جمہوریت کی اصل روح اختلافِ رائے، اظہارِ خیال کی آزادی اور سیاسی تنوع میں مضمر ہے۔ ریاستیں اسی وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ تنقید کو برداشت کرنے، مخالف آوازوں کو سننے اور سیاسی اختلافات کو آئینی اور جمہوری حدود کے اندر حل کرنے کا حوصلہ رکھتی ہوں۔ لیکن جب اختلافِ رائے کو بغاوت، احتجاج کو سازش اور سیاسی کارکنوں کو ریاست دشمن قرار دینے کا رجحان فروغ پانے لگے تو یہ صورت حال محض ایک سیاسی جماعت یا ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ پورے جمہوری ڈھانچے کے لیے سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر سے متعلق سامنے آنے والی حالیہ خبروں اور بیانات نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر واقعی کسی سیاسی جماعت یا اس کے کارکنوں کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تو اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں تشدد یا ریاستی اداروں پر حملے کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ہر سیاسی احتجاج کو سکیورٹی مسئلہ بنا دینا اور ہر مخالف آواز کو ریاستی رٹ کے خلاف بغاوت کے مترادف قرار دینا دانش مندی ہے؟۔
تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی مسائل کا حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیاسی تدبر، مکالمے اور برداشت سے نکلتا ہے۔ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے لیکن اعتماد بحال نہیں کر سکتی۔ اگر نوجوانوں میں بے چینی ہے، اگر سیاسی کارکن احتجاج پر آمادہ ہیں اور اگر ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں تو اس کے اسباب کا جائزہ لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا قانون نافذ کرنا ضروری ہے۔اس ضمن میں افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر سیاسی بحرانوں کو قومی سلامتی کے چشمے سے دیکھنے کی روایت پروان چڑھ چکی ہے۔ نتیجتاً اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور بیانیوں کی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ ایک طرف حکومتیں اپنے مخالفین کو انتشار پسند ثابت کرنے میں مصروف رہتی ہیں جبکہ دوسری طرف اپوزیشن ہر ریاستی اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔ اس کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان عوام، جمہوری اداروں اور قومی ہم آہنگی کا ہوتا ہے۔اگر یہ دعویٰ درست ہے کہ چند عناصر نے ریاستی اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی تو سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسے حالات پیدا کیوں ہوئے؟ کیا سیاسی کارکنوں کے لیے جمہوری اظہار کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں؟ کیا اختلافی آوازوں کو سننے اور ان کے تحفظات دور کرنے کے بجائے صرف گرفتاریوں، مقدمات اور سخت بیانات پر انحصار مسئلے کا مستقل حل بن سکتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف حکومت ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی قوتوں کو دینا ہوگا۔
مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ معاشرے کو مسلسل تقسیم کر رہا ہے۔ ایک طرف نفرت آمیز زبان، دوسری جانب مخالفین کی کردار کشی اور تیسری طرف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہمات نے سیاسی برداشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جمہوریت میں مخالفین دشمن نہیں ہوتے بلکہ مختلف نقطہ نظر رکھنے والے سیاسی فریق ہوتے ہیں۔ جب سیاست دشمنی میں بدل جائے تو معاشرہ بھی تصادم کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے جس کی داخلی استحکام اور سیاسی ہم آہنگی نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ پاکستان کے وسیع تر قومی مفادات کے لیے بھی اہم ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلافات کو سکیورٹی بحران میں تبدیل کرنے کے بجائے مفاہمت، مکالمے اور آئینی راستوں کو ترجیح دی جائے۔ قانون کی عملداری اپنی جگہ اہم ہے لیکن قانون کے ساتھ انصاف، شفافیت اور غیر جانب داری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
ریاستیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد سے چلتی ہیں اور اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب عوام کو یہ یقین ہو کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے، اختلاف کو جرم نہیں سمجھا جا رہا اور انصاف کا معیار سب کے لیے یکساں ہے۔ اگر سیاست انتقام کے بجائے برداشت اور مکالمے کا راستہ اختیار کرے تو نہ صرف بحرانوں کی شدت کم ہو سکتی ہے بلکہ جمہوریت بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اختلافِ رائے کو دبانے سے خاموشی تو پیدا کی جا سکتی ہے، لیکن پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔