Wed, September 16, 2026

واشنگٹن ڈی سی میں سکھ برادری کا خالصتان ریفرنڈم، جمہوری حقوق کے لیے عالمی آواز

واشنگٹن ڈی سی میں سکھ برادری کا خالصتان ریفرنڈم، جمہوری حقوق کے لیے عالمی آواز

واشنگٹن: سکھ برادری آج واشنگٹن ڈی سی میں خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے جمع ہو گی، جہاں امریکہ میں مقیم سکھ اپنے جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے۔ اس ریفرنڈم کا مقصد سکھوں کی سیاسی جدوجہد اور خود مختاری کے حق کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔

امریکی حکام نے سکھ برادری کی اس پرامن جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے ریفرنڈم کی اجازت دے دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خالصتان موومنٹ کے رہنما گرپتونت پنہوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی گارنٹی دی ہے۔

کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا نے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی سازشوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے سکھ کارکنوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ امریکی عدالت نے بھارتی ایجنٹ نکھل گپتا اور را افسر کو گرپتونت پنہوں کے قتل کی سازش کی وجہ سے ملک بدر کیا تھا۔

خالصتان ریفرنڈم کی تحریک 2021 میں شروع ہوئی تھی اور اب تک 8 ممالک میں کامیابی سے منعقد ہو چکا ہے۔ بھارتی حکومت کے پروپیگنڈے کے باوجود، سکھوں کی جدوجہد بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور پرامن طریقے سے جاری ہے۔

یہ تحریک دنیا بھر میں بسنے والے 3 کروڑ سکھوں کی آواز ہے، اور اب تک کسی بھی اقوام متحدہ کے رکن ملک نے اسے غیر قانونی قرار نہیں دیا ہے۔

سکھ برادری کا واضح پیغام: "ہم اپنے حقوق کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت پرامن طریقے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔"

ٹیگز: