واشنگٹن :امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کی خبروں نے عالمی توانائی منڈی کا رخ موڑ دیا ہے۔ حالیہ سفارتی پیش رفت کے باعث سپلائی کے خدشات دم توڑ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد سے نیچے آگئی ہیں۔
آج کے کاروباری سیشن کے دوران عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ کچھ اس طرح رہا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کی قیمت 6.5 فیصد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ 97 ڈالر فی بیرل پر آگئی ۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں ساڑھے 5 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 87 ڈالر کی سطح پر مستحکم ہوا۔
یو اے ای کے مربن کروڈ میں حیران کن کمی دیکھنے میں آئی۔ یہ تیل جو گزشتہ دنوں 148 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا، اب گر کر 100 ڈالر 26 سینٹ پر آگیا ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تنصیبات پر حملوں میں 5 روز کے وقفے اور پاکستان کے ذریعے ایران کو بھیجے گئے 15 نکاتی امن منصوبے نے مارکیٹ کو مثبت پیغام دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔