کراچی: ملک کی مجموعی اور علاقائی کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر سندھ حکومت نے قومی یکجہتی کی اعلیٰ مثال قائم کر دی ہے۔ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے سندھ کابینہ کے اہم فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں صوبہ سندھ وفاقی حکومت کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔
کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ معاشی مشکلات اور عوامی ہمدردی کے پیشِ نظر سندھ کابینہ کے تمام ارکان نے اپنی تین ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ توانائی کی بچت اور اخراجات میں کمی لانے کے لیے صوبے بھر میں جمعے کے روز 'ورک فرام ہوم' (گھر سے کام) کی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے وفاقی حکومت کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اگر وفاق خطے کی صورتحال یا سیکیورٹی کے پیشِ نظر ملک گیر لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتا ہے، تو سندھ حکومت اس پر سو فیصد عمل درآمد کرے گی۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر صرف ریاست کے مفاد میں فیصلے کرنے کا وقت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، سندھ حکومت کی جانب سے تنخواہوں کی قربانی اور ورک فرام ہوم جیسے اقدامات سے نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ یہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثبت مثال ثابت ہوں گے۔ صوبائی حکومت نے تمام محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔