Wed, September 16, 2026

ایران اسرائیل جنگ، کس کوکیا ملا؟

ایران اسرائیل جنگ، کس کوکیا ملا؟

13 جون کواسرائیل کے ایران پر اچانک حملے نے دنیا، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں خوف کی لہرپیدا کر دی تھی۔ حملے میں ایرانی فوجی قیادت اور جوہری وسائنسی مذاکرات کاروں کی شہادت نے ایران کے لئے جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا تھا۔ بظاہر اسرائیل دفاعی اور اقدامی صلاحیت کے سامنے ایرانی استعداد پریشان کن تھی۔ اسرائیل کے پاس اپنی سرزمین کے دفاع کے لئے آئرن ڈوم، سلنگ اور ایرو جیسا تین تہوں والا اینٹی میزائیل سسٹم اور اقدامی جنگ کے لئے جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی سے لیس ایف۔35، ایف 16 اور 15 موجود تھے۔ تیسرا اسرائیل نے برسوں کی محنت سے ایران میں ایک مضبوط اور متحارب جاسوسی نیٹ ورک بنا لیا تھا جو کہ ایران کے اندر تک کارروائی کرنے کی استعداد حاصل کر چکا تھا۔ دوسری جانب ایران دنیا کے بہترین تیل اور گیس کے ذخائر رکھنے کے باوجود 40 برس سے زائد مسلسل امریکی پابندیوں کے باعث معاشی اور ٹیکنالوجی اعتبار سے ایک پسماندہ ملک تصورکیاجاتا ہے۔ لیکن تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ایران نے اپنے اینٹی سامراج انقلاب (مرگ بر امریکہ) کا انتہائی کامیابی سے دفاع کیا ہے۔ سامراجی تعاون سے مسلط کردہ 8 سالہ عراق ایران طویل جنگ، عراق پر امریکی قبضے کے بعد اپنی سرحدوں پر القاعدہ اورداعش جیسے سپانسرڈ دہشت گرد گروپوں سے مسلسل دہائیوں تک برسرپیکار رہنے کے باوجود ایرانی قوم کو امریکی واسرائیلی جنگی اور کلچرل اثرات سے محفوظ رکھنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ مضبوط اور خوشحال بننا ہر ملک کا حق ہے۔ لیکن کیا اس خوشحالی کا حصول سامراجی چاپلوسی اور اپنے عوام کو غلام بنا کر ہونا چاہئے یا حقیقی آزادی کے تصور کے ساتھ؟ مغربی پراپیگنڈے کے برعکس ایران سفرکرنے والے لوگ جانتے ہیں کہ ایرانی لوگ کتنے مطمئن اور خوش ہیں۔ ایرا نی انقلاب نے اپنے عوام کی شعوری تربیت میں دینی اخلاقیات،روحانیت اور ایرانی قوم پرستی کو اس طرح سے اجاگر کیا ہے کہ ان کی دینی اور قومی غیرت ایک ہو چکے ہیں۔ ایران دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو امریکی تسلط سے آزاد تصورکئے جاتے ہیں۔ یہی بات امریکہ، اسرائیل اوراس کے کلب میں موجود مشرق وسطیٰ کے ممالک کونہیں بھاتی۔ ایران کے ہمسائے میں موجود امریکہ کے زیراثر سعودی عرب، قطر،عراق، اردن،کویت، متحدہ عرب امارات اور شام کے حکمران اپنی عوام پر بادشاہی تسلط قائم رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی جمہوری تبدیلی سے خائف رہتے ہیں۔ نذرانے کے طور پر امریکا کو اپنے تیل و گیس کے وسائل تک رسائی، تجارتی اور دفاعی معاہدوں کی صورت میں معاشی فوائد پہنچاتے ہیں۔ یہ معاشی فوائد دراصل اس خاموش حمایت کی قیمت ہے جو امریکہ ان غیر جمہوری ممالک کو فراہم کرتا ہے۔ اسرائیل کو قبول کرنا بھی اس پیکیج کاحصہ ہے۔ فلسطینیوں پر کئی عشروں سے اسرائیل توسیعی عزائم اور ظلم و بربریت کے خلاف مشرق وسطیٰ کے امریکی کلب نے کبھی مزاحمت تو درکنار مذمت بھی نہیں کی۔ ایران میں رجیم کی تبدیلی عنوان سے کئی دہائیوں سے پراپیگنڈہ اور کوششیں جاری ہیں۔ ایران کے پر امن ایٹمی پروگرام کو مغربی میڈیا نے دنیا اور مشرق وسطیٰ کے لئے مسلسل بہت بڑے خطرے کے طور پر پیش کیا ہے۔ حالانکہ ایران بارہاکہہ چکا ہے کہ وہ محفوظ جوہری توانائی کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ اس سلسلے عالمی ایٹمی تونائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی امریکی دعوؤں کی نفی کر چکے ہیں۔ ایران پھر بھی امریکی دھوکہ دہی پرمبنی(نیوکلئیر ڈیل) مذاکراتی ٹیبل پر آگیا تھا۔ دراصل امریکہ اور اسرائیل مذاکرات کی بجائے ایران میں اپنی آلہ کار حکومت لانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ مسلسل ناکامی کے بعد امریکی آشیرباد سے اسرائیل نے غلط اندازوں کی بنیاد پر ایران پر حملہ کر دیا۔ اس سے قبل یمن اورلبنان میں موجود اینٹی اسرائیل، ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کو کافی حد تک محدود کیا جا چکا تھا۔ متروک ٹیکنالوجی کی حامل ایرانی فضائیہ، محدود وسائل اور اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک کی بنیاد پر یہ اندازہ قائم کیا گیا تھا کہ شاید ایران ان حملوں کی تاب نہیں لا سکے گا۔ اس کے لئے 2000 کلومیٹر دور مضبوط دفاعی حصار میں موجود اسرائیل کو نشانہ بنا ناناممکن ہوگا۔ جبکہ اسرائیلی فضائیہ کے تابڑ توڑ حملے ایرانی عوام کو اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر مجبور کر دیں گے۔ ایرانی جوابی مزاحمت اورکامیاب جنگی حکمت عملی نے دنیا کو حیران و ششدر کر کے رکھ دیا۔ اس نے امریکی بغل بچے اسرائیل کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ ایران نے ابتدائی حملوں میں اپنی قدرے پرانی ٹیکنالوجی کے میزائل استعمال کئے،امریکی فراہم کردہ ڈیفنس سسٹم سلنگ،ایرو اور آئرن ڈوم کی صلاحیت کو نصف سے بھی نیچے لے گئے۔ بعد ازاں جدیدبلیسٹک میزائلوں کے ذریعے اسرائیلی شہروں تل ابیب اور حیفہ سمیت اہم اہداف کوکامیابی سے نشانہ بنا کر 2000 کلومیٹر دور بیٹھے جدید ٹیکنالوجی کے حامل دشمن کوبنکروں میں چھپنے پرمجبور کر دیا۔ جبکہ ایرانی عوام نے ہزاروں کی تعداد میں جمعہ کے اجتماعات، شہدا کے جنازوں اورسڑکوں پر نکل کر اسرائیل اورامریکہ کے خلاف نعرے بازی کے ذریعے رجیم چینج کے پراپیگنڈے کو دفن کر دیا ہے۔ ایران کے اسرائیلی اہداف پر کامیاب حملوں نے امریکہ سے لی گئی ٹیکنالوجی کے پرخچے اڑا دیئے ہیں۔ اب دنیا میں امریکی جنگی ٹیکنالوجی کی بچی کھچی ساکھ بھی داؤپرلگ چکی ہے۔ روسی صدر نے بھی اس بات پراطمینان کااظہار کیا کہ ایران خود کامیابی سے اپنا دفاع کر رہا ہے۔ عمارتوں کے ملبے کے ڈھیر پر کھڑا نیتن یاہو ایک بے بسی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ یہ سب کچھ امریکی بوکھلاہٹ بڑھا رہی تھی۔ ایسے میں امریکی داخلی نظام پر اثررکھنے والی یہودی لابی اور پینٹاگون کے زیر اثر 
صدر ٹرمپ کو ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کا حکم دینا پڑا۔ حملے کے بعد صدرٹرمپ کا اپنے منہ سے امریکی جنگی فوقیت کو بیان کرنا ایسے ہی تھا جیسے کوئی اپنی داؤپرلگی ساکھ کو بچانے کو کوشش کررہا ہو۔ امریکہ کے بی۔52 بمبار طیاروں نے ایران میں تین نیوکلیئر تنصیبات نطنز، فردو اور اصفہان پر حملے کا دعویٰ کیا۔ امریکہ نے اس حملہ میں 3000 پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کئے جو کہ 59 فٹ کی گہرائی تک نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جبکہ مذکورہ ایرانی جوہری تنصیبات 80 سے 200 فٹ زیر زمین بنائی گئی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق حملے سے قبل جوہری مواد محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا تھا۔ بادی النظر میں امریکانے نے اپنے بم ضائع کئے ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے اس دوران اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر جدید میزائلوں سے حملے جاری رکھے۔ عراق اورقطر (سینٹ کام ہیڈ کوارٹر) میں موجود امریکی بیسز پر اس وقت حملہ کیا گیاجب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی روس میں موجود تھے۔ آبنائے ہرمز کا کارڈ بروئے کار لائے بغیر ایران نے یہ جنگ جیت لی ہے۔ اسرائیلی کارڈ فیل ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ کا امریکی کلب جنگ ختم کرنا چاہتاہے۔ جنگ کا اختتام کیا ہوگا اس کی شرائط اب ایران طے کرے گا۔

ٹیگز: