Wed, September 16, 2026

خطہ پوٹھوہار میں بارشیں اور سیلاب....!

خطہ پوٹھوہار میں بارشیں اور سیلاب....!

یوں تو جون کے آخری ہفتے سے ملک میں مون سون بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے شروع ہو ا تو اس میں مون سون کے کچھ بڑے سپیل بھی آئے تاہم 15 جولائی سے 18 جولائی تک کے سپیل نے پورے پنجاب بالخصوص خطہِ پوٹھوہار میں بارش برسنے کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے۔ جمعرات 17 جولائی کو اس سپیل نے اسلام آباد ، راولپنڈی اور نواحی علاقوں اور جہلم اور چکوال وغیرہ میں خوب رنگ جمایا۔ اسلام آباد میں 238 ملی میٹر اور راولپنڈی میں 254 ملی میٹر بارش برسنے کے ریکارڈ قائم ہوئے تو چکوال میں کمال ہی ہو گیا۔ کلاﺅڈ برسٹ (بادل پھٹنے ) کے نتیجے میں وہاں دس گھنٹوں کے دوران 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ جی ہاں 423 ملی میٹر یعنی 42.3 سینٹی میٹر یا 17 انچ بارش۔ بلا شبہ یہ ایک ریکارڈ ہے ۔ ظاہر ہے اتنا بھاری مینہ برسنے کے نتیجے میں نقصانات تو ہونا ہی تھے ۔ چکوال اور تلہ گنگ کے درمیان دھرابی ڈیم کا بند ٹوٹ گیا۔ علاقے میں بنے ہوئے دوسرے کئی چھوٹے بڑے ڈیموں جن میں میرے بھائیوں جیسے پیارے رفیقِ کار ملک ملازم حسین کا اُن کے گاﺅں بھرپور (یہ گاﺅں کلر کہار اور تلہ گنگ کے درمیان ہے) میں اُن کی زرعی زمین پر بنا ہوا ایک بڑا بن یا بند بھی شامل ہے کو بھاری نقصان پہنچا ۔ اس کے ساتھ اسلام آباد، لاہور موٹر وے سمیت دوسری کئی سڑکیں زیرِ آب آ گئیں ، کچے پکے مکانات جہاں منہدم ہوئے وہاں کھیت کھلیان اور فصلیں بھی سیلابی پانی میں ڈوب گئیں۔ لوگ مشکلات کا شکار ہوئے کچھ یہی بلکہ اس سے زیادہ نقصان دہ صورتحال چوا سیدن شاہ جو کوہستانِ نمک کے پہاڑی علاقے میں آباد ضلع چکوال کا ایک بڑا قصبہ میں دیکھنے میں آئی۔ یہاں پہاڑی نالے کا پانی آبادی میں داخل ہو گیا جس سے خوب تباہی مچی تو اسی رینج میں ہندوﺅں کے مقدس مقام کٹاس راج کے تاریخی مندر کو بھی نقصان پہنچا اور وہ بھی پانی میں ڈوب گیا۔ اس کے ساتھ جہلم اور سوہاوہ میں کئی بستیاں اور آبادیاں زیرِ آب آ گئیں اور مکانات اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا۔
چکوال اور نواح کے دیہات و قصبات میں موسلادھار طوفانی بارش کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اپنی جگہ بہت بڑے سمجھے جا سکتے ہیں تاہم راولپنڈی، اسلام آباد اور نواح کے دیہات و قصبات اور آگے دریائے سواں کی گزر گاہ سے ملحقہ علاقوں میں بارش کے ساتھ نالہ لئی میں طغیانی اور دریائے سواں میں اُونچے درجے کے سیلاب کے نتیجے میں جونقصانات ہوئے وہ بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ 
اسلام آباد، راولپنڈی اور نواح کے دیہات و قصبات میں سیلاب کے نتیجے میں نقصانات کی تفصیل نالہ لئی اور دریائے سواں کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کہ یہاں کے زیادہ تر نقصانات نالہ لئی اور دریائے سواں میں آنے والے سیلابوں کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔ جہاں تک نالہ لئی کا تعلق ہے یہ اسلام آباد کے جنوبی سیکٹروں I-9 اور I-10 کے بیچ میں سے بہتا ہوا کٹاریاں کے مقام پر راولپنڈی کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو پھر آگے راولپنڈی شہر کے کئی علاقوں ، محلوں اور آبادیوں کے بیچ میں سے بہتا ہوا راولپنڈی چھاﺅنی کے علاقوں میں داخل ہوتا ہے اور ایوب پارک اور گلستان کالونی کے مشرق سے گزرتا ہوا سواں کے مقام پر دریائے سواں میں شامل ہوتا ہے تو اس کا سیلابی پانی راولپنڈی کے کئی علاقوں میں جہاں نقصانات کا باعث بن چکا ہوتا ہے وہاں وہ دریائے سواں میں شامل ہو کر اُس کے پانی میں بھی کافی بڑا اضافہ کر دیتا ہے۔ صرف نالہ لئی کا پانی ہی راولپنڈی شہر اور چھاﺅنی کے نشیبی علاقوں کی بستیوں ، آبادیوں اور محلوں کو نقصان نہیں پہنچاتا ہے بلکہ اندرونِ شہر کے اس میں آن کر ملنے والے گندے پانی کے نالوں کا پانی بھی ان بستیوں اور آبادیوں کونقصان پہنچانے میں برابر کا حصہ دار ہوتا ہے کہ وہ نالہ لئی میں سیلاب کی وجہ سے آگے بہہ کر جا نہیں سکتا۔ 
جہاں ماضی قریب اور ماضی بعید کے 1992ئ، 2001ءاور غالباً2011ءمیں راولپنڈی میں تباہی پھیلانے والے سیلابوں کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اُس موقع پر راولپنڈی اسلام آباد میں 250 ملی میٹر کے لگ بھگ یا اُس سے کچھ زیادہ بارشیں ہوئیں اور نالہ لئی میں سیلابی کیفیت پیدا ہوئی تو راولپنڈی شہر کے کچھ نشیبی علاقے اس سے بُری طرح متاثر ہوئے ۔ ان نشیبی علاقوں کی تباہی اور بربادی میں اندرونِ شہر سے نالہ لئی میں آکر ملنے والے گندے پانی کے نالوں کے پانی کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ اب 17 جولائی کو اسلام آباد میں 238 ملی میٹر اور راولپنڈی میں 254 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تو اس کی وجہ سے نالہ لئی میں پانی کی سطح 21 فٹ تک بلند ہو گئی جس کی بنا پر نالہ لئی کی گزر گاہ کے ساتھ راولپنڈی شہر و چھاﺅنی کے کئی علاقے بُری طرح متاثر ہوئے کچھ نقصانات بھی ہوئے تاہم اللہ کریم کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ کوئی اتنا بڑا نقصان نہیں ہوا۔ 
 اس خطے کے بڑے دریا یعنی دریائے سواں میںماضی کے سیلابوںاور حالیہ سیلاب کو سامنے رکھیں تو یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ دریائے سواں کے سیلابوں کے حوالے سے یہ پہلو ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے کہ یہ جہاں اپنی گزر گاہ کے قرب و جوار کے آباد دیہات و قصبات کی زمینوں میں کٹاﺅ وغیرہ کا باعث بنتا ہے اُس سے زیادہ یہ دریا ان زمینوں میں جنہیں مقامی زبان میں ”مَل“ کہا جاتا ہے میں زرخیز مٹی کی تہہ بھی بچھا دیتا ہے جس سے ان زمینوں کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے ۔میں 17 جولائی کو دریائے سواں میں سیلاب کے موقع پر اپنے گاﺅں چونترہ جو دریائے سواں کے سیلابوں سے متاثر ہونے والا اس علاقے یا خطے کا سب سے نمایاں قصبہ ہے میں موجود نہیں تھا۔ تاہم اگلے دن میں نے گاﺅں جا کر 17 جولائی کے سیلاب کے نشانات اور نقصانات کا جائزہ لیا۔ بلا شبہ چونترہ کے شمال مشرق اور مشرق میں اس کا پاٹ میلوں میں پھیلا رہا ہے اور مغرب میں بھی کچھ ایسی ہی کیفیت رہی ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں کتنا پانی بہتا رہا ہو گا اس کے مقابلے میں شکر الحمد نقصانات بہت کم ہوئے ۔گاﺅں کے نشیب میں بنے مکانات وغیرہ جہاں کچھ نقصان پہنچا وہاں دریا کی گزر گاہ کے قریب کی زمینوں میں بھی کچھ کٹاﺅ ہوا ہے تاہم اللہ کریم کا لاکھ لاکھ شکر کہ کوئی بڑا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ 
دریائے سواں میں سیلاب کی یہ کیفیت دیکھ کر میرے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے اور اس سے قبل بھی میں اپنے ایک کالم میں اس کا اظہار کر چکا ہوں کہ ہمارے دریائے سواں میں سیلاب کے موقع پر دریا کا پانی جو ہزاروں کیوسک ہو سکتا ہے جب مکھڈ شریف اور کالا باغ کے درمیان دریائے سندھ میں جا کر ملتا ہو گا تو پھر یقینا دریائے سندھ کے پانی میں جو اس موسم میں پہلے ہی 3 لاکھ کیوسک کی مقدار میں بہہ رہا ہے اُس میں مزید اضافہ ہو جاتا ہو گا۔ دیکھنا ہے کہ کیا دریائے سندھ میں بہنے والے اتنے بڑے پانی کو آگے بیراجوں میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی ہے یا نہیں۔ اس وقت تک کی جو صورتحال ہے اُس میں کالا باغ سے نیچے چشمہ بیراج ہو ، تونسہ بیراج ہو یا گدو بیراج ہو یا پھر کوٹڑی بیراج ہو ان میں مزید پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود نہیں کہ3 لاکھ کیوسک کے لگ بھگ پانی ان بیراجوں میں آکر داخل ہو رہا ہے تواتنا ہی پانی ان سے نکل کرآگے دریائے سندھ میں بہتا چلا جا رہا ہے۔ کیا کوئی اس کی طرف دھیان دے گا کہ دریائے سندھ میں سیلابی موسموں میں بہہ کر آنے والے پانی کی اتنی بڑی مقدار کو ذخیرہ کرنے کا بندوبست کیا جا سکتا ہے یا پھر یہ پانی سندھ کے میدانی علاقوں سے بہتے ہوئے پہلے کی طرح سمندر بُر د ہوتا رہے گا۔

ٹیگز: