Wed, September 16, 2026

اسلام آباد معاہدہ: عوام کو کیا ملا....؟

اسلام آباد معاہدہ: عوام کو کیا ملا....؟

زبان قلمدیارِغیر میں بسنے والے جب بھی پاکستان آتے ہیں تو ان کا دکھڑا یہی ہوتا ہے کہ یہاں لاقانونیت ہے انصاف ناپید ہے پولیس سنتی ہے نہ عدالتیں؟ جہاں جائیں فائلیں منہ کھولے بھرنے کا پیغام دے رہی ہوتی ہیں، اوورسیز کیلئے بلندوبانگ دعوے کیے جاتے ہیں انہیں ہر طرح کی سہولیات پہنچانے کا دعوی کیا جاتا ہے لیکن ہوتا کچھ نہیں، ہمارے حکمرانوں کی طرح ہمارے کلرک بادشاہ سے لے کر اعلی افسر تک ٹھنڈے اور گرم کمروں میں بیٹھ کر میٹنگز کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہر دوسرا شخص پریشانی کے عالم میں مبتلا رہتا ہے، دیارِغیر میں رہنے والے عدلیہ، حکمرانوں و دیگر اداروں کا ماتم کرتے واپس چلے جاتے ہیں لیکن انہیں کیا معلوم کہ اس میں پاکستان کا کیا قصور، پاکستان تو ایک مٹی کا نام ہے جسے جان جوکھوں میں ڈال کر حاصل کیا گیا، قصور تو حکمرانوں کا ہے ،یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کو ہر اس شخص نے لوٹا جس کا ہاتھ پہنچا تھا جس کا بس نہ چلا اس نے کہا میں شریف ہوں، اس کے باوجود آج پاکستان کا نام دنیا بھر میں ثالث کے طور پر جانا جاتا ہے، امریکہ ایران جنگ کو ہی لے لیں بڑے بڑے پھنے خاں بھی اس گتھی کو سلجھا نہ سکے جسے اسلام آباد نے حل کروا دیا ،اس وقت جب دنیا پر تیسری عالمی جنگ کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا تھا پاکستان نے دونوں حریفوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا جسے دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے، اب آتے ہیں اصل مسئلہ کی طرف، دنیا میں ہماری بہت واہ واہ ہو گئی لیکن ہمیں ملا کیا؟ ایسے وقت میں ہمیں کسی اور کی طرف دیکھنے کے بجائے ایران سے دوستی کا حق ادا کرنا چاہیے، ہمیں انرجی، گیس اور پٹرول بحران کا سامنا ہے ہمیں ایران سے بجلی، گیس اور پٹرول سمیت دیگر معاہدے کرنے چاہئیں تا کہ ملک میں عوام کو ریلیف مل سکے کیونکہ سر ہلانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہمیں عملی 
طور پر اقدامات کرنے ہوں گے ایران ہمیشہ سے ہمارے ساتھ چلنے کا خواہشمند ہے لیکن ہماری طرف سے ہی سردمہری کا مظاہرہ کیا گیا، اسی طرح چین کے ساتھ معاہدے کے وقت تو اکنامک زون بنانے کا پلان طے ہوا تھا لیکن ابھی تک صرف فیصل آباد زون کوہی فعال کر سکے ہیں اب جبکہ تاش کے پتے ہمارے ہاتھ میں ہیں تو ہیں ملک کو بحرانوں سے نکالنے کےلئے ایران کے ساتھ معاہدے کرنے چاہیں دوسری طرف ایم او یو پر دونوں ممالک نے دستخط کر دئےے یہ امن کےلئے اچھی کاوش ہے جسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے اور پاکستان کی کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے جس نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا اور یہ بھی یہاں بتانا ضروری ہے کہ جو تسلط پسند طاقتیں ہیں جو جارحیت کرتی ہیں ان کا بھی دنیا کو کچھ نہ کچھ کرنا ہو گا کیونکہ مجرم ہر بار چھپ جاتا ہے روکا نہ گیا توظالم کہ شہ ملتی رہے گی اور مظلوم ممالک پر جارحیت ہوتی رہےگی جب تک ایسے ممالک کو سزا نہیں ملتی ان کی خامیوں کو سامنے نہیں لایا جاتا تاہم یہ اچھا اقدام ہے اس پر عمل کرنا ضروری ہے لیکن امریکہ پر کبھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس کا مذاکرات کے حوالے سے ماضی داغدار ہے امریکہ نے دو بار مذاکرات کو سبو ثاز کیااوروہ جارحیت کر چکا ہے اب اس بار ٹرمپ کو جو دنیا کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑااور شکست خوردہ سپر پاورکے طور پر دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا یہ مالک کا فیصلہ ہے جس نے ایران کے ہاتھوں اسے رسواکروایاجس جگہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے معاہدے کے دستخط کےے وہ تاریخی لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل ہے اسی پیلس میں فرانس نے 1871 میں اپنی شکست پر سائن کےے تھے جبکہ یہی وہی جگہ ہے جہاں 1919 میںجرمنی نے بھی ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر دستخط کےے تھے ایران اور یورپ نے انتقام لیا ہے اسی جگہ دستخط کرواکے جہاں شکست کھانے والے دستخط کر چکے یہ وہی جگہ ہے جہاں نیٹو جیسی طاقتیں اپنی شکست کا اعتراف کر رہی ہیں اور یورپیوں کی خواہش پوری ہوگئی امریکی صدر ٹرمپ صدر کو شکست خوردہ دیکھ کر کیونکہ امریکہ نے ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا تھادوسری طرف ایران میں ایک حلقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کو تب تک دستخط نہیں کرنے چاہےے تھے جب تک اسرائیل لبنان سے نکل نہیں جاتا ایران نے امریکہ جیسی سپرپاور کوزیر کرکے جیت کا سہرا اپنے سر سجا لیا یہ صرف ایران کی ہی نہیں تمام عالم اسلام کی فتح ہے اس شکست کا اعلان ایرانیوں کےلئے بہت بڑی بات ہے جس نے چار دہائیوں سے ظلم اور جبر کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے دنیا کے سامنے منوایا دنیا کو اب ایران کا ساتھ دینا ہو گا خاص کر عربوں کی آنکھیں کھل جانی چاہییں ویسے بھی امریکہ سے جنگ ختم ہو ئی ہے دشمنی نہیں اگر عرب ممالک نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو انہیں اور ان کے آقا امریکہ کو اقتصادی لحاظ سے بہت نقصان ہو گاعربوں کو اس بات کا بھی دھیان رکھنا ہوگا کہ جو امریکہ خود کی حفاظت نہیں کرسکا وہ ان کی کیا حفاظت کرے گاامریکہ کہ اب اپنی پالیسیاں تبدیل کرنی پڑیں گی ورنہ اسرائیل اسے کسی کام کا نہیں چھوڑے گا اگر ایران اکیلا امریکہ کو ناکوں چنے چبوا سکتا ہے تو اگر عرب ممالک نیوٹرل ہوجائیں اور ایران ،پاکستان،ترکیہ کو ساتھ ملا کر اتحاد قائم کریں تو اسرائیل اور امریکہ کو سخت جواب ملے گا یو اے ای اسرائیل کا دم چھلہ نہ بنے بحرین اور کویت اچھا دماغ رکھتے ہیں وہ امریکہ کی چھتری تلے سے نکل آئیں پاکستان کو بھی صرف تالیاں بجانے کے بجائے ایران سے بجلی تیل کے فوائد حاصل کرنے چاہےے ایران نے تو گیس پائپ لائن مکمل کی ہوئی ہے پاکستان کو ذمہ داری نہ دکھانے پر 22بلین ڈالر جرمانہ ہو چکا ہے جبکہ تربت تک بجلی کا منصوبہ مکمل ہے جسے نیشنل گرڈ میں ڈالنا تھا ہم یہ نادر موقع بھی گنوادیا ہمیں مغربی دبا سے نکلنا ہو گا ورنہ اسی طرح مانگے تانگے سے ملک کو چلانا پڑے گا جو ایک ایٹمی طاقت کو زیب نہیں دیتا۔

ٹیگز: