چاچا رشید آج افسردہ اور بوجھل قدموں سے چوپال میں داخل ہوئے۔ نتھو اور پھتو نے ان کو دیکھا اور کہا کہ چاچا رشید کیا بات ہے ؟ آپ خلاف توقع بہت افسردہ ہیں کیا پریشانی ہے؟۔ چاچا رشید نے کہاکہ بھئی نتھو اور پھتوہم سب یہ تو کہتے ہیں کہ معاشرہ خراب ہے اور اس میں صنف نازک کا ہاتھ ہے لیکن مجھے میری بہو کے سوال نے سوچ میں مبتلا کردیا ۔نتھو پھتواور دوستو سب بتاﺅ بھلا کیا میری بہوکی سوچ غلط ہے کہ اگرمعاشرے میں مرد ٹھیک ہو اور مائیں اپنے بیٹوں کی تربیت سخت کریں تو شائد آدھے سے زیادہ جرائم کم ہوجائیں۔۔ چاچا رشید کی بات سن کر سب اثبات میں سر ہلانے لگے۔۔۔ اتنے میں چپ سائیںبھی چوپال میں داخل ہوگئے اور بعداز سلام اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ۔ ۔ ۔ نتھو اور پھتونے کہاکہ سائیں جی چاچا رشید نے آج بہت پتے کی بات کی ہے۔۔ چپ سائیں بولے۔ ۔بھئی دوستو، رشید بھائی نے ایسی کیا بات کردی کہ آپ سب ان کی تائید کررہے ہو۔ اس پر سراج جو پیشے کے اعتبار سے دکان دار تھا، بولا۔۔۔سائیں جی۔۔۔چاچارشید کاکہنا ہے کہ اگر مائیں اپنے بیٹوںکی تربیت انتہائی سخت کریں تو معاشرے کی آدھی برائیاں ختم ہوسکتی ہیں۔۔۔ اس پر چپ سائیں فوراً بولے۔۔۔بھئی دوستو بات تو سو فی صد سچ کہی ہے۔۔۔پھتو بولا سائیں جی آپ ہی اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔
چپ سائیں بولے۔۔دوستو۔۔۔بیٹے کو سکھادے ماں عورت کا مقام۔۔۔ پھر نہ ہوگا کہیں کوئی ظلم کاپیغام۔۔۔۔سچ ہے کہ ماﺅں کو چاہئے کہ بیٹوں کی تربیت کریں تاکہ بیٹیاں محفوظ ہوں۔چپ سائیںبات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولے۔۔۔ہر معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار اس کے افراد کی تعلیم، تربیت اور رویوں پر ہوتا ہے۔ خاص طور پر ما¶ں کا کردار معاشرتی تبدیلیوں میں بہت اہم ہوتا ہے۔ ایک پرامن اور محفوظ معاشرہ وہی ہو سکتا ہے جہاں خواتین کو عزت اور تحفظ ملے اور یہ سب ممکن ہے اگر مائیں اپنے بیٹوں کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ عورتوں کا احترام کریں اور بیٹیوں کو محفوظ رکھیں۔
صاحبو!مرد کل کے شوہر، بھائی، باپ اور
بیٹے ہوتے ہیں۔ ان کا کردار خواتین کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر بیٹے صحیح تربیت کے ساتھ بڑے ہوں تو وہ اپنے کردار کو سنبھال سکتے ہیں اور خواتین کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر مردوں کو یہ تعلیم نہ دی جائے کہ عورت کو برابر کا حق اور عزت دینی چاہیے، تو وہ معاشرتی ناانصافیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
مائیں بچوں کی پہلی استاد ہوتی ہیں۔ بچپن سے ہی وہ بچوں کی اخلاقی اور سماجی تربیت کا آغاز کرتی ہیں۔ اگر مائیں اپنے بیٹوں کو احترام، برداشت، اور عورتوں کی اہمیت کا درس دیں گی تو یہ بیٹے بڑے ہو کر ایک بہتر معاشرہ بنانے میں مدد کریں گے۔ مائیں بچوں کو زندگی کے اصول سکھاتی ہیں، لہٰذا ان کا کردار ناگزیر ہے۔دوستو! بیٹوں کو سکھایا جائے کہ عورت مرد کے برابر ہے، اور ہر فرد کو عزت کا حق حاصل ہے تو یہ سوچ غلط نہیں ہے اور بیٹیوں کا عورت کو تحفظ دے گی۔ بھائی رفیق مردوں کو جذباتی قوت کے ساتھ ساتھ جذبات کا اظہار کرنا بھی سکھایا جائے تاکہ وہ حساس اور ہمدرد انسان بنیں۔بیٹوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق، سماجی عدل، اور رواداری کا شعور دیا جائے۔گھر کے مردوں کو عورتوں کے احترام کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ بچوں پر اچھا اثر پڑے۔
صاحبو!اگر مائیں اپنے بیٹوں کی صحیح تربیت کریں گی تو مرد معاشرے میں خواتین کے لیے تحفظ، عزت، اور برابر کے حقوق کے لیے کام کریں گے۔ اس سے گھریلو تشدد، جنسی زیادتی، اور خواتین کے خلاف دیگر ناانصافیوں میں کمی آئے گی۔ نتیجتاً بیٹیاں ایک محفوظ اور خوشحال ماحول میں پروان چڑھیں گی۔آج کے دور میں جہاں خواتین خود مختاری کی طرف بڑھ رہی ہیں، وہاں مردوں کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ مائیں اگر بیٹوں کی تربیت میں سنجیدہ اور مثبت کردار ادا کریں تو وہ ایک ایسا معاشرہ تعمیر کر سکیں گے یہی تربیت ہمارے سماج کی ترقی کی کنجی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ گھر کے بزرگ مردوں کا رویہ بچوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جب بچے اپنے والد، چچا یا دادا کو عورتوں کا احترام کرتے دیکھیں گے تو وہ بھی ایسا ہی سیکھیں گے۔بیٹوں کی صحیح تربیت سے معاشرے میں کئی مثبت تبدیلیاں آتی ہیں، گھریلو تشدد کی شرح میں کمی ہوتی ہے۔ خواتین کی خودمختاری اور تعلیم کو فروغ ملتا ہے۔ خواتین کو کام کرنے اور معاشرتی زندگی میں بھرپور حصہ لینے کا موقع ملتا ہے اور ایک ایسا معاشرہ قائم ہوتا ہے جہاں بیٹیاں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ما¶ں کو بیٹوں کی تربیت میں کئی طرح کی سماجی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی خود معاشرتی بندشیں، رسومات، یا تعلیم کی کمی ما¶ں کی تربیتی کوششوں میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اس لیے حکومت اور سماجی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ما¶ں کو تعلیم اور تربیت کے مواقع فراہم کریں اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگاہی مہمات چلائیں۔
نتھو، پھتواور چوپال کے دوستوجب ہم بیٹی کی حفاظت کی بات کرتے ہیں، تو اکثر غور نہیں کرتے کہ وہ تحفظ کس کے ہاتھ میں ہے؟ بیٹیاں ہمارے گھر کی خوشبو ہیں، وہی جو زندگی میں روشنی اور پیار لاتی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہماری بیٹیاں واقعی محفوظ ہیں؟ اور اگر نہیں، تو ذمہ دار کون ہے؟۔جواب سادہ ہے ، ہم سب، مگر سب سے پہلے مائیں۔مائیں وہ پہلی استاد ہوتی ہیں جو اپنے بیٹوں کے دل میں بیج بوتی ہیں۔ محبت، احترام، اور برداشت کے بیج۔ وہ بیٹے جو کل کے مرد بن کر اپنے گھر کی بیٹیوں، بہنوں، اور بیویوں کا سہارا بنیں گے، آج کی ما¶ں کی تربیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔
صاحبو!جب مائیں اپنے بیٹوں کی زبان، رویے اور سوچ میں یہ تبدیلی لائیں گی تو کل کے وہ مرد معاشرے میں عورتوں کی عزت اور حفاظت کا فریضہ نبھائیں گے۔ پھر کوئی بھی بیٹی خوف کی زنجیروں میں نہیں جکڑی ہوگی، کوئی بیٹی اپنی منزلوں کو چننے سے محروم نہیں رہے گی۔
یہ دنیا ایک عظیم امتحان ہے، اور مائیں اس کی نگہبان ہیں۔ اگر ہم واقعی چاہیں کہ ہماری بیٹیاں محفوظ ہوں، تو ہمیں اپنی تربیت کی روشنی بیٹوں کی زندگی میں ڈالنا ہوگی۔ کیونکہ جب بیٹے اچھے ہوں گے، تبھی بیٹیاں محفوظ رہ سکیں گی۔یاد رکھیے، بیٹی کی حفاظت صرف اس کی ماں کے ہونٹوں کی دعا نہیں بلکہ بیٹے کی تربیت کا ثمر ہے۔۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا!۔