Wed, September 16, 2026

ایران، اسرائیل و امریکہ جنگ، بڑی تباہی ہو گی

ایران، اسرائیل و امریکہ جنگ، بڑی تباہی ہو گی

اکتوبر 2023ء میں حماس نے اسرائیل پر براہ راست حملہ کر کے اسرائیلی دفاعی نظام کے بارے میں پائے جانے والے تاثرات کو غلط ثابت کر دکھایا۔ دو سال تک اسرائیل، امریکہ و دیگر صہیونی دوست عیسائی ممالک کی متحدہ عسکری قوت کا دیوانہ وار مقابلہ کیا اور دنیا پر ظاہر ہو گیا کہ اسرائیل ناقابل شکست نہیں ہے۔ جاپان نے دوسری جنگ عظیم (1939-45) کے دوران پرل ہاربر پر حملہ کر کے امریکی سرزمین تک نارسائی کے تصور کی نفی کر دی تھی۔ دنیا سمجھتی تھی کہ امریکی سرزمین ناقابل رسائی ہیں۔ ان پر براہ راست حملہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جاپانی حملے نے اس تاثر کی نفی کر دکھائی۔ اسی طرح حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے ان کے آئرن ڈوم حصار کے ناقابل تسخیر ہونے کے تاثر کی نفی کر دی۔ 2سال تک اسرائیلی حواریوں کی متحدہ جنگی حکمت عملی کا مقابلہ کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ اسی طرح ایران نے اسرائیل اور امریکہ کی متحدہ قوت کا مقابلہ کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ ایران اسرائیل اور امریکی اہداف پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے۔ امریکی عسکری قوت کا ناقابل تسخیر ہونے کا تاثر بھی ملیامیٹ ہوتا نظر آرہا ہے۔ اسرائیل خطے میں ایک موثر عسکری قوت کے طور پر موجود ہے۔ عرب سر نگوں کئے جا چکے ہیں۔ سعودی عرب ہو یا عمان، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت و غیر ہم سب امریکہ کے آگے سرنگوں ہو چکے ہیں۔ عربوں کے عسکری بازو مصر، عراق و شام سب کچھ ملیامیٹ کئے جا چکے ہیں۔ عربوں کی فکری قوت اخوان المسلمون بھی تاریخ کا حصہ بنائی جا چکی ہے۔ عربوں کی اسلامی حمیت کو عرب نیشنل ازم کے ذریعے مدت ہوئی سپردخاک کیا جا چکا ہے۔ صہیونی تحریک ایک صدی سے یہودیوں کے لئے عظیم ریاست کے قیام کے سرگرم عمل ہے۔ صہیونی تحریک اپنی قوت تورات سے حاصل کرتی رہی ہے۔ ریاست اسرائیل بھی اپنے آپ کو الہامی اور وعدہ خداوندی کی تکمیل تصور کرتی ہے۔ گریٹر اسرائیل کی تعمیر و تکمیل ایک الہامی ذمہ داری جانی جاتی ہے۔ صہیونی تحریک عالمی غلبے کے حصول کے لئے کوشاں ہے، انہیں کامیابی بھی مل رہی ہے۔
حماس نے جس طرح اسرائیلیوں کے ظلم و ستم کا مقابلہ کیاوہ تاریخی اور قابل ستائش ہے۔ وہ جھکے نہیں، انہوں نے شکست تسلیم نہیں کی، وہ ڈٹے رہے۔ تاریخ رقم کرتے رہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کی کمر توڑی جا چکی ہے۔ غزہ ملیامیٹ کیا جا چکا ہے۔ کسی عرب اور مسلم ملک نے حماس کی مدد نہیں کی۔ ایران نے امریکہ و اسرائیل کی متحدہ عسکری قوت کے ساتھ متکا لگایا ہے، اسے للکارا ہے، وہ مثالی ہے۔ ایران ایک قومی ریاست ہے۔ ایرانی ایک قوم ہیں۔ ان کی ایک قومی تاریخ بھی ہے۔ شیعہ مسلک نے ان کی قومیت کو اور بھی مستحکم کر دیا ہے۔ امام خمینی کے انقلاب نے ایرانی قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوا ربنا دیا ہے۔ بوجوہ کوئی بھی مسلم ملک ایران کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آرہا ہے۔ ایران طویل عرصے سے عالمی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے، اس کی معیشت تباہ حال ہے۔ ایران پر حملے نے خطے میں خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایرانی عسکری حکمت عملی نے اس صورتحال کو دوچند کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز بند کی جا چکی ہے، جہاں سے تیل کی عالمی تجارت کا 20فیصد گزرتا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور قطر کی درآمدی تیل کا 90فیصد اس آبنائے سے گزرتا ہے۔ ہندوستان کی درآمدی تیل کا 60 فیصد ہرمز سے گزر کر وہاں پہنچتا ہے۔ ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر عرب ممالک کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ ایران صرف ان ممالک میں قائم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا لیکن ایرانی میزائل تو متحدہ عرب امارات کے سویلین ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ جنگ ایران اسرائیل، ایران امریکہ کے ساتھ ساتھ ایران، عرب جنگ کی شکل بھی اختیار کرتی نظر آرہی ہے۔ امریکہ، ایران کو ایک دہشت گرد ملک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، اسے عربوں کو ڈرانے، دھمکانے کے لئے استعمال کرتا رہا ہے۔ یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ ایران خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہا ہے۔ ایران کے حمایتی گروپ اور ممالک یعنی شام، عراق اور لبنان عرب حکمرانوں کے مفادات کے خلاف متحرک رہے ہیں۔ ایران مسلکی بنیادوں پر مختلف مسلح گروہوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ حماس کی حمایت اس پالیسی سے انحراف ہے۔ حماس، الٹرا سنی گروپ ہے جسے سارے فلسطینیوں کی بھی حمایت حاصل نہیں ہے۔ حماس کو عرب حکمران پسند نہیں کرتے ہیں کیونکہ حماس ایسے آزاد فلسطین کے قیام کے لئے کوشاں ہے، جس کا مرکز بیت المقدس ہو گا۔ یہ بات اسرائیل کو کسی طور بھی قبول نہیں ہے۔ حماس فکری طور پر ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی اسرائیل کو ناجائز ریاست تصور کرتی ہے اور اس کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے۔ عرب حکمرانوں کو پسند نہ کرنا، اسرائیل کو ناجائز ریاست ماننا اور اس کے لئے عملاً جدوجہد کرنا، ایسے نقاط ہیں جو حماس اور ایران کے مابین مشترک ہیں اس لئے یہ دونوں ایک دوسرے کے حامی و مددگار ہیں۔ گریٹر اسرائیل کا قیام یہود کی ازلی و ابدی خواہش ہے۔ وہ اسے وعدہ خداوندی تصور کرتے ہیں اور اسے خدائی حکم یعنی گریٹر اسرائیل کی تعمیر ان کے نزدیک ایک الہامی فرض اور خدائی وعدہ ہے۔ وہ اس کے لئے مصروف عمل ہیں۔ مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ وہ فکری و عملی طور پر اس کی راہ میں 
مزاحم ہیں۔ یروشلم کو ایک مقدس شہر سمجھتے ہیں اور اسے ریاست فلسطین کا دارالحکومت، عربوں کو صہیونیوں نے مکمل طور پر، فکری اور عملی سطح پر اپنا محکوم بنا لیا ہے۔ حماس اس حوالے سے آخری مورچہ تھا جو انہوں نے فتح کر لیا ہے۔ ایران اب ان کا فعال ہدف ہے، اسے تباہ و برباد کرنے کے لئے انہوں نے حالیہ جنگ شروع کی ہے۔ عالم، اسباب کو دیکھیں تو کوئی اور صورت نظر نہیں آتی کہ ایران تباہ ہو جائے گا۔ امریکہ و اسرائیل کی اندھی عسکری قوت کے بل بوتے پر ایران کو اپاہج کیا جائے گا۔ حالات بظاہر اسی سمت جاتے نظر آرہے ہیں۔ ہاں کوئی معجزہ ہو جائے تو دوسری بات ہے۔ ایران نے جس طرح جنگی حکمت عملی کو اسرائیل پر مرتکز کرنے کی بجائے دیگر عرب ممالک کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس سے عرب و عجم کی ایرانی رقابت بھی جھلکتی نظر آسکتی ہے۔ عرب و عجم کی دشمنی کی روایت بھی سامنے آسکتی ہے بہرحال اب جنگ شروع ہو چکی ہے خطہ شعلوں کی لپیٹ میں آگیا ہے اور یہ جنگ فوری طور پر رکتی یا بند ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ تیل کی عالمی تجارت متاثر ہوگی۔ سٹاک مارکیٹیں تباہ ہوں گی۔ جاری منصوبے رک جائیں گے۔ خطہ کی طرف آتی سرمایہ کاری منجمد ہو گی اور اس کا رخ کسی اور طرف بھی ہو سکتا ہے۔ حالات غیر معمولی ہیں، اس لئے انجام بھی غیرمعمولی ہو سکتا ہے۔ تباہی و بربادی، مکمل تباہی و بربادی۔ اللہ خیر کرے۔

ٹیگز: