Wed, September 16, 2026

سینٹ الیکشن تو ہو چکے

سینٹ الیکشن تو ہو چکے

سینٹ الیکشن تو ہو چکے لیکن اس میں تحریک انصاف میں جو دھول اڑائی گئی اس کی مثال کم ہی ملتی ہے ۔انہی تحریریوں میں کئی بار عرض کر چکے ہیں کہ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا فائر بیک کرے گا اور پاک بھارت جنگ کے دوران سوشل میڈیا پر جس طرح ریاست مخالف بیانیہ بنایا گیا تحریک انصاف کو شاید اندازہ نہیں ہے کہ اس نے کس قدر بیک فائر کیا کہ اس کا دفاع کرنا تحریک انصاف کے لئے کسی طور ممکن نہیں لیکن اب حالات اس سے مزید کئی قدم آگے نکل چکے ہیں اور اب تحریک انصاف کی قیادت اور خاص طور پر بانی تحریک انصاف کی جانب سے جو کھوکھلی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جن کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر وہ بھی بیک فائر ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔ اس کی ایک بڑی مثال وہ تحریک ہے جو ابھی شروع نہیں ہوئی اور اس میں ما سوائے کنفیوژن کے کچھ اور نظر نہیں ہی آ رہا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس کے شروع ہونے کے حوالے سے بھی کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی ۔ یہ تحریک رمضان کے بعد شروع ہونا تھی لیکن چلیں اس وقت شروع نہ ہو سکی لیکن اس میں کوئی کنفیوژن نہیں تھا کہ پارٹی قیادت نے کہا تھا کہ بکرا عید کے بعد تحریک شروع ہو گی اس کے بعد ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی نے تحریک کو دو ہفتوں کے لئے ملتوی کر دیا چلیں یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے لیکن کنفیوژن وہاں سے شروع ہوئی کہ جب بانی پی ٹی آئی کا پیغام علیمہ خان صاحبہ کے ذریعے کارکنوں تک پہنچا کہ دس محرم کے فوری بعد تحریک شروع ہو گی لیکن پھر بارہ محرم کو علیمہ خان صاحبہ نے ہی ایک مرتبہ پھر بانی کا پیغام دیا کہ تحریک 5اگست کو شروع ہو گی اور اسی پیغام میں انھوں نے کارکنوں کو اپنے تئیں چارج کرنے کے لئے یہ خوش خبری بھی سنائی کہ 5اگست کو شروع ہونے والی تحریک میں خان صاحب کے بیٹے بھی شریک ہوں گے اور پھر صاحبزادوں کی آمد کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ پاکستان آنے سے پہلے امریکہ جائیں گے ۔ اب یہاں ایک لمحہ کے لئے رک جائیں ۔ امریکہ میں سب سے زیادہ پاور فل شخص امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں ۔ جن لوگوں نے خان صاحب کے بیٹوں کے امریکہ جانے کا شوشا چھوڑا تھا یہ وہی لابی ہے کہ ٹرمپ نے ابھی حلف نہیں اٹھایا تھا کہ اس نے ناچ ناچ کر گھنگھرو توڑ دیئے تھے اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان تھا اور تاثر یہ دیا جا رہا تھا کہ ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلا کام یہی کرنا ہے کہ اپنے طیارے میں بیٹھنا ہے اورسیدھا اڈیالہ جیل میں اترنا ہے اور خان صاحب کو رہا کرا کر اپنے ساتھ ایوان صدر لے جا کر وزارت عظمیٰ کا حلف دلانا ہے ۔ اس کے بعد اسی لابی نے ” نئی خبر آئی ہے رچرڈ گارنیل ہمارا بھائی ہے “ اور پھر ” نئی خبر آئی ہے جو ولسن ہمارا بھائی ہے “ کا ٹرینڈ سوشل میڈیا پر چلا کر خان صاحب کے فین کلب کے جذبات کو کیش کرا کر اپنی جیبیں ڈالروں سے بھرتے رہے تھے ۔
تحریک انصاف کی جانب سے سینٹ کے امیدواروں کے نام سامنے آنے کے فوری بعد کارکنوں میں زبردست اضطراب پایا گیا اور یہ الیکشن کے بعد بھی جاری ہے ۔ کسی بھی جماعت میں جب اس طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں تو فطری سی بات ہے کہ اسے قیادت ہی سلجھاتی ہے لیکن یہاں حالت یہ تھی کہ اس سارے کام کو جیل سے باہر پی ٹی آئی کی قیادت پر ڈال دیا اور کہا گیا کہ خان صاحب کو تو شاید ان ناموں کا علم بھی نہ ہو ۔اب تحریک انصاف میں جو مقلد قسم کے کارکن ہیں وہ تو شاید اس بات پر یقین کر لیں لیکن جن میں تھوڑی سی عقل اور شعور ہے ان کا اس بات پر یقین کرنا مشکل تھا اس لئے کہ وہ بانی پی ٹی آئی جو خیبر پختون خوا کا بجٹ تک اپنی مرضی و منشا سے پاس کرانا چاہتے تھے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ سینٹ کے الیکشن جیسا انتہائی اہم موقع ہو اور وہ فری ہینڈ دے دیں کہ ان کی مرضی کے بغیر بلکہ سرے سے ان کے علم میں لائے بغیر ہی سینٹ کے امید واروں کے نام فائنل کر دیئے جائیں ۔ اس کے علاوہ اس کام کے لئے جو انتہائی بوگس حکمت عملی اپنائی گئی اس نے بھی بیک فائر کیا ۔
مخصوص نشستوں پر ارکان کے حلف کے لئے اتوار کو حلف لیا جانا تھا لیکن پورے میڈیا میں یہ خبر آ چکی تھی کہ کورم کا بہانہ بنا کر خیبر پختون خوا اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا جائے گا ۔ اس طرح اگر امور سلطنت رکنے لگیں تو پھر تو ریاست جام ہو کر رہ جائے گی لہٰذا الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور انھوں نے گورنر خیبر پختون خوا کو حلف لینے کا کہہ دیا جو دوسرے دن سینٹ الیکشن سے پہلے ہو گیا ۔کام وہ تھا کہ جو ہو گیا اور اسے ہونا ہی تھا کہ مخصوص نشستوں پر ارکان نے حلف بھی لے لیا اور سینٹ الیکشن بھی ہو گئے تو تحریک انصاف اور اس کی قیادت جس میں ہم خاص طور پر بانی تحریک انصاف کا ذکر کریں گے کہ ان کے ہاتھ کیا آیا اس پوری صورت حال میں سوائے کارکنوں کی ناراضی کے ۔کہا یہ جاتا تھا کہ خان صاحب کی اپنی پارٹی پر گرفت بڑی مضبوط ہے لیکن صورت حال اس کے بالکل الٹ ہے دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی جیلوں میں رہی لیکن ان کی گرفت مضبوط رہی لیکن خان صاحب کی اپنی حکمت عملیوں کی بدولت آج جیل سے باہر تحریک انصاف کی قیادت ہی نہیں بلکہ کارکن بھی ان کے فیصلوں سے نالاں نظر آتے ہیں ۔

ٹیگز: