Wed, September 16, 2026

پاکستانی سپہ سالار کی دھوم الحمدللہ

پاکستانی سپہ سالار کی دھوم الحمدللہ

پاکستان کی تاریخ میں اس وقت جس سپہ سالار کا نام لکھا جارہا ہے وہ بھارت کے لئے عسکری محاذ پر تو دہشت اور خوف کی علامت تھا ہی۔ اب بین الاقوامی سیاسی بساط پر بھی اس کے نام کا ڈنکا بج رہا ہے جی ہاں سپہ سالارا عظم عاصم منیر اردو فارسی کا تو محاورہ ہے کہ ”ہاتھ کنگن کو آدسی کیا پڑھے لکھے کو فارسی کو“ پنجابی میں کہتے ہیں ” حسن وہ جس کی تعریف سوتن بھی کرے“ سو ہو رہی ہے سو جان سے جل کر بھی بھارت عاصم منیر کا نام لے لے کر اپنے جرنیلوں اور وزیراعظم ”مودی“ کی جہالت اور غلط سیاست پر تنقید سے دھجیاں اڑا رہا ہے۔
مودی جو گزشتہ طویل عرصہ سے اسرائیل سے تعلق بڑھا رہا تھا ایران کا دم بھر رہا تھا امریکہ کے گلے پڑ رہا تھا (یاد رہے کہ مودی کے زبردستی عالمی رہنماﺅں سے گلے ملنے کو بھی ہدف تنقید بنایا جاہا ہے) مگر اس سب کے باوجود کہ اس نے پاکستان کو عالمی فقیر مشہور کرنے کی کوشش کی ناکام ریاست کہا دہشت گردوں کی نرسری گردانا مگر ہوا کیا؟ جب ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت ہوئی تو ایک لفظ تعزیت کا نہ کہا جبکہ پاکستان نے امریکی موافقت کو مدنظر رکھ کر بھی ایران سے برادرانہ تعلق اور اتنے بڑے ایرانی رہنما کی شہادت پر تعزیت اور موت کی مذمت کی۔ یہ حوصلہ بھارت نہ کر سکا اب بھارت انگشت بدنداں ہے کہ امریکہ پاکستان جیسے غیرت مند ملک پر اتنا بھروسہ کر رہا ہے اور بھارتی وزیراعظم کے خوشامدانہ کردار کو لفٹ ہی نہیں کروا رہا۔
دراصل اس وقت چشم بدور اول تو عسکری اور سیاسی پیج پر پاکستان ایک مضبوط محاذ محاذ پر کھڑا ہے آپسی اتفاق نے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر پروقار ثابت کیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا میاں شہبازشریف پاکستان کے وزیراعظم کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرنا اور ثالثی کی پیشکش کو سراہنا بھارت کے لئے زہر کا نوالہ بن گیا جبکہ براہ راست ہمارے جرنیل فاتح بنیان مرصوص و غضب للحق جناب عاصم منیر سے مخاطب ہونا بھارت کے گلے کے پھانس بن گیا ہے بھارتی میڈیا اب دن رات مودی کی بے ربط سیاست کو کوس رہا ہے۔
بھارتی تجزیہ کار، دفاعی امور کے ماہرین اور ریٹائرڈ جرنیل جسے بخشی بھی پاکستان دشمنی کے باوجود فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صلاحیتوں اور طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب تک عاصم منیر پاکستان میں بیٹھا ہے بھارت پاکستان کا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔
بھارتی میڈیا اور دفاعی امور کے ماہرین کی پاکستان کے سپہ سالار کی جنگی حکمت عملی کے بعد اب بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کی خارجہ پالیسی بیک وقت ایران، امریکہ، ترکیہ، چین اور خلیجی ممالک سے بہترین تعلقات پر بھارت کی چیخیں نکل رہی ہیں اس کے باوجود کہ پاکستان ہی وہ اسلامی ملک ہے جس نے اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا وگرنہ دیگر ممالک کا رویہ اتنا واضع اور دو ٹوک نہیں اس کے باوجود وہ اتنی فہم و فراست نہیں رکھتے کہ اپنے موقف کو بھی قائم رکھیں اور امریکہ سے بھی پروقار تعلق قائم کر سکیں جس کے لئے ہماری سیاسی و عسکری حکومت نے ہمارے وطن کا سر خم نہیں ہونے دیا اپنے موقف کی بھی حفاظت کی اور آمنے سامنے آئے ملکوں سے یکساں تعلقات رکھنے میں کامیاب رہا۔
بھارتی دفاعی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ پاکستانی جرنیل ہمیشہ پہلے اپنے پاکستانی مفاد کو مدنظر رکھتے بعد میں کچھ اور دیکھتے ہیں یہ بات قابل فخر ہے کہ ایسے میں جبکہ بھارتی جرنیلوں کا کسی عسکری و سیاسی پلیٹ فارم پر کوئی نام بھی نہیں جانتا کارنامے تو دور کی بات ہیں پاکستانی قیادت کا چہار عالم میں ڈنکا بج رہا ہے۔
ہمیں اس وقت دعا یہ کرنی چاہئے کہ پاکستان اپنے مقصد میں کامیاب ہو اس الجھی ہوئی جنگ کا حل بھی ڈھونڈ سکے ایک ایسا ایجنڈا بنا اور منوا سکے جو پوری دنیا میں امن و آشتی کا باعث ہو یہ بالکل آسان ٹاسک نہیں ایک طرف اسلامی ممالک کے اختلافات ہیں دوسری طرف بین المذاہب جنگ ہی نہیں بین المسالک جنگ کی طرف پیش قدمی ہو رہی ہے اسے اس طرح روکنا کہ نہ کسی کے مذہبی جذبات مجروع ہوں نہ کسی کے مسلک کو ٹھیس لگے اور ایک ایسا معاہدہ تشکیل پا جائے جس پر عملدرآمد حقیقت کے آئینے میں ہو سکے جس قدر اموات ہو چکی ہیں اور جنگ جس سطح پر آچکی ہے سربراہان مملکت بھی اس جنگ میں لقمہ اجل بن چکے ہیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یا بٹھایا جائے گا نہایت مشکل مرحلہ ہے اور بالغرض ہم ایک ایسا فارمولا بنانے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تو اس کو عملی طور پر خطے میں نافذ کرنا نہایت مشکل ہے اور اگر اللہ تعالیٰ یہاں تک بھی کامیابی دے دیتے ہیں تو اس معاہدے کو برقرار رکھنا اور اس پر پہرہ دینا اس سے بھی مشکل ٹاسک ہے۔
بھارت جو اس وقت پاکستان کی پوزیشن پر رشک کر رہا ہے۔ اسے نہیں معلوم پاکستان تلوار کی دھار پر سے گزر کر معاملات کو ٹھیک کروا رہا ہے جو سب سے بڑی دولت اس رمضان المبارک میں بننے والے ملک کو نصیب ہے وہ اسلام کی ہے واحد اسلامی اٹامک پاور ملک خطے میں جغرافیائی حیثیت اور پاکستان کے اٹامک پاور بننے کے لئے بھارت کا اٹامک ہو جانے کا جواز بھی ثابت کرتا ہے کہ اسے اپنی حفاظت کے لئے خود کو طاقتور کرنا ہے۔ دفاعی بجٹ پر تنقید کرنے والے اور مخصوص باغی پارٹی کے بھارت نواز فتنہ ا لخوارج اور فتنہ الہند کو خبر ہو کہ انہیں ایک اور محاذ پر شکست کا سامنا ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب ایک حافظ قرآن مرد مومن سپہ سالار دیتا ہے تو فیوض و برکات کی بارش بھی کرتا ہے۔

ٹیگز: