چند دن پہلے مجھے غزہ۔ اسرائیل جنگ کے موضوع پر ایک کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا ۔ یہ کانفرنس ایوان اقبال میں منعقد ہوئی، جس میں نامور علمائے کرام اور دانشورخواتین و حضرات شریک تھے۔ اس عمدہ نشست کا اہتمام تحریک بیداری مصطفی، قومی امن کونسل اور جامعہ عروۃ الوثقیٰ نے کیا تھا۔ کانفرنس کا عنوان تھا کہ غزہ میں کیا ہو رہا ہے؟ اور ہمیں کیا ہو گیا ہے؟کانفرنس میں فلسطین میں ہونے والے مظالم پر نہایت مدلل اور پرمغز گفتگو سننے کو ملی۔ جامعہ ام الکتاب کی منتظم محترمہ خانم طیبہ بخاری کا شکریہ جنہوں نے مجھے اس نشست میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔ اپنی باری آنے پر میں نے بھی اہل غزہ کی حالت زار کا نوحہ پڑھا۔
عرض کیا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کی خبریں میڈیا کے توسط سے ہم تک پہنچتی رہتی ہیں۔ غزہ میں مسلمانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کیا جا رہا ہے۔ یہ ہو رہا ہے کہ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023ء میں شروع ہوئی تھی۔تب سے اب تک تقریبا ً50 ہزار شہادتیں ہو چکی ہیں۔ایک لاکھ سے زیادہ شہری زخمی ہوئے ہیں۔ ہزاروں لوگ عمر بھر کیلئے معذور ہو گئے ہیں اور انہیں اس معذوری کیساتھ ساری زندگی گزارنی ہے۔ ہزاروں بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ ہزاروں خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔ابھی کچھ عرصہ پہلے ہم نے رمضان المبارک کا مہینہ نہایت احترام اور اہتمام سے گزارا ہے۔ لیکن غزہ میں یہ ہوتا ہے کہ ایک دن اہل غزہ سحری کھانے اور تہجد پڑھنے میں مصروف ہوتے ہیں کہ اسرائیلی طیارے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دندناتے ہوئے آتے ہیں، سحری کرتے اہل غزہ پر بمباری کرتے ہیں ۔ انہیں شہید کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ اس طرح اہل غزہ نے رمضان کا مہینہ گزارا ہے۔ ہم لوگوں نے عید کی خوشیاں بھی منائی ہیں۔ عید پر ہم خود بھی ا چھے اچھے کپڑے پہنتے ہیں۔ اپنے بچوں کو بھی نئے کپڑے پہناتے ہیں۔ انہیں مٹھائیاں اور عمدہ کھانے کھلاتے ہیں۔ لیکن غزہ میں یہ ہوا کہ عید کے دن فلسطینی بچے خیرات اور عطیات میں ملنے والے عید کے کپڑے، جوتے پہنے کھیل کود میں مصروف تھے۔ اسرائیلی طیارے دندناتے ہوئے آئے ۔ بمباری کر کے بچوں کو شہید کیا اور چلتے بنے۔ اہل غزہ نے اپنی عید اپنے معصوم بچوں کی لاشیں اٹھاتے اور قبروں میں دفناتے ہوئے گزاری۔ تو غزہ میں یہ سب ہو رہا ہے۔ جنگ بندی کا مختصر عرصہ منفی کر دیں ، تو اس جنگ کو 15 مہینے ہو گئے ہیں۔ اس عرصے میں اسرائیل کی اندھا دھند بمباری سے اہل غزہ کے 1 لاکھ 60 ہزار رہائشی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ 2 لاکھ 76 ہزار رہائشی یونٹوںکو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ غزہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ یہ کوئی چھوٹا موٹا ملبہ نہیںہے۔ یہ 4 کروڑ 20 لاکھ ٹن ملبہ ہے۔ عالمی اداروں کا اندازہ ہے کہ اس ملبے کو اٹھانے میں 15 سے 20 سال لگ جائیں گے۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ غزہ میں کیا باقی بچا ہو گا۔
قابل افسوس امر ہے کہ غزہ کے معاملے میں دنیا نے منافقانہ چپ سادھ رکھی ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جو حقوق کے معاملے میں نہایت حساس ہے۔ اسے خواتین اور بچوں کے حقوق کا بہت خیال رہتا ہے۔ اس نام نہاد مہذب دنیا نے جانوروں اور نباتات کے حقوق کے ضمن میں بھی قوانین اور ضوابط وضع کر رکھے ہیں۔ کتوں بلیوں کے حقوق کا خیال رکھنے والی مہذب دنیا کو فلسطین میں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح ہونے والے انسانوں کے بچے اور خواتین نظر نہیں آتیں۔ کسی مسلمان ملک میں کسی خاتون کے ساتھ زیادتی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو دنیا میں چیخ و پکار شروع ہو جاتی ہے۔ خواتین تو رہیں ایک طرف، جانوروں کے معاملے میں بھی ان کی حساسیت کا یہی عالم ہے۔ چند سال پہلے کا قصہ ہے کہ اطلاع ملی کہ پاکستان کے چڑیا گھر میں ایک ہاتھی کاون اپنے ساتھی کے مر جانے کے بعد تنہائی کا شکار ہے۔ جانوروں کے حقوق کی پاسبان ایک عالمی تنظیم نے اس بات کا نہایت سنجیدگی سے نوٹس لیا۔ حکومت پاکستان سے رابطہ کیا۔ بتایا کہ کاون تنہائی کی وجہ سے ڈپریشن کا شکا ر ہو گیا ہے۔ کروڑوں ڈالر خرچ کر کے ہاتھی کوپاکستان سے باہر لے گئے اور کہیں جنگلات میں دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ چھوڑ دیا۔ افسوس کہ مسلمانوں کے بچے دنیا کی نظر میں اس کاون ہاتھی سے بھی گئے گزرے ہیں۔ غزہ کی جنگ میں ایک دن کے نومولود بچے سے لے کر 97 سالہ بڑھیا تک شہید ہو چکے ہیں ، لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ ہم کیا کر رہے ہیں؟۔ ہم سے مراد ہیں 57 مسلمان ممالک۔ یہ 1 ارب 80 کروڑ آبادی کے حامل مسلمان ممالک ہیں۔ ان میں سے بیشتر تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ہم سب یعنی جسے ہم امت مسلمہ کہتے ہیں وہ خاموش ہے۔ اس نے اپنے آپ کو وقتاً فوقتاً مذمتی قراردادیں منظور کرنے۔ مذمتی بیانات جا ری کرنے اور امدادی ٹرک بھجوانے تک محدود کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کو ہم اکثر ہدف تنقید بناتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کا خون بہنے پر آنکھیں اور کان بند کر لیتی ہے۔ اس سے ہم کیا گلہ کریں؟۔ یہ تو غیروں کا ادارہ ہے۔ ہماری اپنی تنظیم او۔ آئی۔ سی جو اقوام متحدہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے، وہ بھی عضو معطل بن کر رہ گئی ہے۔ مٹھی بھر اسرائیل کے مقابلے میں ستاون مسلمان ممالک بے شمار وسائل رکھتے ہیں ، تاہم ان میں اتحاد کا فقدان ہے۔ بیشتر کی آپس میں بنتی ہی نہیں ہے۔ ایسے بھی ہیں جو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے مرے جا رہے ہیں۔ ایسے میں فلسطین کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے۔ خود پاکستان بھی بس یہی کر رہا ہے جو باقی ممالک کر رہے ہیں۔ ہم تو یوں بھی داخلی طور پر انتشار کا شکار ہیں۔ابھی چند دن پہلے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں پہلگام کا واقعہ ہوا ہے۔ اتحاد کا عالم یہ ہے کہ پاکستان میں ایک سیاسی گروہ پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ جا کر کھڑا ہو گیا ہے۔ وہ بھارت کی بولی بولتا نظر آتا ہے۔ یہ بھی کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسرائیلی مصنوعات کے نام پر ہمارا ایک چھوٹا سا گروہ فاسٹ فوڈ کی دکانوں کو بند کرواتا ہے۔ توڑ پھوڑ کرتا ہے۔ بعد میں حقیقت کھلتی ہے کہ ان کا مقصد صرف چوری چکاری کرنا تھا یا کاروباری فوائد حاصل کرنا تھا۔ تو یہ ہے ہماری سنجیدگی کا عالم۔
بہرحال اہل غزہ کے حق میں جو بھی آواز اٹھا رہا ہے۔ لکھ بول رہا ہے۔ وہ اپنا مقدور بھر حق ادا کر رہا ہے۔ وہ جو شاعر نے کہا ہے کہ۔۔۔ شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا۔ اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔۔۔۔ اب یہ ستاون ممالک پر مشتمل امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرئے۔ ہم تو بس دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ پاک ہم پر اور اہل غزہ پر رحم فرمائے۔ آمین۔