Wed, September 16, 2026

ایران، اسرائیل جنگ اور امریکہ

ایران، اسرائیل جنگ اور امریکہ

آج پھر کچھ متفرق باتیں ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بالآخر سیزفائر ہو گیا تاہم اس سارے معاملہ میں بہت کچھ پراسراریت کے دبیز پردوں میں مخفی ہے مستقبل قریب میں یہ دبیز پردے بہت کچھ منکشف کریں گے دنیا کے سامنے بہت سے نئے حقائق آئیں گے جو ان تینوں ممالک کے درمیان ہونے والی جنگ کے اصل محرکات اور نتائج کو طشت ازبام کریں گے۔
یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سیز فائرکتنا عرصہ چلتی ہے۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ اسرائیل نے ماضی بعید اور ماضی قریب میں کسی بھی ملک یا قوم کے ساتھ ہونے والے اپنے کسی بھی وعدے کا پاس نہیں رکھا۔ اس کے توسیع پسندانہ عزائم آج بھی جوں کے توں ہیں۔ عراق کے ساتھ اس نے حالیہ کشیدگی کے دوران غزہ اور مغربی کنارے میں نہتے فلسطینیوں پر ناقابل نظیر مظالم جاری رکھے اور ان کا قتل عام کرتا رہا۔ جہاں تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کی طرح مکار،دروغ گو اور وعدہ خلاف ہے۔ امریکہ ہو یا اسرائیل دونوں کی قیادت ایسی تنگ نظر اور مذہبی جنونی لیڈرشپ کے ہاتھ میں ہے جو پاگل پن کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ اس لیڈرشپ کو نہ تو بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کا پاس ہے اور نہ ہی نسل انسانی کی بربادی کا خیال۔ گریٹر اسرائیل کے منحوس ایجنڈے نے دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے امن کو ایک نازک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں معمولی سی بھی لغزش یہاں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو کسی جہنم میں دھکیل سکتی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان موجود کشیدگی اگر نہ تھمی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔
یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسرائیل، امریکہ ، بھارت اور ان کے اتحادیوں کا اصل نشانہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے وہ آنے والے دنوں میں اس کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس وقت اپنی دفاعی پالیسی میں بھارت کے ساتھ اسرائیل اور امریکہ کے مذموم مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف بھی تیاری کرنا ہوگی۔ خاص طور پر مغربی سرحد پر نگرانی اور سکیورٹی کو مزید سخت کرنا ہوگا۔اسلام آباد کو ایران اور اسرائیل کہ موجودہ تناظر میں ہونے والی جنگی اور دفاعی  اقدامات ، حکمت عملی اور جدید اسلحے کے استعمال کے مختلف پہلوؤں پر گہری نظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی پالیسی تیار کرنا ہوگی۔
 ایسے میں دو اور خبریں بھی اہم ہیں۔ ایک خبر کے مطابق پنجاب کی جیلیں عقوبت خانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ان میں اصلاحات لانے کہ تمام دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی ان جیلوں میں بھیڑ بکریوں کی مانند بند ہے۔گرمی کے اس غیر معمولی اور شدید موسم میں حوالاتی اور قیدی تنگ بیرکوں میں رہنے پر مجبور ہے جہاں پنکھوں کے علاوہ گرمی کی شدت کو ختم کرنے کے لیے کوئی اور سہولت موجود نہیں۔ ان جیلوں میں نہ صرف منشیات باآسانی میسر ہے وہاں مٹھی گرم کرنے پر مرضی کی بیرک یا جیل کے ہسپتال میں شفٹ ہونا با اثر قیدیوں اور حوالاتیوں کے لیے کوئی مشکل امر نہیں۔ جیل کے عملے میں کرپشن اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ کوئی جائز کام بھی پیسے دیئے بغیر ممکن نہیں۔ قیدیوں پر تشدد معمول کا طریقہ کار سمجھا جاتا ہے۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل اس حوالے سے سر فہرست ہے ۔
ایک اور خبر کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے آڈٹ سال 2024-25 کی رپورٹ میں پنجاب حکومت کے اخراجاتی کھاتوں میں دس کھرب روپے سے زائد کی سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے، جن میں فراڈ، رقم کا غلط استعمال، زائد ادائیگیاں، مالی بدانتظامی، غلط خریداری، اور کنسولیڈیٹڈ فنڈ کی وصولیوں کا کمرشل بینکوں میں غیر مجاز طور پر رکھنا شامل ہے۔حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، آڈٹ کی اہم دریافتوں میں 14 کیسز شامل ہیں جن میں فراڈ اور رقم کا غلط استعمال شامل ہے، جن کی مالیت 3.1 ارب روپے بنتی ہے۔ 50 کیسز زائد ادائیگیوں، ریکوریز اور غیر مجاز ادائیگیوں کے ہیں جن کی مالیت 25.4 ارب روپے ہے۔ 21کیسز مالی بدانتظامی کے ہیں جن کی مالیت 10.6 ارب روپے ہے، جب کہ 45 کیسز غلط خریداری (Mis-Procurement) سے متعلق ہیں جن کی مالیت 43 ارب روپے ہے۔ 12 کیسز کنسولیڈیٹڈ فنڈ کی وصولیوں کو کمرشل بینکوں میں غیر مجاز طور پر رکھنے اور خود مختار اداروں کی جانب سے عوامی رقوم کو بغیر منافع والے اکائونٹس میں رکھنے سے متعلق ہیں، جن کی مجموعی مالیت 988 ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ، ہیومن ریسورس سے متعلق بے ضابطگیوں کے 24 کیسز کی مالیت 8.2ارب روپے اور کارکردگی سے متعلق خامیوں کے 7کیسز کی مالیت 3.6ارب روپے ہے۔
پنجاب حکومت شفافیت ، دیانت داری اور اختیارات و وسائل کہ درست استعمال کی دعویدار ہے۔غور طلب بات یہ ہے اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کا حکومت کے پاس کیا جواب ہے امید کی جاتی ہے کہ پنجاب حکومت جلد اس پر اپنا موقف پیش کرے گی اور اگر واقعی اس رپورٹ میں صداقت ہے تو ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن عمل میں لایا جائے گا۔

ٹیگز: