کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ملک ٗ جغرافیہ ٗ قوم اور اقتدارِ اعلیٰ کتنی قربانیوں اور اذیتوں کو سہہ کر ملتا ہے ۔ جدید دنیا کی ایک ریاست بھی ایسی نہیں جوکسی کو بنی بنائی مل گئی ہواس کے پیچھے نسلوں نے اپنا سب کچھ نچھاور کردیا تھا۔ حکومتیں مستقل نہیں ہوتیں ٗآج شہباز شریف کی ہے تو کل پیپلز پارٹی کی ہو گی یا پھر وہ جسے عوام چاہیں گے لیکن ریاست ایک مستقل ادارہ ہے جس کے اندر رہ کر جمہوریت ٗ آمریت ٗ بادشاہت ٗ جیسے سب کھیل کھیلے جا سکتے ہیں لیکن اگر ریاست کا وجود خطرے میں پڑجائے تو اُس کا ذمہ دار نہ تو ایک فرد ہوتا ہے ٗ نہ ایک سیاسی جماعت اور نہ ہی ایک ادارہ !بلکہ یہ ذمہ داری پوری قوم کی ہوتی ہے ۔دنیا کی ہرکامیاب ریاست سب سے بڑی انویسٹمنٹ اپنے شہریوں کی ذہنی تربیت پر کرتی ہے۔ تربیت یافتہ فرد ہے تو پل ٗ سٹرکیں ٗ ریل ٗ ائرپورٹ ٗ سکول ٗکالج ٗ یونیورسٹیز ٗ ہسپتال ٗدفاعی ادارے ٗ قانون ساز ادار ے اور انتظامی ادارے بنا لے گا لیکن اگر آپ افراد کو نظراندز کرکے سٹرکیں ٗ پل اور ریلیں بنا بھی لیں تو تمام ادارے مل کر افراد نہیں بنا سکتے کیونکہ اُن میں بھی ذہنی طور پر بیمار لوگ ہی بیٹھے ہوں گے ۔کیونکہ ریاست نے اُن کی ذہنی صلاحیتیں بڑھانے کے بجائے اُنہیں شاہ دولہ کے چوہے بنانا زیادہ مناسب سمجھا ۔ کے پی کے ٗ کی حکومت افغانستان کے ذریعے بھارت کے رابطے میں ہے ۔ بلوچستان میں افغان طالبان اور’’ را‘‘ خود بیٹھ کر بی ۔ ایل ۔اے کی سربراہی کر رہی ہے ۔ سندھ میں پیپلز پارٹی پسماندہ سندھ کی بڑی جماعت ہے اور بڑے شہروں کا اللہ ہی حافظ ہے ۔ رہا پنجاب تو کے پی کے کی حکومت عرصہ دراز سے پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف زہر کا بیج بو رہی ہے اورحیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایسا کرنے والے پہاڑوں پر نہیں اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ بلوچستان جاتے ہوئے پنجاب اور سندھ کے لو گ اب سو بار سوچتے ہیں اور وہی جاتے ہیں جو اگر نہ جائیں تو بھوک یا زیارتیں کیے بغیر ویسے ہی مرجائیں سو اس دو طرفہ موت میں سے انہیں ایک کا انتخاب تو کرنا ہی پڑتا ہے ۔چاروں صوبوں کے لوگ پنجاب میں آ کر ہرجائز اور ناجائز کام اپنی آزاد مرضی سے کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کے لوگ اُسی آزادی سے کے پی کے ٗ بلوچستان اور سندھ میں اپنا کام دھندہ کرسکتے ہیں؟ ۔
عمران نیازی تو ساری تحریک انصاف کو دھوکے میں رکھتے ہوئے سینیٹ کا ٹکٹ گزشتہ ماہ ہی مرزا آفریدی کو جاری کر چکا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ اُس کے فارم ہاوس پر بچی کھچی تحریک انصاف کا اکٹھ ہوا ۔’’معصوم‘‘ جنیداکبر کو تو یہی علم نہیں تھا کہ یہ فارم ہائوس کس کا ہے ۔سلمان اکرم راجہ عجیب و غریب شخصیت ہیں کہ پروگرام کے بعد کہہ رہے ہیں کہ اگر مرزا آفریدی کے فارم ہاؤس پر نہ جاتے تو بہتر تھا،مرزا آفریدی کے فارم ہائوس کو استعمال کرنے سے میرا تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے اور ٹکٹ پیسے والے کو ہرگز نہیں ملے گی ۔ علیمہ خان کو تحریک 90 دن آگے لے جانے کا تین دن بعد بھی پوچھا گیا تو انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو اس کا کوئی علم نہیں تحریک تو5 اگست کو ہر حال میں شروع ہو گی ۔علی امین گنڈا پور جو اپنے لائو لشکر سمیت لاہور پہنچے تھے انہوں نے سب دوستوں کو یقین دلایا تھا کہ مرزا آفریدی کو کسی صورت ٹکٹ نہیں ملے گی۔ مفرور یوٹیوبر عمران ریاض نے الزام لگایا ہے کہ مرزا آفریدی نے 15کروڑ میں ٹکٹ خریدی اُس نے یہیں پر بس نہیں کی بلکہ اُن لیڈروں کے نام بھی بتا دیئے جنہوں نے حصہ بقدرِ جثہ وصول کیا ۔ اب عمران نیازی کی کھلی منظوری کے بعد جو نام سامنے آئے ہیں اُن میں مرزا محمد آفریدی کا نام بھی شامل ہے ۔ اب اِ ن آفریدی صاحب کی تحریک انصاف کیلئے کیا خدمات ہیں یہ سوائے عمران نیازی کے کوئی نہیں جانتا۔ مرزا محمد آفریدی نے 2018 ء میں اپنے سرمائے کی طاقت سے تحریک انصاف کے ووٹ خرید کر خیبرپختونخوا سے سینیٹر بنا اور ن لیگ میں شامل ہو گیا۔ 2021 ء میں سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہوا تو تحریک انصاف نے بغیر کسی شرم حیا کے ووٹ خریدنے والے کو پارٹی میں شامل کر لیا اور نہ صرف شامل کیا بلکہ صادق سنجرانی کے ساتھ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بھی بنوا دیا گو کہ یہ الگ سے ایک ڈیل تھی ۔ یہ شخص 9 مئی کے حملوں کے بعد تحریک انصاف کے اس سیاہ مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ گیا اور اس پر قاباعدہ ویڈیو پیغام جاری کیا۔ مرزا محمد آفریدی پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کا چچازاد بھائی ہے ۔ پی ٹی آئی کے کارکنان اور خیر خواہ صحافی اُسے اسٹیبلشمنٹ کا کارِ خاص اور ’’ بھگوڑا‘‘ ڈکلیئر کرتے رہے ہیں لیکن عمران نیازی نے چونکہ اُسے ٹکٹ جاری کردیا ہے سو مجھے پوری امید ہے کہ یوتھیا بریگیڈ اس میں سے بھی عمران نیازی کے روحانی اور اخلاقی جواز تراش ہی لیں گے کہ یہی آج تک کا وتیرہ رہا ہے ۔
عمران نیازی نے آج تک جتنا نقصان کیا ہے وہ قوم کا تھا لیکن اب وہ اپنی سوچ کے غلط استعمال سے اپنا اور اپنے چاہنے والوں کا نقصان کر رہا ہے اور یہ شخص اس میں اپنے بچوں کو بھی گھسیٹ لے گا کہ عمران نیازی کے تمام بیانیے جس میں اینٹی امریکہ ٗ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور پرو اسلامی تھا ایک ایک کر کے زمیں بوس ہو چکے ۔ اب موروثی سیاست کا آخری ڈھونگ بھی عوام کے سامنے برہنہ ہونے جار ہا ہے کہ اُس نے توجلسوں میں برملا کہاتھا کہ اگر میرے بچے کبھی آ کر سیاست کریں تو ہرگز اُن کا ساتھ نہ دینا ۔ عمران نیازی تو یہ بھی نہیںجانتا کہ وہ کچھ نہیں جانتا ۔ اس وقت تحریک انصاف میں چاروں طرف اسٹیبلشمنٹ کھیل رہی ہے اوراس میں غیر نہیں اُس کے اپنے گھر والے بھی شامل ہیں جوکسی بھی صورت میں عمران نیازی کو جیل سے نکلوانا چاہتے ہیں لیکن اس بار ’’ یار کا پائو ں اپنی ہی زلفِ دراز میں الجھ چکا ہے اور صیاد خود اپنے جال میں آ چکا ہے ۔ گنڈا پور ہو یا علیمہ خان ٗ گوہر ہو یا راجہ سلمان ٗ اگر عمران نیازی سمجھتا ہے کہ یہ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں نہیں تو جان لیں کہ عمران نیازی کے پاس کچھ بھی نہیںبچا ۔ رہی بات عالیہ حمزہ کی تو اُسے میں اُس زمانے سے جانتا ہوں جب وہ گورنر پنجاب چوہدری سرورکے ’’ آفس ‘‘ میں ہوا کرتی تھیں ۔ یاد رکھیں ! سیاست میں جو لوگ حادثاتی طور پر آ جاتے ہیں انہیںدوسرا حادثہ نگل جاتا ہے ۔ وہی دن قریب آ رہے ہیں جن کی نشاندہی میں نے 9 مئی کے فوری بعد کردی تھی ۔ ریاست کے ساتھ ریاست سے کم طاقت کے ساتھ ٹکرانے جیسے بڑی بیوقوفی کوئی نہیں ہوتی اورشاید عمران نیازی کو ابھی اس کا ادراک نہیں ہوا۔