Wed, September 16, 2026

آخر ہونے کیا جا رہا ہے؟

آخر ہونے کیا جا رہا ہے؟

وقت کو بدلنے سے کوئی نہیں روک سکتا ، اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرے تو وقت اسے روندتا ہوا گزرجاتا ہے۔ وقت کی نرالی ادا ہے کہ کوئی حالات کے کیسے بھی چنگل میں پھنسا ہو کوئی کتنی ہی سختی جھیل رہا ہو، کسی پر اذیتوں کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوں مجال ہے کہ وقت ایک لمحہ کا توقف کرے اور ٹھہر کر پوچھ لے کہ یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے ۔ ہمیں اس بات کی سمجھ آجانا آسان نہیں تھا لیکن آج جب فلسطین کے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کی جارہی ہے، معصوم نونہالوں کو انتہائی سفاکی اور بیدردی سے شہید کیا جارہا ہے اور جو بچ رہے ہیں ان کے حالات نا قابل بیان ہیں ۔ شہر کے شہر ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں اور ملبے میں دبے لوگ جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں اپنی بے بسی کی منہ بولتی تصویر بنے کیمرے کو دیکھ رہے ہیں ان کی اعلیٰ ظرفی دیکھئے وہ کسی سے مدد کی بھی درخواست نہیں کر رہے لیکن انکی آنکھوں سے درد اور تکلیف سے بہتے آنسو لاتعداد سوال بن کر ہمارے سامنے گر رہے ہیں۔تو دوسری طرف باقی دنیا خصوصی طور پر مسلم دنیا بے حسی اور لاپروائی کی تاریخ رقم کررہی ہے اور وقت ہے کہ گزرے ہی جار ہا ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہے برکتوں اور رحمتوں کا ہر ہر پل نزول ہے طرح طرح کی نعمتیںسحری و افطاری کے اوقات میں ہمارے دسترخوانوں پر سج رہی ہیں، ہم انتہائی لاڈ پیار سے اپنے جگر گوشوں کو دن بھرکے روزے کی وجہ سے کھانے اور پینے کیلئے آگے پیچھے ہورہے ہیں۔ یہ ماہ رمضان وہاں بھی گزر رہا ہے جہاں گولیوں کی گھن گرج ہے جہاں فضائی بمباری کے نتیجے میں ہر طرف دھول مٹی ہے اور ملبے میں دبے کچھ لاشے ہیں اور کچھ جو بچ گئے ہیں خدائی معجزے کے منتظر ہیں۔
امریکہ کو دنیا میں نیوکلیئس کی حیثیت حاصل 
ہے دنیا میں کہیں بھی کچھ ہورہا ہے اس کا کسی نا کسی طرح سے تانا بانا امریکہ سے جا کر ضرور ملتا ہے ۔یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ دنیا کے اکثر ممالک خصوصی طور تیسری دنیا سے تعلق رکھنے والے ممالک اپنے داخلی امور پر بھی امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی ساری دنیا جیسے کسی بھونچال کا شکار ہوگئی ہے اور اس بھونچال کی سب سے بڑی وجہ امریکہ کی مرکزی حیثیت ہے جو اس نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر قائم کر رکھی ہے ۔ مسئلہ یوکرین ہو یا پھر فلسطین امریکہ اپنا ایک مخصوص بیانیہ قائم کئے ہوئے ہے۔ جو اس بات سے قطع نظر ہے کہ یوکرین کے لوگ کیا چاہتے ہیں اور فلسطین کے لوگو کی کیا ترجیح ہے ۔ امریکہ اپنے نقطہ نظر پر کارفرما رہتا ہے اور اس نقطہ نظر کو صحیح ثابت کر کے بھی دکھاتا ہے جو اس کی بات کو نہیں مانتا وہ اسے اس کے ہی دام میں الجھا دیتا ہے اور دنیا میں عبرت کا نشان بنا دیتا ہے ، اب عبرت کے نشان کرہ عرض پر کہاں کہاں ہیں یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ 
اسرائیل نے دنیا کو دنیاوی ترقی میں لگایا ، آسائشوں کے حصول کی جستجو دے دی اور دنیا کی دولت پراپنی ذہانت اور بہترین حکمت عملی کی بدولت قابض ہوگیا ۔ بظاہر تو امریکہ اسرائیل گٹھ جوڑ سمجھ نہیں آتا لیکن خطے میں اپنا اثر ورسوخ جمانے کیلئے امریکہ نے ایسا کر رکھا ہے دوسری جانب روس کیساتھ بھی اب امریکہ کی جانب سے برف پگھلتی محسوس کی جارہی ہے جس کی وجہ یوکرین ہے جہاں امریکہ کے مفاد روس سے زیادہ ہیں۔ امریکی صدر بہت جلد سعودی عرب کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی سعودی سرمایہ کاری لے جائیں گے اور امریکہ کی معیشت کو مزید بہتر و مستحکم بنانے کیلئے کام کرینگے یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وہ سعودی حکومت کو اپنی ہر قسم کے تعاون کی بجائے ان سے ہر قسم کی تعاون کو بھی یقینی بنائیں گے۔ امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایک نئے امریکہ کی بنیاد کھودتے محسوس ہورہے ہیںکیونکہ صدر صاحب کسی سول ڈکٹیٹر کی طرح ایگزیکٹو حکم ناموں پر حکم نامے دستخط کئے جا رہے ہیں اور محدودوقت میں ان فیصلوں پر عمل درآمد بھی کرا رہے ہیں۔ اب یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کیا ان اقدامات کی بدولت امریکہ کس نئی سمت کی جانب پیش قدمی کرے گا۔ اس پیشتر امریکہ نے پچھلی دو دہائیوں سے اپنے آ پ کو دنیا جہان میں فسادات کروانے میں مصروف رکھا ہوا تھااور ساتھ ہی ثالثی بھی کراتا دکھائی دیتا تھا اور امن و امان کے اقدامات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا گوکہ کہیں بھی تاحال امن قائم نہیں ہوسکا ہے لیکن موجودہ دور میں بین الاقوامی دروازے ایک طرفہ آمد و رفت کیلئے کھولنے کی تیاری ہوتی دکھائی دے رہی ہے ، اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ کے فیصلہ ساز اور حکمت عملی تیار کرنے والوں میں ایک قسم کا تنائو محسوس کیا جاسکتا ہے یعنی امریکہ اپنی خارجہ حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیتا محسوس کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ کے منظم حکمت عملی بنانے والوں کو امریکہ کے صدر کے ایگزیکٹو حکم ناموں نے کسی حد تک پریشان تو کیا ہوگا۔ اب مخالف جماعت بھی ان کی حکمت عملیوں سے کوئی خوش یا مطمئن نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ شائد امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار تعلیمی نظام کو چلانے والے سرکاری ادارے کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ امریکہ کا نظام تعلیم انتہائی مخدوش حالت میں ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کا از سر نو جائزہ لیا جائے، اس عمل سے امریکیوں کو تو شائد کوئی خاص فرق نا پڑے لیکن بین الاقوامی سطح پر یہ بھی ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک اپنے نوجوانوں کو امریکہ ناصرف پڑھنے کیلئے بھیجتے ہیں بلکہ ان کا بنیادی مقصد امریکہ میں باقاعدہ سکونت اختیار کرنا ہوتا ہے، جس کیلئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بالکل بھی خوش نہیں ہیں۔ 

ٹیگز: