کی نائلہ جس کی کہانی اخباروں کی زینت بنی، وہ اس نظام کا شکار ہوئی جہاں غربت نے اس کے چچا کو مجبور کیا کہ وہ اسے ایک بوڑھے آدمی کے حوالے کر دے۔ نائلہ کی عمر بارہ سال تھی جب اس نے پہلی بار ماں بننے کا درد سہا اور پھر وہ درد اس کی زندگی کا حصہ بن گیا۔ یا پھر رخسانہ کی کہانی جس نے تیرہ سال کی عمر میں شادی کی اور چوتھے بچے کو جنم دیتے ہوئے اپنی جان گنوا بیٹھی۔ یہ کہانیاں سن کر ہم سب کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ کہانیاں ہمارے اردگرد بھی جنم لے رہی ہیں؟ ہمارے گاؤں، ہمارے شہروں کی گلیوں میں بھی نائلہ اور رخسانہ موجود ہیں، جن کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر رہ جاتی ہے۔ کم عمری کی شادی صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں، یہ ایک معاشی اور صحتی بحران بھی ہے۔ جو بچیاں کم عمری میں شادی کر لیتی ہیں، ان میں غذائی قلت اور خون کی کمی کی شرح 60 فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے ہونے والے بچے بھی کم وزن اور کمزور پیدا ہوتے ہیں، جو بعد میں زندگی بھر امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تعلیم سے محروم یہ لڑکیاں نہ صرف اپنے حقوق سے ناواقف ہوتی ہیں، بلکہ وہ اپنی اولاد کو بھی شعور نہیں دے پاتیں۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جو غربت، جہالت اور بیماریوں کو ہوا دیتا ہے۔ مگر اس چکر کو توڑنے کے لیے صرف قانون کافی نہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جن علاقوں میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے، وہاں تعلیم تک رسائی کتنی ہے؟ بلوچستان میں لڑکیوں کے لیے سکول جانے کی شرح 30 فیصد سے کم ہے، جبکہ سندھ کے دیہی علاقوں میں 40 فیصد لڑکیاں پرائمری تعلیم بھی مکمل نہیں کر پاتیں۔ جب تک ہم ان بچیوں کو سکولوں تک نہیں پہنچائیں گے، تب تک ہم انہیں گھروں تک محدود ہونے سے نہیں روک سکتے۔
قانون ایک اہم قدم ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں سماجی رویوں کو بدلنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ کتنے گھرانوں میں آج بھی یہ سوچ موجود ہے کہ لڑکیوں کو جلد بیاہ دینا ہی بہتر ہے؟ کتنے علاقوں میں آج بھی یہ رسم ہے کہ قرضے چکانے کے لیے بچیوں کا رشتہ کر دیا جاتا ہے؟ کتنے دیہاتوں میں آج بھی مذہبی رہنما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کم عمری کی شادی کو روکنا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کے بغیر ہم اس جنگ کو نہیں جیت سکتے۔ ہمیں مذہبی اسکالرز، قبائلی رہنماؤں اور مقامی لیڈروں کو اس جدوجہد میں شامل کرنا ہوگا۔ ہمیں ان گھرانوں تک پہنچنا ہوگا جو غربت کی وجہ سے اپنی بچیوں کی شادی جلد کر دیتے ہیں اور انہیں متبادل راستے دکھانے ہوں گے۔ یہ جنگ صرف حکومت یا قانون ساز اداروں کی نہیں، یہ ہم سب کی جنگ ہے۔ معاشروں کی ترقی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں کہ انہوں نے کتنے پل، سڑکیں یا قانون بنائے، بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ اپنے کمزور اور ناتواں طبقات کو کس حد تک محفوظ رکھتے ہیں اور بچوں سے بڑا کمزور طبقہ کون سا ہو سکتا ہے؟ ایک باشعور معاشرہ وہی ہے جو اپنے بچوں کو تحفظ دے، تعلیم دے، وقت دے اور سب سے بڑھ کر بچپن دے۔یہ قانون اس جانب ایک قدم ضرور ہے، لیکن سفر ابھی باقی ہے۔ یہ سفر ان ذہنوں کو بدلنے کا ہے جو اسے اب بھی روایت سمجھتے ہیں۔ یہ لڑائی اس سوچ کے خلاف ہے جو بچیوں کو بوجھ سمجھتی ہے اور یہ جدوجہد اس دن تک جاری رہنی چاہیے جب کسی نائلہ، رخسانہ یا ثمینہ کو اپنی عمر سے پہلے ماں بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔قانون نے دروازہ کھولا ہے۔ اب یہ سماج کی ذمہ داری ہے کہ اس دروازے سے روشنی اندر آنے دے۔