باکو آمد کا اصل مقصد آذربائیجان یونیورسٹی میں ایک علمی کانفرنس میں شرکت کرنا تھا۔ میں کانفرنس سے دو دن پہلے باکو پہنچ گئی تھی۔ یہ دو دن میں نے کچھ ملاقاتوں اور سیر و تفریح میں گزارے۔ جس دن مجھے کانفرنس میں شریک ہونا تھا، میں علی الصبح بیدار ہوئی۔ تیار ہونے کے بعد، اپنے تحقیقی مضمون کے اہم نکات پر نگاہ ڈالی۔ اگرچہ میرا ہوٹل یونیورسٹی کے بالکل قریب تھا، تاہم راستے سے ناواقفیت کی وجہ سے میں نے ٹیکسی لی اور یونیورسٹی جا پہنچی۔ یہاں ڈاکٹر لطیفہہ سے ملاقات ہوئی۔ میرا کئی برس سے ان کیساتھ ای۔میل کے ذریعے رابطہ ہے۔ یہ ہماری پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔ وہ نہایت گرمجوشی سے ملیں۔ دیگر اساتذہ سے میرا تعارف کرایا۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب ایک بڑے ہال میں منعقد ہوئی۔ ہال ملکی اور غیر ملکی مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ قومی ترانے سے تقریب کا آغاز ہوا۔ پھر جنگ میں جاں بحق ہونے والے آذربائیجانی فوجیوں کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ان جنگی ہیروز کی شان میں ایک نغمہ سکرین پر دکھایا گیا۔ جامعہ کی خاتون ریکٹر نے اپنی تقریر میں فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔ اپنے بانی قومی راہنما حیدر علی یوف کا ذکر کیا۔ جو 1993 سے 2003 تک آذربائیجان کے صدر رہے ہیں۔ برسبیل تذکرہ اس کانفرنس کا باقاعدہ آغاز منتظمین اور حاضرین نے اپنے قومی راہنما کی قبر پر حاضری سے کیا تھا۔ ریکٹر نے حیدر علیوف کے بیٹے اور موجود صدر آذربائیجان الہام علی یوف کی بھی تعریف کی۔ الہام علییوف کو آرمینیا کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد ملک میں خاصی مقبولیت حاصل ہے۔ یہ باتیں سن کر میرا ذہن ترکی کی طرف چلا گیا۔ آزر بائیجان ہی کی طرح وہاں بھی تعلیمی اداروں سے لے کر شاپنگ مالوں اور تفریحی مقامات تک، ترکی کا جھنڈا دکھائی دیتا ہے۔ اتاترک کی تصویر اور تذکرہ بھی ملتا ہے۔ مجھے خیال آیا کہ ہم تو اپنے ہیروز کو بھول ہی گئے ہیں۔ ذہن پر زور ڈال کر بتائیں کہ کیا کسی علمی تقریب یا اجتماع میں ہمیں قائد اعظم یا علامہ اقبال کا ذکر سننے کو ملتا ہے؟ ہم تو انہیں، ان کی خدمات اور تعلیمات کو بھلا چکے ہیں۔ پچھلے چند سال میں یہاں ایک ایسا گروہ تیار ہو چکا ہے جو کھلے عام یہ کہتا پھرتا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم غلط تھی۔ اور پاکستان کا قیام بھی۔ اس بات پر بھی غور کیجئے کہ کیا آپ نے کسی علمی اجتماع میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے تناظر میں کبھی ذوالفقار علی بھٹو یا میاں نواز شریف کا ذکر سنا ہے؟ اپنے ملک کو حاصل اس اعزاز کا تذکرہ کرتے تو ہم پر سیاسی بغض طاری ہو جاتا ہے۔
لیڈی ریکٹر نے ابتدائی تقریر انگریزی زبان میں کی۔ اس کے بعد حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ اب میں آذربائیجانی زبان میں بات کروں گی۔ اس کے بعد باقی تقریر اپنی زبان میں کی۔ ایک مرتبہ پھر مجھے احساس ہوا کہ کسی زبان یا بولی سے ناواقف ہونا ابلاغ کی کتنی بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں ہم بھی اپنی قومی زبان اردو کے نفاذ کی بات کرتے ہیں۔ جو یقینا ایک آئینی تقاضا ہے۔ تاہم اس آئینی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے ہمیں انگریزی سے منہ نہیں موڑنا چاہیے۔ بہرحال یہ ایک بین الاقوامی زبان ہے۔ اس وقت مجھے یہ خیال بھی آیا کہ انگریزی سے ناواقفیت کی وجہ سے یہ لوگ اپنی زبان میں بات کرتے نہیں جھجکتے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں انگریزی کو احساس کمتری اور احساس برتری کا معاملہ بنا دیا گیا ہے۔ بہرحال جن مقررین نے آذربائیجانی زبان میں بات کی۔ ان کو سننے اور سمجھنے کے لیے کانفرنس منتظمین نے ہمیں ہیڈ فون تھما رکھے تھے۔ ایک مترجم فی بدیہہ انگریزی ترجمہ کر رہا تھا۔ افتتاحی تقریب میں آذربائیجان کے سائنس اور ہائر ایجوکیشن پالیسی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہان اور اراکین پارلیمان موجود تھے۔ یہ سن کر اچھا لگا کہ وہاں بھی تحقیقی مضامین کی تعداد اور معیار کی بحث موجود ہے۔ خاتون ریکٹر نے فخریہ بتایا کہ ہماری جامعہ میں مقالوں کی اشاعت کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تعداد کے بجائے معیار پر توجہ دیں۔
کانفرنس میں مجھے ایک سیشن کی صدارت بھی کرنا تھی۔ میرے سیشن میں یورپی اور ایشیائی پروفیسر اور سکالروں نے اپنے مقالے پیش کیے۔ راولپنڈی سے ایک پاکستانی پروفیسر نے بھی آن لائن اپنا مضمون پڑھا۔ ایک نوجوان آذربائیجانی طالبہ بھی سیشن میں موجود تھی، جو حد درجہ گھبراہٹ کا شکار تھی۔ وہ اپنے ہاتھ میں تھامے کاغذات کو رٹہ لگاتے بار بار اپنے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کرتی۔ یہ اس کی زندگی کی پہلی پریزنٹیشن تھی۔ میں نے اسے تسلی دی کہ گھبرانے کی بات نہیں۔ ٹیک اٹ ایزی۔ میرا تحقیقی مضمون پاکستانی خواتین کے حوالے سے تھا۔ میں نے اپنے مضمون کا آغاز پاکستانی خواتین کے کردار سے کیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کا ذکر کیا ، جنہوں نے ساٹھ کی دہائی میں سیاسی جدوجہد کی تھی۔ ایک فوجی ڈکٹیٹر کے کو للکارا اور اس کے خلاف صدارتی انتخاب لڑا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا ذکر کیا جو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون سربراہ حکومت تھیں۔ مریم نواز شریف کا حوالہ دیا جو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ ہیں۔ صحافت، سیاست، تعلیم اور دیگر غیر روائتی شعبوں کا حوالہ دیا، جہاں خواتین کافی متحرک ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ ایسی باتیں ملک سے باہر دلچسپی سے سنی جاتی ہیں۔ یقینا اس سے ہمارے ملک کا ایک روشن چہرہ لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتا ہے۔ ایک ترک پروفیسر نے اپنے مقالے میں ترکی میں ہونے والی خواتین کی جبری شادیوں اور آنر کلنگ کا احاطہ کیا۔ میرے لیے یہ معلومات بالکل نئی تھیں اور حیران کن بھی۔ پاکستان واپس آنے کے بعد میں نے اس ضمن میں تحقیق کی تو حیرت کا ایک نیا باب کھل گیا۔ بہرحال یہ تسلی بھی ہوئی کہ چلو ہم اکیلے نہیں، ہمار ے ساتھ ساتھ یہ ملک بھی ایسے گمبھیر مسائل کا شکار ہیں۔
کھانے کے وقفے میں سب حاضرین یونیورسٹی کیفے ٹیریا میں اکھٹے ہوتے۔ قطار میں لگ کر کھانے کا ٹرے لیتے اور کھانا کھاتے۔ مجھے آذربائیجان کے کھانے اچھے لگے۔ یہ ہمارے پاکستانی کھانوں سے بھی ملتے جلتے ہیں۔ پاکستان میں ہم قیمہ بھرے کریلے کھاتے ہیں۔ تاہم یہاں قیمہ بھرے ٹماٹر، قیمہ بھرے بینگن اور انگور کے پتوں میں لپیٹا قیمہ کھانے کو ملا۔ پالک والے اور قیمے والے باریک پراٹھے بھی۔ خوش ذائقہ اور خوش شکل سلاد۔ انواع و اقسام کے میٹھے جن کے نام مجھے معلوم نہیں۔ دو تین دن یہ بھاگ دوڑ رہی۔ مختلف ملکوں کے پروفیسروں اور طالب علموں سے ملتے، باتیں کرتے، واٹس ایپ نمبروں کا تبادلہ کرتے، تصاویر کھنچواتے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔
اختتامی تقریب میں ایک مرتبہ پھر سب حاضرین بڑے ہال میں جمع ہوئے۔ اس تقریب میں صرف خاتون ریکٹر کو خطاب کرنا تھا۔ انہوں نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور اپنے رضاکار طالب علموں کی تعریف کی جنہوں نے کانفرنس کے انتظامی امور میں معاونت فراہم کی۔ کچھ اہم اعلانات بھی کیے۔ میرے لیے یہ نہایت اعزاز کی بات ہے کہ تمام غیر ملکی مہمانوں کی نمائندگی کیلئے مجھے بھی تقریر کا موقع دیا گیا۔ یہ سب بالکل غیر متوقع تھا۔ میں نے سٹیج پر آ کر مائیک سنبھالا۔ سب غیر ملکیوں کی طرف سے کانفرنس کے شاندار انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔ عمدہ مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ پھر میں نے خاتون ریکٹر سے مخاطب ہو کر عرض کیا کہ مجھے نہایت خوشی ہے کہ آپ نے مجھے تمام حاضرین کے سامنے بات کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ میں سب کے سامنے پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے آذربائیجان کا شکریہ ادا کرتی ہوں جس نے حالیہ پاک بھارت تنازع میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی غیر مشروط حمایت اور امداد کی ہے۔ اس حمایت کیلئے پاکستان آپ کا بے حد شکر گزار ہے۔ خاتون ریکٹر فوراً بولیں کہ یہ جذبات دو طرفہ ہیں۔ ہم بھی پاکستان کے شکر گزار ہیں اور احسان مند بھی جس نے آرمینیا کے مسئلے میں ہمیشہ آذر بائیجان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان اور آذربائیجان دونوں برادر ممالک ہیں۔ ریکٹر کی اس بات پر ہال میں تالیاں بجنے لگیں۔ ا س طرح یہ عمدہ کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔