اسلام آباد:بھارت کی جانب سے جدید اور مہلک ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر خریداری اور اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے جیسے ماڈل کو اپنانے کی اطلاعات نے خطے کے امن و استحکام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، بھارت اپنی دفاعی پالیسی میں جارحانہ تبدیلی لا رہا ہے اور اسرائیلی ماڈل کو ایک مؤثر حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہا ہے، جس کے تحت حملے کا جواز پیدا کر کے کارروائی کی جاتی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے اسرائیل، فرانس اور روس سمیت دیگر ممالک سے اربوں ڈالر کے جنگی ساز و سامان حاصل کیے، جن میں فرانس سے 36 رافیل طیاروں کی خریداری (9 ارب ڈالر)، روس سے S-400 دفاعی نظام کا معاہدہ (5.4 ارب ڈالر)، اسرائیل سے بارک-8 میزائل سسٹم، ہیرن و ہیرپ ڈرونز، نائٹ وژن اور دیگر دفاعی آلات شامل ہیں۔
حالیہ اسرائیل-ایران کشیدگی کے دوران بھارت نے اسرائیلی کارروائی کو سراہا، جس کے بعد خطے میں بھارت کی نیت اور عزائم پر عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، بھارت کی یہ تیاری ممکنہ طور پر کسی بڑی علاقائی چال یا کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے بھارت کے ہر قدم پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور واضح کیا ہے کہ وطنِ عزیز کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، اور قومی سلامتی پر کسی بھی قیمت پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔