Wed, September 16, 2026

خالصتان پر کامیاب ریفرنڈم

خالصتان پر کامیاب ریفرنڈم

بھارت نے بلوچستان کے معاملے پر کوئی بھی سازش کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا، جہاں بے لگام بھارتی میڈیا فضول کی ہانکتا رہا اور بلوچستان ٹوٹنے پر لمبے چوڑے تبصرے کرتا رہا۔ بھارتی میڈیا نے یہاں تک دعوے کئے کہ بلوچستان الگ ہونے والا ہے ، پاکستان خدا نخواستہ ٹوٹنے تک کی باتیں کی گئیں مگر کہتے ہیں نہ کہ دوسروں کے گھر میں مداخلت کے بجائے پہلے اپنے گھر کے معاملات پر نظر ڈالنی چاہیے۔ یہی کچھ ہو رہاہے بھارت میں جہاں مودی سرکار کے ظالمانہ رویوں سے ہر کوئی بے حال ہے اور اب بھارت خود عملی طور طبقاتی تقسیم کا شکار ہو کر پوری دنیا میں بدنام ہو رہا ہے۔ جہاں مسلمان آزادی مانگ رہے ہیں وہیں سکھ بھی آزادی کے مطالبات لئے ہوئے پوری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ یہ بھارت سرکار کے منہ پر طمانچہ ہے کہ جو بھارت دوسروں کے گھروں میں مداخلت کی پالیسی پر چل رہا تھا اب خود دنیا کو جواب دینے کی سٹیج پر آگیا ہے۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں خالصتان کے قیام کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں ووٹنگ کا سلسلہ کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔اس طرح اپنے الگ وطن کے حصول کے لئے سکھوں نے کامیاب ریفرنڈم کا انعقاد کیا ہے جسے ایک بڑی کامیابی سمجھا جارہا ہے۔ اس موقع پر امریکا بھر سے سکھ کمیونٹی بڑی تعداد میں ووٹ دینے کے لیے لاس اینجلس پہنچی، اور سوک سینٹر میں صبح نو بجے سے شروع ہونے والی ووٹنگ میں بھرپور شرکت کی۔ریفرنڈم کے دوران سکھ رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ سکھ اپنی آزاد ریاست قائم کریں۔انہوں نے بھارتی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک میں سکھوں پر قاتلانہ حملوں میں ملوث ہے، لیکن ان حملوں کے باوجود خالصتان کی تحریک کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بھارتی پنجاب کو خالصتان بنانے کے لئے 35 ہزار سے زائد سکھوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا ہے، جو اس تحریک کی طاقت کا غماز ہے۔ووٹنگ کے اختتام پر سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے اپنے خطاب میں اگلے خالصتان ریفرنڈم کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ ریفرنڈم 17 اگست کو واشنگٹن ڈی سی میں کرایا جائے گا۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس ریفرنڈم کے انعقاد کی اجازت دی۔ گرپتونت سنگھ پنوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کے سکھ اپنے ووٹوں کے ذریعے بھارت کو ایک واضح پیغام دے رہے ہیں کہ وہ بھارت کے زیر تسلط نہیں رہنا چاہتے اور بھارت کی گولیوں کا جواب اب ووٹوں سے دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی تھی اوراس موقع پر انہوں نے خالصتان کے حق میں نعرے لگائے اور ایک خصوصی بیان ریکارڈ کرایا تھا۔ اس سے پہلے بھی گرپتونت سنگھ کا ایک بیان وائرل ہوا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ریفرنڈم سکھ برادری کو کشمیر سے کنیا کماری تک حق خود ارادیت استعمال کرنے کے قابل بنائے گا۔ بھارت میں سکھوں کو اپنی شناخت، مذہب اور آزادی کے وجود کے لیے خطرات کا سامنا ہے۔ 20 ملین سکھ مودی حکومت کے جابرانہ اقدامات کے تحت محاصرے میں ہیں۔ سکھ برادری مودی حکومت کے مظالم کا مقابلہ کرے گی اور اپنے حقوق کی جنگ جاری رکھے گی۔ سکھوں کے لیے واحد حل ایک آزاد سکھ وطن ہے، جہاں وہ آزادی سے اپنی مذہبی اور سیاسی خواہشات کی تکمیل کر سکیں۔ خالصتان ریفرنڈم ایک عام انتخاب نہیں بلکہ بھارتی ظلم سے آزادی کی شناخت ہے۔ اس بیان کے بعد صدر ٹرمپ کے افتتاحی خطاب میں وہ بال روم ڈنر پہنچے اور سکھوں کے الگ وطن کی بات کی جسے مقامی میڈیا نے بھی کوریج دی تھی۔
ادھر بھارتی پنجاب میں بھی عوام اپنے الگ وطن کی باتیں کر رہے ہیں اور یہ مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ گو کہ بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے کھلے عام کوئی آزادی کانعرہ نہیں لگایا مگر گمان کیاجارہاہے کہ جیسے ہی یہ تحریک زور پکڑے گی بھارتی سکھ سیاسی رہنما بھی میدان میں اتر آئیں گے۔ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق ایک عرصے سے عالمی میڈیا پر بھی ہائی لائٹ ہو رہے ہیں جیسا کہ حال ہی میں ہولی کے موقع پر ہندو شدت پسندوں نے مسلمانوں کو بھی ہولی منانے پر مجبور کیا، مسلمانوں کے گھروں پر رنگ ملا پانی پھینکا ، رکشوں پر جاتے مسلمانوں کے چہرے پر زبردستی رنگ مل دیا۔ اسی طرح دیگر مقامات پر مساجد کی بھی بے حرمتی کی گئی اور رنگ پھینکے گئے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جس کی بنا پر بھارت اقلیتوں کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں۔ ایسے حالات میں بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ صرف کالعدم بلوچ تنظیم کی شر انگیزیوں کی وجہ سے حالات خراب ہوئے ہیں اور باقی بلوچستان ملکی ترقی میں ساتھ ساتھ ہے اور کسی آزادی کی تحریک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بھارت پہلے بھی بلوچستان کے حالات خراب کرنے کے لئے کوششیں کرتا رہا ہے کلبھوشن یادو کی گرفتار اس کا واضح ثبوت ہے۔

ٹیگز: